اشاعتیں

‎کتاب ‏النکاح لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

نکاح کے موقع پر سہرا پڑھنا

سوال : مفتی صاحب ! نکاح سے پہلے جو سہرا پڑھا جاتا ہے وہ پڑھنا بظاہر اچھا لگتا ہے، الفاظ میں کوئی غلط بات نظر نہیں آتی، کیا اس کی گنجائش ہوسکتی ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔ (المستفتی : حافظ افتخار، مالیگاؤں) ----------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : نکاح کے موقع پر گھر پر شرعی حدود میں رہتے ہوئے چند اشعار پڑھ دینا جائز ہے۔ لیکن ہمارے یہاں جو سہرا پڑھا جاتا ہے اس میں متعدد قباحتیں ہوتی ہیں جو درج ذیل ہیں۔ ایک تو یہ کہ لاؤڈ-اسپیکر لگاکر تقریباً ایک گھنٹے تک سہرا پڑھا جاتا ہے اور پوری گلی بلکہ محلے والوں کی ناک میں دم کردیا جاتا ہے جو بلاشبہ ایذائے مسلم میں داخل ہونے کی وجہ سے ناجائز اور گناہ کی بات ہے۔ دوسرے یہ کہ جب سہرا پڑھا جاتا ہے اس وقت مرد وزن کا اختلاط ہوتا ہے، جن لوگوں کا نام سہرے میں آتا ہے بالخصوص خواتین بے پردگی کے ساتھ مجمع میں پہنچ کر سہرا پڑھنے والے کو رقم دیتی ہیں، لہٰذا بے پردگی کی وجہ سے بھی عمل ناجائز ہے۔ تیسرے اس سہرا پڑھنے کی وجہ سے نکاح کے متعینہ وقت میں کافی تاخیر ہوتی ہے جو وعدہ خلافی اور شرعاً گناہ کی بات ہے۔ دارالعلوم د...

حیض کی حالت میں صحبت کرلے تو؟

سوال : مفتی صاحب! سوال یہ ہے کہ زید نے نا دانستہ طور پر حالت حیض میں بیوی سے ہمبستری کرلی ہے، کفارے کی کیا شکل ہوگی؟ رہنمائی فرمائیں۔ (المستفتی : عبداللہ، مالیگاؤں)  ------------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : حالتِ حیض میں جماع کرنا قرآن وسنت کی رو سے حرام اور گناہِ کبیرہ ہے۔ لہٰذا ایسا کرنے والے پر توبہ واستغفار لازم ہے۔ قصداً ایسا کرنے والے پر مستحب ہے کہ ایک دینار =۴؍گرام ۳۷۴؍ملی گرام سونا یا اس کی قیمت، یا آدھا دینار =۲؍گرام ۱۸۷؍ ملی گرام سونا یا اس کی قیمت صدقہ کرے، فرض اور واجب نہیں۔ صرف توبہ و استغفار پر بھی اکتفا کرے تو  کافی ہوگا۔ یعنی جب قصداً ہوجائے تب بھی کفارہ ادا کرنا واجب نہیں ہوتا بلکہ صرف مستحب یعنی بہتر ہوتا ہے۔ توبہ و استغفار لازم ہوتا ہے۔ صورتِ مسئولہ میں چونکہ لاعلمی میں یہ عمل ہوا ہے تو اس صورت میں کوئی گناہ بھی نہیں ہے۔ تاہم توبہ و استغفار کرلینا چاہیے اور آئندہ خوب خیال رکھنا چاہیے۔ قال اللّٰہ تعالیٰ : وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَ...

بیوی، بہن یا ماں کا نام ایک ہی ہوتو؟

سوال : بیوی اور بہن کا نام ایک ہی ہو تو کیا بیوی کا نام تبدیل کر دینا چاہیے؟ زید کی شادی فاطمہ نام کی لڑکی سے ہوئی اور زید کی سگی بہن کا نام بھی فاطمہ ہے زید کے گھر والے اسکی بیوی کا نام تبدیل کرنا چاہتے ہیں، کیا بیوی اور بہن یا والدہ وغیرہ کا ایک ہی نام ہو تو نام تبدیل کرنا چاہیے یا نہیں؟  (المستفتی : صغیر احمد، پونے)  ------------------------------------------  بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : والدہ یا بہن کے جیسا ہی نام بیوی کا بھی ہوتو شرعاً اس میں کوئی قباحت کی بات نہیں ہے، خود آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی ایک صاحبزادی اور دو بیویوں کا نام زینب تھا۔  صورتِ مسئولہ میں اگر زید کی ہونے والی بیوی اور اس کی بہن کا نام ایک ہی تو اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے، لہٰذا زید کی ہونے والی بیوی کا نام تبدیل کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔ ہاں پہچان کے لیے نام کے ساتھ کسی لفظ کا اضافہ کرلے تو الگ بات ہے۔ (وَأَمَّا رُكْنُهُ) فَالْإِيجَابُ وَالْقَبُولُ، كَذَا فِي الْكَافِي۔ (الفتاویٰ الہندیۃ : ١/٢٦٧)فقط  واللہ تعالٰی اعلم  محمد عامر عثمانی  05 صفر ال...

شوہر مہر واپس مانگ لے تو نکاح کا حکم

سوال : اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے مہر کی رقم مانگ کر واپس لے لے تو اس سے نکاح پر کوئی اثر پڑے گا یا نہیں؟ رہنمائی کی درخواست ہے۔ (المستفتی : فہیم ابراہیم، مالیگاؤں) -------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : اللہ تعالیٰ نے نکاح میں مقرر کردہ مہر کو خوش دلی سے ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا اگر کوئی مرد بیوی کو مہر ادا کردینے کے بعد بوقت ضرورت اسے مانگ لے اور بیوی خوش دلی سے اسے یہ رقم دے دے تو شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :  وَآتُوْا النِّسَآئَ صَدُقٰتِہِنَّ نِحْلَۃً، فَاِنْ طِبْنَ لَکُمْ عَنْ شَیْئٍ مِنْہُ نَفْسًا فَکُلُوْہُ ہَنِیْئًا مَرِیْئًا۔ (سورۃ النساء، آیت : ۴)  ترجمہ : اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے د یا کرو۔ ہاں ! اگر وہ خود اس کا کچھ حصہ خوش دلی سے چھوڑ دیں تو اسے خوشگواری اور مزے سے کھالو۔  البتہ اگر شوہر جبراً بیوی سے مہر کی رقم لے لے یا شوہر ایسے حالات بنادے کہ بیوی کو مجبوراً مہر کی رقم واپس کرنا پڑے تو ایسی صورت میں شوہر گناہ گار ہوگا، اور اس پر لازم ہوگا کہ وہ اتنی رقم بیوی کو وا...

جہیز کے لین دین کا شرعی حکم

*جہیز کے لین دین کا شرعی حکم* سوال : مفتی صاحب! یہ ایک کتاب کا عکس  ہے۔ جس میں جہیز کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے کہ جہیز مرضی سے ہو یا بغیر مرضی کے دینا حرام ہے۔ پہلا سوال یہ ہے کہ جہیز لینا حرام ہے ؟ یا دینا حرام ہے؟ یا دونوں حرام ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر والدین یا کوئی بھی شخص  اپنی رضا ورغبت سے بغیر شوہر کے مطالبے کے جہیز کے نام پر یا ھدیہ کے طور پر کوئی چیز دلہن کو دیتا ہے تو اس کا دینا اور دلہن کا لینا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا وتوجروا (المستفتی : امتیاز ابن اقبال، مالیگاؤں) ------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : بیٹی کی شادی کے وقت والدین اپنی بیٹی کو سامان وغیرہ دیتے ہیں جو اسی کی ملکیت شمار کیا جاتا ہے، اسے عُرف میں جہیز کہا جاتا ہے جس کا لین دین اصلاً جائز ہے، اسے مطلقاً حرام کہنا بلادلیل ہے، ایسا مسئلہ بیان کرنے والے کو اپنے قول پر نظر کرنے کی ضرورت ہے۔ دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ ہے: جہیز در حقیقت اپنی اولاد کے ساتھ صلہ رحمی ہے جو فی نفسہ مباح ہے، اگر شادی کے موقع پر لڑکی والے لڑکی کو اپنی حیثیت کے مطابق بہ طور جہیز کچھ سامان...