اشاعتیں

روایت "اللہ کے راستے کی دعا بنی اسرائیل کے انبیاء کی دعا طرح قبول ہوتی ہیں" کی تحقیق

سوال : محترم مفتی صاحب! اکثر تبلیغی جماعت اور دینی کام سے وابستہ بعض ساتھیوں سے یہ بات سننے میں آتی ہے کہ "اللہ کے راستے میں نکلنے والوں کی دعائیں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کے انبیاء علیہم السلام کی دعاؤں کی طرح قبول فرماتے ہیں" یا یہ کہ "جماعت میں نکلنے والے کی دعا خاص طور پر قبول ہوتی ہے۔" حضرت سے گزارش ہے کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس بات کی وضاحت فرمائیں کہ آیا اس مضمون کی کوئی صحیح اور معتبر دلیل موجود ہے یا نہیں؟ نیز اگر اس بارے میں کوئی حدیث یا شرعی اصل ہو تو اس کی بھی رہنمائی فرمائیں، اور اگر یہ بات درست نہ ہو تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ (المستفتی : حافظ انس، مالیگاؤں) ----------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : تبلیغی جماعت میں نکل کر سفر کرنا لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے کی محنت کرنا یہ فی سبیل اللہ اور اللہ کے راستے میں داخل ہے اور حدیث شریف میں آیا ہے کہ مسافر کی دعا قبول ہوتی ہے، اب اگر یہ سفر دین کی بنیاد پر ہوتو ایک عام دنیاوی غرض کے مسافر کی بہ نسبت اس کی دعا بدرجہ اولی قبول ہوگی، لیکن سوال نامہ میں جو ...

نکاح کے موقع پر سہرا پڑھنا

سوال : مفتی صاحب ! نکاح سے پہلے جو سہرا پڑھا جاتا ہے وہ پڑھنا بظاہر اچھا لگتا ہے، الفاظ میں کوئی غلط بات نظر نہیں آتی، کیا اس کی گنجائش ہوسکتی ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔ (المستفتی : حافظ افتخار، مالیگاؤں) ----------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : نکاح کے موقع پر گھر پر شرعی حدود میں رہتے ہوئے چند اشعار پڑھ دینا جائز ہے۔ لیکن ہمارے یہاں جو سہرا پڑھا جاتا ہے اس میں متعدد قباحتیں ہوتی ہیں جو درج ذیل ہیں۔ ایک تو یہ کہ لاؤڈ-اسپیکر لگاکر تقریباً ایک گھنٹے تک سہرا پڑھا جاتا ہے اور پوری گلی بلکہ محلے والوں کی ناک میں دم کردیا جاتا ہے جو بلاشبہ ایذائے مسلم میں داخل ہونے کی وجہ سے ناجائز اور گناہ کی بات ہے۔ دوسرے یہ کہ جب سہرا پڑھا جاتا ہے اس وقت مرد وزن کا اختلاط ہوتا ہے، جن لوگوں کا نام سہرے میں آتا ہے بالخصوص خواتین بے پردگی کے ساتھ مجمع میں پہنچ کر سہرا پڑھنے والے کو رقم دیتی ہیں، لہٰذا بے پردگی کی وجہ سے بھی عمل ناجائز ہے۔ تیسرے اس سہرا پڑھنے کی وجہ سے نکاح کے متعینہ وقت میں کافی تاخیر ہوتی ہے جو وعدہ خلافی اور شرعاً گناہ کی بات ہے۔ دارالعلوم د...

معلمات کے ساتھ سوتیلا سلوک کیوں؟

✍️ مفتی محمد عامر عثمانی ملی    (امام وخطیب مسجد کوہ نور) قارئین کرام! شہر عزیز مالیگاؤں میں بچے اور بچی دونوں کے لیے دینی بنیادی تعلیم کے ساتھ دینی اعلی تعلیم کا معیاری نظام الحمدللہ بہت بڑے پیمانے پر قائم ہے جو آپ کو دیگر علاقوں میں دیکھنے کو نہیں ملے گا۔ ان اداروں میں اپنی بے لوث خدمات انجام دینے والے مرد حضرات کے ساتھ بڑی تعداد خواتین کی ہے جو عالمات اور حافظات ہوتی ہیں۔ یہ معلمات پابندئ وقت، بلاناغہ اور بڑی جانفشانی کے ساتھ دینی خدمات انجام دیتی ہیں، لیکن انتہائی حیرت ناک بلکہ افسوس ناک اور شرمناک بات یہ ہے کہ ان کی تنخواہیں معلمین کی بہ نسبت نصف ہوتی ہیں، جبکہ ان کی پابندی، حاضری اور کارکردگی معلمین سے کم نہیں ہوتی،  ایک شفٹ میں دو گھنٹے پڑھانے والے معلمین کی ماہانہ تنخواہ فی الحال دو تین ہزار ہے تو معلمات کی تنخواہ ہزار اور پندرہ سو ہی رہتی ہے، جبکہ یہ مرد حضرات سے زیادہ قربانی دے کر مدرسہ پہنچتی ہیں، اس لیے کہ ان کے پیچھے گھریلو کام کاج اور بچوں کی ذمہ داری بھی ہوتی ہے جبکہ مرد حضرات اس سے مستثنٰی ہوتے ہیں۔ ان میں سے بہت ساری معلمات مطلقہ یا بیوہ ہوتی ہیں جو اکیلے...

اتی کرمن مخالف مہم

کیا پھر بے فائدہ ثابت ہوگی؟   ✍️ مفتی محمد عامرعثمانی ملی  (امام و خطیب مسجد کوہ نور) قارئین کرام ! ہر سال کی طرح امسال بھی شہر عزیز مالیگاؤں میں اتی کرمن ہٹاؤ مہم دو تین ہفتوں سے جاری ہے۔ اس مرتبہ خاص بات یہ ہے کہ انتظامیہ کو حرکت میں لانے کا کام شہر کی تمام سیاسی جماعتوں بالخصوص بر سراقتدار نے کیا ہے، اس میں ایک سیاسی لیڈر کا نام بہت زیادہ چرچا میں ہے کہ ان کی ذاتی دلچسپی سے یہ مہم بڑے پیمانے پر چلائی جارہی ہے، بلاشبہ یہ انتہائی اہم اور پورے شہر کے لیے مفید مہم ہے، اس کی حوصلہ افزائی کرنا ہم اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں اور کچھ سنجیدہ، فکرانگیز اور مفید باتیں اتی کرمن کرنے والوں اور انتظامیہ و بر سراقتدار سے اس مضمون اور سوشل میڈیا کے ذریعے کرنا چاہتے ہیں، اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین  محترم قارئین ! متاثرین یعنی جن لوگوں نے سڑکوں پر اتی کرمن کر رکھا ہے ان تمام افراد سے مؤدبانہ، مخلصانہ اور عاجزانہ درخواست ہے کہ آپ اس حقیقت کو بہرحال تسلیم کرلیں کہ اتی کرمن اور سڑکوں پر قبضہ کرلینا شرعاً ناجائز اور گناہ کی بات ہے۔ اور اگر اس سے راستہ چ...

ایسے رکشہ پر نہ بیٹھیں

✍️ مفتی محمد عامر عثمانی ملی     (امام وخطیب مسجد کوہ نور)  قارئین کرام ! شہر عزیز مالیگاؤں اپنی دینی شناخت کی وجہ سے دور دور تک مشہور ہے، یہاں کی خواتین اپنے پردہ کی وجہ سے احترام کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں، یہ پردہ نشین خواتین اگر کسی ضرورت کے تحت گھر سے باہر نکلتی ہیں اور انہیں کہیں جانا ہوتو یہ اپنے محرم مردوں کے ساتھ بائک پر چلی جاتی ہیں، لیکن اگر یہ ایک سے زائد ہوں تو پھر انہیں سواری کے لیے رکشہ کی ضرورت پڑتی ہے جو ہمارے یہاں بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ضرورت سے زیادہ رکشہ ہیں جس کی وجہ سے سڑکوں پر ٹرافک کا نظام بھی درہم برہم ہوتا رہتا ہے۔ فی الحال ہمارا موضوع یہ ہے کہ خواتین بڑی تعداد میں سواری کے لیے رکشہ کا اہتمام کرتی ہیں، لیکن دیکھنے اور سننے میں آرہا ہے کہ بعض ہمارے رکشہ والے ایسے ہیں جنہوں نے اپنے رکشہ کو باقاعدہ اسٹوڈیو کی شکل دے دی ہے جس میں انتہائی تیز آواز اور دھمک کے ساتھ میوزک اور گانے بجتے اور لائٹس جلتی اور بند ہوتی ہیں۔ یہ رکشے والے انتہائی لا ابالی اور غافل قسم کے ہوتے ہیں، تیز آواز سے گانے بجاتے ہوئے عام راستوں کے ساتھ سات...

بیٹی کی پیدائش پر اللہ کا اس کے باپ کا بازو بننا؟

سوال : محترم مفتی صاحب! ایک بات یہ بھی سننے میں آئی ہے جب بیٹا پیدا ہوتا ہے تو اللہ تعالٰی اسے باپ کا بازو بناتے ہیں اور اگر بیٹی پیدا ہوتی ہی تو اللہ تعالٰی خود باپ کا بازو بن جاتے ہیں۔ اس کی کیا حقیقت ہے؟ (المستفتی : وصی احمد، مالیگاؤں) ----------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : بیٹی کی پیدائش بلاشبہ باعث خیر وبرکت ہے بشرطیکہ اس کی اچھی تعلیم وتربیت کی جائے۔ لیکن آپ نے جس روایت سے متعلق سوال کیا ہے وہ معتبر نہیں ہے شیخ مازن بحصلی (ابو معاویہ البیرونی) نے اسے بے اصل لکھا ہے، لہٰذا اس کا بیان کرنا درست نہیں ہے۔ إن الله ينفخ في الولد فيقول له:اذهب فأنت عون لأبيك؛ وينفخ في البنت فيقول لها: اذهبي وأنا عون لأبيك”. تحقیق : قال أبومعاوية البيروتي : يُذكَر عند ولادة البنت، ولا أصل له۔فقط  واللہ تعالٰی اعلم  محمد عامر عثمانی ملی  25 شوال المکرم 1447 

پاکی کے غسل کے لیے نیت کرنا

سوال : مفتی صاحب! کیا حیض اور ناپاکی سے غسل کے لیے نیت کرنا ضروری ہے؟ اگر نیت نہیں کی تو غسل ادا نہیں ہوگا؟ اور عبادت ادا نہیں ہوگی؟ رہنمائی فرمائیں شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔ (المستفتی : محمد نعمان، مالیگاؤں)  ----------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : ناپاکی خواہ حیض یا نفاس کی ہو یا پھر جنابت کی۔ اس سے پاکی حاصل کرنے کے لیے غسل کے فرائض کا ادا ہونا ضروری ہے۔ اور غسل کے فرائض میں نیت کرنا نہیں ہے۔ بغیر نیت کے بھی غسل درست ہوجاتا ہے۔ دارالعلوم دیوبند کا فتوی ہے :  بلا نیت صرف فرائض غسل ادا کرلینے سے بھی غسل ہوجاتا ہے، ہاں جنابت سے پاکی کی نیت بھی کرلے تو اچھا ہے۔ (رقم الفتوی : 12019)  معلوم ہوا کہ بغیر نیت کے غسل درست ہوجاتا ہے اور ناپاک شخص پاک ہوجاتا ہے، لہٰذا جو کہتا ہے کہ نیت کے بغیر غسل ادا نہیں ہوتا اور نہ ہی عبادت ادا ہوتی، اس کا قول درست نہیں ہے۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ غسل کے وقت ناپاکی سے پاک ہونے کی نیت کرلی جائے۔ يُسَنُّ أَنْ يَبْدَأَ بِالنِّيَّةِ بِقَلْبِهِ وَيَقُولَ بِلِسَانِهِ نَوَيْت الْغُسْلَ لِرَفْ...