ایسے رکشہ پر نہ بیٹھیں
✍️ مفتی محمد عامر عثمانی ملی (امام وخطیب مسجد کوہ نور) قارئین کرام ! شہر عزیز مالیگاؤں اپنی دینی شناخت کی وجہ سے دور دور تک مشہور ہے، یہاں کی خواتین اپنے پردہ کی وجہ سے احترام کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں، یہ پردہ نشین خواتین اگر کسی ضرورت کے تحت گھر سے باہر نکلتی ہیں اور انہیں کہیں جانا ہوتو یہ اپنے محرم مردوں کے ساتھ بائک پر چلی جاتی ہیں، لیکن اگر یہ ایک سے زائد ہوں تو پھر انہیں سواری کے لیے رکشہ کی ضرورت پڑتی ہے جو ہمارے یہاں بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ضرورت سے زیادہ رکشہ ہیں جس کی وجہ سے سڑکوں پر ٹرافک کا نظام بھی درہم برہم ہوتا رہتا ہے۔ فی الحال ہمارا موضوع یہ ہے کہ خواتین بڑی تعداد میں سواری کے لیے رکشہ کا اہتمام کرتی ہیں، لیکن دیکھنے اور سننے میں آرہا ہے کہ بعض ہمارے رکشہ والے ایسے ہیں جنہوں نے اپنے رکشہ کو باقاعدہ اسٹوڈیو کی شکل دے دی ہے جس میں انتہائی تیز آواز اور دھمک کے ساتھ میوزک اور گانے بجتے اور لائٹس جلتی اور بند ہوتی ہیں۔ یہ رکشے والے انتہائی لا ابالی اور غافل قسم کے ہوتے ہیں، تیز آواز سے گانے بجاتے ہوئے عام راستوں کے ساتھ سات...