وضو میں کان اور گردن کے مسح کی حیثیت
سوال : مفتی صاحب! آپ سے گذارش ہے کہ وضو میں کان اور گردن کے مسح کے تعلق سے قرآن حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں کہ گردن اور کان کا مسح کی کیا حیثیت ہے؟ اللہ آپ کو بہترین جزائے خیر دے۔ آمین (المستفتی : محمد شاکر، مالیگاؤں) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : وضو میں کانوں کا مسح کرنا بالاتفاق سنت ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے، جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں کان کے اندرونی حصے کا مسح شہادت کی انگلیوں سے کیا، اور ان کے مقابل اپنے دونوں انگوٹھوں کو کانوں کے اوپری حصے پر پھیرا، اس طرح کان کے اندرونی اور اوپری دونوں حصوں کا مسح کیا۔ (ابن ماجہ) گردن (گردن کے پچھلا حصہ جسے گدی کہا جاتا ہے) کے مسح کے بارے میں چند روایات آئی ہیں جن میں موقوف روایات کے علاوہ مرفوع روایات بھی ہیں۔ یہ روایات اگرچہ ضعیف ہیں لیکن فضائل اعمال میں ضعیف احادیث سے استدلال جائز ہے اس پر تمام علمائے اہل سنت والجماعت کا اتفاق ہے۔ اور ضعیف حدیث پر عمل کرنا بہتر ہے اس سے کہ اُس عمل کا ان...