اشاعتیں

کیا اپنے بچوں کو بوسہ نہ لینے والا جہنمی ہے؟

سوال : مفتی صاحب! کیا درج ذیل روایت درست ہے؟ ہنمائی فرمائیں۔ ایک شخص نے حضور صلی اسلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میں نے اپنی اولاد کا کبھی بوسہ نہیں لیا جب وہ چلا گیا تو رسول ملی اسلام نے فرمایا میرے نزدیک یہ شخص جہنمی ہے، جہنمی ہے۔ رسول خدا فرماتے ہیں جو شخص اپنے بچے کا بوسہ لیتا ہے اللہ تعالی ایک نیکی اس کے نامہ اعمال میں لکھتا ہے اور جو شخص اپنے بچے کو خوش کرتا ہے اور اسے قرآن مجید پڑھاتا ہے قیامت کے دن یہ شخص اور اس کے بچے کے ماں باپ دونوں بلائے جائیں گے اور دو قیمتی لباس ان کو پہنائے جائیں گے کہ ان کے نور سے اہل جنت کے چہرے بھی نورانی ہو جائیں گے۔ (المستفتی : لئیق احمد، مالیگاؤں)  ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : بچوں کو پیار کرنا، انہیں گلے لگانا اور ان کا بوسہ لینا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت اور رحم دلی کی علامت ہے جیسا کہ درج ذیل احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ اعرابی لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا تم اپنے بچوں کو بوسہ دیتے...

بلوور مشین کے ذریعے لوگوں پر دھول اڑانا

سوال : محترم مفتی صاحب! انتہائی ادب کے ساتھ ایک سوال عرض ہے کہ آجکل ایک مشین blower کا استعمال اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ ہر دکاندار اسے استعمال کرتا ہے اور بے دریغ، بنا سوچے سمجھے استعمال کرتا ہے، وہ یہ نہیں دیکھتا کہ اس سے اڑنے والی دھول کی زد میں لوگ آ رہے ہیں، راستے کے کنارے چلنی والی خواتین، اسکولی بچیاں، چھوٹے بچے جو کنارے کنارے چلتے ہیں بزرگ افراد، یا پھر ایک عام راہ گیر.... کوئی بھی شخص / فرد اس بلوور سے اڑنے والی دھول سے بچ کر نکل نہیں سکتا، اور دکاندار، اس بات سے واقف ہوتا ہے کہ میں کیا کررہا ہوں۔ اب تو اکثر منہ پر ماسک (کپڑا) لگا کر اپنی دکان اور آس پاس کی دھول بنداس دوسروں پر اڑاتے ہیں۔ کئی جگہوں پر اسی بنیاد پر بڑے بڑے جھگڑے بھی ہو چکے ہیں۔ کیا اس طرح کا عمل کرنا انسانوں کے لیے ایذا رسانی سبب نہیں ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔ (المستفتی : عمران الحسن، مالیگاؤں) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : صورتِ مسئولہ میں اگر اس مشین کے استعمال سے دوکان اور دوکان کے صحن کی دھول اور گرد وغبار راہ گیروں پر جاتی ہے تو بلاشبہ یہ دوسروں کو...

نماز جنازہ کی دعا یاد نہ ہوتو ؟

سوال : محترم مفتی صاحب! زید کو نماز جنازہ کا طریقہ اور دعائیں یاد نہیں، وہ صرف دوسرے نمازیوں کی نقل کر کے تکبیریں اور اعمال ادا کر رہا ہے۔ ​کیا اس طرح دعا اور ایصالِ ثواب کا مقصد پورا ہو جائے گا؟ اگر زید کو نماز جنازہ کی دعائیں یاد نہ ہوں تو اسے کیا پڑھنا چاہیے؟ براہ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں تفصیلی رہنمائی فرمائیں۔ (المستفتی : سیف الرحمن، مالیگاؤں) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : نماز جنازہ میں چار تکبیرات کا کہنا فرض ہے۔ لہٰذا اگر زید چار تکبیر کہہ لیتا ہے تو اس کی نماز جنازہ ادا ہوجاتی ہے۔ پہلی تکبیر کے بعد ثناء، دوسری تکبیر کے درود ابراہیم اور تیسری تکبیر کے بعد بالغ مرد وعورت کے لیے الگ اور نابالغ لڑکے لڑکیوں کے لیے الگ الگ دعا کا پڑھنا مسنون ہے۔ لہٰذا اگر کسی سے یہ دعائیں پڑھنا چھوٹ جائے تب بھی اس کی نماز جنازہ ادا ہو جاتی ہے۔  صورتِ مسئولہ میں زید کو نماز جنازہ کی دعائیں یاد کرلینا چاہیے، اور جب تک یاد نہیں ہوتی تب تک یہ دعا : اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِلْمُوٴمِنِیْنَ وَالْمُوٴمِنَاتِ" یا پھر مرد میت کے" اَلل...

پر فتن دور سے متعلق ایک روایت کی تحقیق

سوال :  محترم مفتی صاحب! درج ذیل حدیث کی تحقیق ارسال فرمائیں۔ عنقریب لوگوں پر ایک ایسا پرفتن دور آئے گا کہ جس میں لوگ شکل و صورت میں تو سادہ انسان ہی ہوں گے، مگر انکے دل بھیڑیوں کے دلوں کی طرح ہونگے، انکی جوان نسل بدکار ہوگی، انکے بچے بد خو و بدتمیز ہوں گے، اور انکے بوڑھے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو چھوڑ دیں گے، فاسق و بے دین شخص ان میں معزز و قابل قدر ہوگا، اور مومن و شریعت کا پابند شخص ان میں حقیر و کمتر ہوگا۔ (المستفتی : خالد مسیح اللہ، مالیگاؤں)  ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : سوال نامہ میں مذکور روایت کمی بیشی کے ساتھ طبرانی کی معجم کبیر، معجم صغیر اور ہیثمی کے مجمع الزوائد وغیرہ میں ملتی ہے۔ لیکن ابن جوزی اور ذہبی رحمھما اللہ نے اس کو موضوعات یعنی غیر معتبر روایات میں شمار کیا ہے۔ لہٰذا اس کا بیان کرنا درست نہیں ہے۔ [عن عبدالله بن عباس:] سيجيءُ في آخرِ الزَّمانِ أقوامٌ أكثرُ وجوهِهم وجوهُ الآدميِّين، وقلوبُهم قلوبُ الذِّئابِ الضَّواري، ليس في قلوبِهم شيءٌ من الرَّحمةِ، سفّاكين للدِّماءِ، لا يرعو...

جانے دو، بعد میں دے دینا

سوال :  محترم مفتی صاحب! اکثر ہم کوئی چیز خریدتے ہیں مثلاً پھل فروٹ وغیرہ، تو کبھی کبھار ان ٹھیلہ والوں کے پاس چھٹا (اکثر پانچ روپے) نہیں ہوتا، یہ کہہ دیتے ہیں کہ جانے دو بعد میں دے دینا۔ وہ یہ کہہ کر فرصت پا لیتے ہیں اور ہم بھی لے کر چلے آتے ہیں کہ پانچ روپے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اور اسے بھی یہی سمجھ رہا ہوتا ہے کہ یہ پانچ ملنے والا نہیں ہے۔ مگر کیا اس پھل فروٹ والے کے یہ کہنے سے وہ پیسہ ہم پر واجب الادا ہو جاتا ہے؟ کیا ہم اسے نا دے کر گناہ گار ہو سکتے ہیں؟ (المستفتی : عمران الحسن، مالیگاؤں) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : صورتِ مسئولہ میں جب بیچنے والا یہ بات صراحتاً کہہ دیتا ہے کہ "بعد میں دے دینا" تو پھر اس کو یہ رقم دینا ضروری ہے خواہ یہ پانچ روپے کیوں نہ ہو، کیوں کہ ہمیں معلوم نہیں کہ اس کے دل میں کیا ہے؟ وہ واقعی معاف کردیتا ہے یا لینا چاہتا ہے؟ اگر وہ واقعی معاف کردیتا ہے تو معاف ہوجائے گا۔ لیکن اگر معاف نہیں کرتا تو معاف نہیں ہوگا۔ لہٰذا اُسی وقت بات صاف کرلی جائے کہ میں اتنے میں ہی لوں گا، کوئی رقم ادھ...

مہنگائی کا قہر

تنخواہوں میں اضافہ انتہائی ضروری   ✍️ مفتی محمد عامر عثمانی ملی     (امام وخطیب مسجد کوہ نور) قارئین کرام! شہر عزیز مالیگاؤں مزدوروں اور محنت کشوں کا شہر ہے۔ یہاں بسنے والوں کی ایک بہت بڑی تعداد پاور لوم یا دوسرے کسی کام میں محنت مزدوری کرکے اپنا گزر بسر کرتی ہے۔ ان کی تنخواہیں بہت مختصر ہوتی ہیں۔ جس سے ان کی ضروریات کس طرح پوری ہوتی ہیں؟ یہی جانتے ہیں۔  فی الحال جنگ اور بارش کی کمی کا سہارا لے کر مہنگائی کا قہر برس رہا ہے۔ پیٹرول پر کچھ دن کے وقفہ سے بیس روپے بڑھ چکے ہیں۔ اشیاء ضروریہ چاول، گیہو‌ں، تیل، شکر، دالیں، دودھ اور تقریباً تمام ہی کرانہ سامان پر اچھی خاصی قیمت بڑھ چکی ہے، صرف یہی نہیں بلکہ سبزیوں کے دام میں بھی اچھا خاصہ اضافہ ہو رہا ہے۔ اور گوشت تو کئی مہینوں پہلے سے ہی اپنا تیور دکھا چکا ہے اور دو گنا داموں میں یعنی چار سو کے آس پاس ہمارے شہر میں فروخت ہورہا ہے اور غریبوں کی پہنچ سے دور ہوتا جارہا ہے۔ اب ایسے حالات میں مزدور طبقہ، ائمہ، مکاتب ومدارس کے معلمین، دوکانوں پر کام کرنے والے سیلس مین اور غیر منظور شدہ اسکولوں یا ٹیوشن کلاسوں میں پڑھانے والے ٹیچر...

بھاتی دینے کے گلی محلے والوں سے رقم جمع کرنا

سوال : محترم مفتی صاحب! ہمارے شہر میں کسی میت کی تعزیت کے بعد اعلان ہوتا ہے کہ میت کی پہلی بھاتی گلی محلے والوں کی طرف سے رہے گی، اسکے بعد دوسرے تیسرے وقت کی بھاتی کے لیے جو لوگ نام لکھانا چاہتے ہیں وہ ایک طرف آ جائیں بقیہ کو جانے کی اجازت ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ ضروری ہے کہ پہلی بھاتی گلی محلے والے دیں؟ کیا ایسا کوئی شرعی حکم ہے؟ ابھی حال ہی میں ایک جگہ بیٹھے تھے، کچھ تعلق کے محنتی مزدور بھی تھے، انہوں نے بتایا کہ گلی میں میت ہوئی، تدفین وغیرہ کے بعد محلے کا ایک اگاؤں شخص آیا اور کہا کہ لا 500 دے، بھاتی میں جمع کروانا ہے. جبکہ مرحوم کا خاندان انتہائی وسیع، اگر خاندان والے چاہیں تو کسی کی بھی بھاتی نا لیں۔ (اور اب الحمدللہ ایسا ہو رہا ہے شہر میں)  کیا یہ مناسب ہے کہ کسی غریب/متوسط شخص سے زور زبردستی سے بھاتی کے پیسے وصولے جائیں، جس کے خود حالات خراب ہوں؟ اگر گلی محلے کی پہلی بھاتی میں گلی محلے والے خوشی سے شامل ہوں تو ٹھیک ہے ورنہ زبردستی کسی پر مسلط ہونا کیسا ہے؟ (المستفتی : عمران الحسن، مالیگاؤں) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وبال...