جانے دو، بعد میں دے دینا
سوال : محترم مفتی صاحب! اکثر ہم کوئی چیز خریدتے ہیں مثلاً پھل فروٹ وغیرہ، تو کبھی کبھار ان ٹھیلہ والوں کے پاس چھٹا (اکثر پانچ روپے) نہیں ہوتا، یہ کہہ دیتے ہیں کہ جانے دو بعد میں دے دینا۔ وہ یہ کہہ کر فرصت پا لیتے ہیں اور ہم بھی لے کر چلے آتے ہیں کہ پانچ روپے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اور اسے بھی یہی سمجھ رہا ہوتا ہے کہ یہ پانچ ملنے والا نہیں ہے۔ مگر کیا اس پھل فروٹ والے کے یہ کہنے سے وہ پیسہ ہم پر واجب الادا ہو جاتا ہے؟ کیا ہم اسے نا دے کر گناہ گار ہو سکتے ہیں؟ (المستفتی : عمران الحسن، مالیگاؤں) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : صورتِ مسئولہ میں جب بیچنے والا یہ بات صراحتاً کہہ دیتا ہے کہ "بعد میں دے دینا" تو پھر اس کو یہ رقم دینا ضروری ہے خواہ یہ پانچ روپے کیوں نہ ہو، کیوں کہ ہمیں معلوم نہیں کہ اس کے دل میں کیا ہے؟ وہ واقعی معاف کردیتا ہے یا لینا چاہتا ہے؟ اگر وہ واقعی معاف کردیتا ہے تو معاف ہوجائے گا۔ لیکن اگر معاف نہیں کرتا تو معاف نہیں ہوگا۔ لہٰذا اُسی وقت بات صاف کرلی جائے کہ میں اتنے میں ہی لوں گا، کوئی رقم ادھ...