نماز جنازہ کی دعا یاد نہ ہوتو ؟
سوال : محترم مفتی صاحب! زید کو نماز جنازہ کا طریقہ اور دعائیں یاد نہیں، وہ صرف دوسرے نمازیوں کی نقل کر کے تکبیریں اور اعمال ادا کر رہا ہے۔ کیا اس طرح دعا اور ایصالِ ثواب کا مقصد پورا ہو جائے گا؟ اگر زید کو نماز جنازہ کی دعائیں یاد نہ ہوں تو اسے کیا پڑھنا چاہیے؟ براہ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں تفصیلی رہنمائی فرمائیں۔ (المستفتی : سیف الرحمن، مالیگاؤں) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : نماز جنازہ میں چار تکبیرات کا کہنا فرض ہے۔ لہٰذا اگر زید چار تکبیر کہہ لیتا ہے تو اس کی نماز جنازہ ادا ہوجاتی ہے۔ پہلی تکبیر کے بعد ثناء، دوسری تکبیر کے درود ابراہیم اور تیسری تکبیر کے بعد بالغ مرد وعورت کے لیے الگ اور نابالغ لڑکے لڑکیوں کے لیے الگ الگ دعا کا پڑھنا مسنون ہے۔ لہٰذا اگر کسی سے یہ دعائیں پڑھنا چھوٹ جائے تب بھی اس کی نماز جنازہ ادا ہو جاتی ہے۔ صورتِ مسئولہ میں زید کو نماز جنازہ کی دعائیں یاد کرلینا چاہیے، اور جب تک یاد نہیں ہوتی تب تک یہ دعا : اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِلْمُوٴمِنِیْنَ وَالْمُوٴمِنَاتِ" یا پھر مرد میت کے" اَلل...