اشاعتیں

روایت "بال چھوٹا بڑا رکھنے والے پر اللہ کی ہر وقت لعنت" کی تحقیق

سوال : مفتی صاحب ! ایک مشہور مقرر کا ایک ویڈیو واٹس ایپ پر چل رہا ہے جس میں مقرر بالوں کے متعلق ایک حدیث بحوالہ بخاری شریف بیان کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں کہ "ہمارے نبی فرماتے ہیں ایک زمانہ آئے گا کہ میرے امتیوں کے سر کے اوپر کچھ حصے پر بال ہوں گے اور کچھ حصے پر نہیں ہوں گے۔ ہمارے نبی نے اس وقت فرمایا جب میرے وہ امتی ائے سمجھنا یہ وہ سر ہیں جن پر 24 گھنٹے اللہ کی لعنت اترتی ہے"  اس حدیث کا حوالہ عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی۔ (المستفتی : مولوی مجاہد، بسمت) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : بالوں کا کوئی حصہ چھوٹا کوئی حصہ بڑا رکھنا منع ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک بچہ کو دیکھا کہ اس کے سر کے بعض حصے کے بال مونڈے ہوئے اور بعض حصے میں بال چھوڑ دیے گئے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے منع فرمایا، اور ارشاد فرمایا کہ : (اگر بال مونڈنا ہو تو) پورے سر کے بال مونڈو (اور اگر بال رکھنے ہوں تو) پورے سر پر بال رکھو۔ چھوٹے بڑے بال رکھنا ناجائز اور گناہ کی بات ہے جس سے بچنا ضروری ہے، لیکن سو...

شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی کا گھومنے جانا

سوال : محترم مفتی صاحب ! اِدھر کچھ عرصے سے شہر عزیز میں دیکھا جا رہا ہے کہ، بیویاں مائیکے جاتی ہیں تو وہاں سے اپنی بہنوں/سہیلیوں کے ساتھ (چاہے ساتھ میں کوئی بزرگ خالہ ہو، ماں ہو، مگر محرم مرد نہیں ہوتا) کے ساتھ شہر کے اطراف ہوٹلوں میں ، کیمپ میں موجود بہت سارے گارڈن، عید گاہ گراؤنڈ میں کھانے کھیلنے کی جگہ بنام چوپاٹی، وغیرہ پر سیر و تفریح کے لیے نکل جاتی ہیں. اور اب نیا سلسلہ یہ ہے کہ شہر کے مغربی علاقے میں D - Mart چلی جاتی ہیں۔ موتی باغ ناکہ سے گرنا پل ہوتے ہوئے بیشمار خواتین بچوں کے ساتھ پیدل دکھائی دیتی ہیں۔ کچھ معاملات اس طرح بھی ہوئے کہ جمعہ کا دن ہونے کی وجہ سے شوہر اپنے دوستوں کے ساتھ کہیں نکلا تو بیوی مع سہیلیوں یا بہنوں کے اس سے ملاقات ہو گئی. لفظی نوک جھوک پر بیوی یا بہن، کا کہنا ہوتا ہے کہ تم بھی تو گھومنے نکلے ہو نا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح بغیر شوہر کے علم میں لائے بیوی مائیکے سے بغیر محرم، یا پھر محرم کے ساتھ کہیں گھومنے پھرنے جا سکتی ہے؟ ہو سکتا ہے کہ لوگ اس معاملے کو اگنور کرتے ہوں، مگر آگے چل کر یہ معاملہ بڑھتے جائے گا۔ (المستفتی : عمران الحسن، مالیگاؤں) ------------...

کسی مکان کو آسیب زدہ کہنا

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ : زید نے مالیگاؤں کے ایک مشہور محلہ میں ایک مکان خریدا اور اسے نئے سرے سے آر سی سی (RCC) کے ذریعے ایک منزلہ مضبوط گھر تعمیر کیا۔ تعمیر مکمل ہونے تک محلے کے کسی فرد نے اس گھر کے متعلق کوئی ایسی بات یا افواہ نہیں پھیلائی کہ اس میں جنات یا شیاطین کا اثر ہے۔ الحمد للہ! زید تقریباً دو سال تک اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ اسی گھر میں امن، عافیت اور خوشحالی کے ساتھ رہا، اور اس دوران کسی قسم کا کوئی غیر معمولی واقعہ پیش نہیں آیا۔ بعد ازاں کسی مجبوری کی بنا پر زید کو اپنا گھر فروخت کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ جب اس نے دلالوں اور اہلِ محلہ کے ذریعے گھر فروخت کرنے کی کوشش کی تو بعض افراد نے یہ افواہ پھیلانا شروع کر دی کہ اس گھر میں بہت بڑی "شے" ہے، اور جو بھی اس گھر میں رہے گا وہ اچانک موت کا شکار ہو جائے گا۔ حالانکہ یہ بات حقیقت کے بالکل خلاف ہے، کیونکہ خود زید اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ دو سال تک اس گھر میں خیریت سے رہا اور کوئی نقصان یا غیر معمولی واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس کے باوجود ان افواہوں کی وجہ سے کوئی بھی شخص گھر خریدنے یا ...

میت کے وزنی ہونے کی وجہ؟

سوال : مفتی صاحب ! کسی کے انتقال پر کچھ لوگوں کو کہتے سنا مٹی بھاری ہوگئی ہے۔ یعنی میت وزنی ہے، اس کا کیا مطلب ہے؟ ایسا کہنا درست ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔ (المستفتی : محمد زید، مالیگاؤں) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : آدمی کے انتقال کے بعد اس کا جسم وزنی ہوجانا شرعاً کوئی عیب کی بات نہیں ہے۔ بعض بیماریوں میں میت کا جسم وزنی ہوجاتا ہے۔ لہٰذا یہ سمجھنا کہ میت کے گناہوں کی وجہ سے اس کا جسم وزنی ہوگیا ہے بدگمانی ہے جو شرعاً ناجائز اور گناہ کی بات ہے جس سے بچنا ضروری ہے۔ یَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ۔ (سورہ الحجرات، آیت : ١٢) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ ؛ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلَا تَحَسَّسُوا ، وَلَا تَجَسَّسُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَدَابَرُوا ، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا۔ صحیح البخاری، رقم : ٦٠٦٤)فقط  واللہ تعالٰی اعلم  محمد عامر ع...

مغرب کے وقت کھانا کھانے کا حکم

سوال : جمعرات کو مغرب کے وقت مردوں کو کھانا تقسیم ہوتا ہے؟ بڑے بوڑھے اسوقت بچوں کو کھانا دینے سے منع کرتے ہیں۔ اس کی کیا حقیقت ہے؟  (المستفتی : ڈاکٹر طارق، مالیگاؤں)  ----------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : غیر روزہ دار کے لیے کسی بھی وقت کھانے کی ممانعت نہیں ہے، جب بھوک لگے وہ کھانا کھا سکتا ہے۔ چنانچہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : جب شام کا کھانا حاضر ہو جائے تو مغرب کی نماز سے پہلے کھانا کھا لو اور اپنا کھانا چھوڑ کر نماز کی طرف جلدی مت کرو۔ مطلب یہ ہے کہ جب کھانا حاضر ہو جائے اور نماز کا وقت بھی قریب آ جائے تو نماز پڑھنے سے قبل کھانے کو تناول کرلو اگر چہ نماز کا وقت تھوڑا یا محدود وقت ہو جیسا کہ نماز مغرب ہے، تاکہ نمازی کا ذہن کھانے میں مشغول نہ رہے۔ حضرت ابو درداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انسان کی عقلمندی اسی میں ہے کہ پہلے وہ اپنی حاجت پوری کر لے تاکہ جب وہ نماز میں کھڑا ہو تو اس کا دل فارغ ہو۔  مسئلہ ھذا میں دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ ملاحظہ فرمائیں : میرے گھر پر ا...

کیا کسی کو خون دینا ثواب کا کام ہے؟

سوال : مفتی عامر عثمانی صاحب امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ ضروری گزارش یہ ہیکہ زچکی کیلئے رات 2 بجے ایک عورت کو ہاسپٹل میں بھرتی کروایا گیا اس عورت کی جب خون کی جانچ کی گئی تو اس کے بدن میں خون کم تھا۔ جس کی وجہ سے اس عورت کی جان خطرے میں تھی اب ایسے سنگین وقت میں اس عورت کے رشتے دار جب خون کیلئے بلڈ ڈونر گروپ چلانے والوں سے رابطہ کیا تو آدھی رات کو بلڈ ڈونر گروپ کے ذمہ داران نے اس عورت کو جس گروپ کا خون لگ رہا تھا اس گروپ کے ڈونر کو ڈھونڈکر اس مریض کے رشتے دار کو دیا اس طرح ایک ڈونر مطلب ایک انسان نے اپنا خون فی سبیل اللہ عطیہ کیا اس نیت سے کہ کسی کی جان بچ جائے اور بلڈ ڈونر گروپ کے زمہ داران نے بھی ڈونر کو اسی نیت سے تلاش کیا کہ زچہ و بچہ دونوں کی جان بچ جائے کیا یہ عمل شریعت میں غیر ثواب کا عمل ہے؟ یا اس سے نیکی یا ثواب ملے گا؟ جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں نوازش ہوگی۔ (المستفتی : محمد اسامہ، مالیگاؤں) ----------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : خون انسانی جسم کا ایک اہم اور بنیادی جزء ہے جس سے انسانی زندگی کی حیات اور بقا...

حاجی کی دعا کب تک قبول ہوتی ہے؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین درمیان مسئلہ ھذا کے کہ حاجی کی دعا کب تک قبول ہوتی ہے؟ سننے میں آیا ہے کہ چالیس دن تک قبول ہوتی ہے؟ اور یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ بارہ ربیع الاول تک قبول ہوتی ہے۔ اس کی کیا حقیقت ہے؟ واضح فرمائیں۔ (المستفتی : محمد حذیفہ، مالیگاؤں)  ----------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : متعدد صحیح یا حسن درجہ کی احادیث میں بغیر کسی مدت کے یہ مضمون وارد ہوا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : حاجی اور جس کے لئے حاجی مغفرت کی دعا کرے، دونوں کی مغفرت کردی جاتی ہے۔ (1) متعدد ضعیف اور منقطع روایات میں حاجی کی قبولیتِ دعا کی مدت کا ذکر آیا ہے۔ اور یہ روایات دو طرح کی ہیں۔ مرفوع یعنی وہ روایت جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی جانب روایت کو منسوب کیا گیا ہو، اس میں ماہ محرم کے گزرنے تک دعا کی قبولیت کا ذکر ہے جو درج ذیل ہیں۔ ١) علامہ فاکہی رحمہ اللہ نے اپنی سند سے معاویة سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :حاجی، اورجس کے لیے حاجی مغفرت کی دعا کرے، ماہ محرم کے...