اشاعتیں

حق رضا ضرور دیں اور معقول دیں

✍️ مفتی محمد عامر عثمانی ملی      (امام وخطیب مسجد کوہ نور)  قارئین کرام ! شریعت مطہرہ میں ملازمین کے بڑے حقوق بیان کیے گئے ہیں، جس میں ان کے ساتھ اخلاق سے پیش آنا، انہیں معقول تنخواہ دینا، ان کی طاقت کے بقدر ان سے کام لینا، ان کی غلطیوں سے درگزر کرنا اور بوقت ضرورت وبقدر استطاعت ان کی مالی مدد کرنا بھی ہے۔ ہمارے یہاں عیدالفطر سے کچھ پہلے رمضان المبارک میں تقریباً ہر شعبہ جات میں اپنے ملازمین کو تنخواہ کے علاوہ "عید بونس" دینے کا رواج ہے جسے ہمارے یہاں "حق رضا" بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بلاشبہ ایک نیک عمل ہے، لہٰذا آپ کے یہاں جس کام کے لیے بھی ملازم ہوں خواہ پاور لوم سے منسلک مزدور، مقادم، منیجر ومیتھا، تراشن بھرنے والے، آپ کے گھروں میں صفائی اور کپڑے وغیرہ دھونے والیاں، ہاسپٹل یا آفس میں کام کرنے والا عملہ ہو ہر کسی کا مسلمانوں کے سب سے بڑے تہوار "عیدالفطر" پر آپ خیال رکھیں، اور انہیں ضرور حق رضا دیں اور معقول حق رضا دیں کہ ان پیسوں میں ان کی عید کی کچھ خریداری ہوجائے۔ ہم کوئی مخصوص رقم یہاں نہیں لکھیں گے کہ آپ اتنا اتنا دیں، یہ آپ کو خود بہتر سمجھتا ہے کہ آج ک...

ختم قرآن یا تکمیل قرآن کہنا؟

سوال : محترم مفتی صاحب! تراویح میں قرآن پاک کی تکمیل، جسے عام طور پر ختم قرآن کہا جاتا ہے، کیا ایسا کہنا صحیح ہے؟ یا یہ کہنا کہ فلاں دن تراویح میں قرآن پاک کی تکمیل ہوگی یا قرآن پاک مکمل ہوگا۔ (المستفتی : عمران الحسن، مالیگاؤں)  ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : قرآن مجید کی تلاوت کرکے اس کی تکمیل خواہ انفرادی طور پر ہو یا تراویح میں۔ اسے "ختم قرآن" کہنا ہر لحاظ سے درست ہے، شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ ختم قرآن کا سیدھا صاف مطلب یہی ہے کہ تیس پاروں کی تلاوت مکمل ہوگئی۔ کوئی بھی اس کا یہ مطلب نہیں لیتا کہ قرآن مجید باقی نہیں رہا، ختم ہوگیا۔ معاذ اللہ قرآن مجید کے مکمل ہونے پر "خَتَمَ الْقُرْآنَ" کا لفظ متعدد روایات میں وارد ہوا ہے۔  سنن دارمی میں ہے : حضرت انس بن مالک جب قرآن ختم کرنے لگتے تھے تو اپنی اولاد اور اہل خانہ کو اکٹھا کیا کرتے تھے اور ان کے لئے دعا کیا کرتے تھے۔ خلاصہ یہ کہ "ختم قرآن" کہنا بالکل درست ہے، اعتراض اور اشکال والی کوئی بات نہیں ہے، تکمیل قرآن اور مکمل قرآن کہنا بھی بہت...

خون سے قرآن مجید لکھنا

سوال : محترم مفتی صاحب! سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ پڑھنے میں آ رہی ہے کہ صدام حسین نے اپنے خون سے قرآن مجید لکھوایا تھا، جس میں تقریباً 27 لیٹر خون کا استعمال کیا گیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ خون چونکہ ناپاک مانا جاتا ہے، تو اس ناپاک شئے سے لکھا جانا کیسا ہے؟  (المستفتی : عمران الحسن، مالیگاؤں)  ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : بلاشبہ خون نجس اور ناپاک ہے، لہٰذا اس سے کچھ بھی لکھنا درست نہیں ہے، قرآن مجید تو اللہ کا کلام اور انتہائی مقدس اور متبرک ہے، لہٰذا خون سے قرآن مجید لکھنا بدرجہ اولی ناجائز اور اس کی توہین ہے جس سے بچنا انتہائی ضروری ہے۔ سوال نامہ میں مذکور شخص نے یہ کام کیا ہے یا نہیں؟ یہ بات تصدیق شدہ نہیں ہے۔ قالَ اللہُ تعالیٰ : إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ ٱلْمَيْتَةَ وَٱلدَّمَ وَلَحْمَ ٱلْخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ لِغَيْرِ ٱللَّهِ بِهِۦ ۖ فَمَنِ ٱضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍۢ وَلَا عَادٍۢ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ۔ (سورۃ النحل، آیت : 115)فقط واللہ تعالٰی اعلم محمد عامر عثمانی ملی 20 رمضان المبارک 1447

ایرانی لیڈر کی موت اور ہمارا طرزِ عمل؟

✍️ مفتی محمد عامر عثمانی ملی       (امام وخطیب مسجد کوہ نور)  قارئین کرام! تین دن پہلے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کی خبریں موصول ہوئی اور اسی کے ساتھ یہ اطلاع بھی ملی کہ اسی حملہ میں ایران اور پورے عالم روافض کے سب سے بڑے لیڈر اس حادثے میں مارے گئے ہیں۔ جیسے ہی اس خبر کی تصدیق ہوئی تو سوشل میڈیا پر جذباتی نوجوانوں (جنہیں نہ شریعت کا علم ہے اور نہ تاریخ کا) نے ایرانی لیڈر کی تصویریں اپنے اسٹیٹس اور سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر لگانا شروع کردیا۔ کوئی اسے شہید کہہ رہا ہے تو کوئی اسے معاذ اللہ سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے تشبیہ دے رہا ہے، کوئی اسے شیر لکھ رہا ہے تو کوئی اسے عالم اسلام کا ہیرو قرار دے رہا ہے۔ غرض یہ کہ سوشل میڈیا پر بے گانی شادی میں عبداللہ دیوانوں کی بھیڑ لگی ہوئی ہے۔ معلوم ہونا چاہیے کہ ایران کی جنگ کوئی فلسطین اور غزہ والوں کے لیے نہیں ہے۔ یہ ان کی اپنی ذاتی لڑائی ہے جس میں یہ لوگ فلسطینی مسلمانوں کو چارہ اور پورے عالم کے مسلمانوں کو جذباتی بناکر دھوکہ میں ڈالے ہوئے ہیں۔ ہمارے ایمان کا حصہ یعنی حضور اکرم صلی اللہ علیہ کے جاں نثار صحابہ ...

نابالغ بچوں کے لیے بنائے گئے زیورات پر زکوٰۃ ؟

سوال : مفتی صاحب! نابالغ بچیوں کے لیے اگر والدین زیورات بنا کر رکھے ہوں تو اُن پر زکوٰۃ کا کیا حکم ہوگا؟ (المستفتی : کاشف انجینئر، مالیگاؤں) ----------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : نابالغ بچے شریعت کے مکلف نہیں ہیں، لہٰذا اگر ان کے پاس نصاب کے بقدر مال ہو تب بھی ان پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔ چنانچہ اگر کوئی سونا خرید کر اپنے نابالغ بچے بچیوں کو باقاعدہ ہبہ اور گفٹ کردے، جس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ کم از کم دو افراد کو گواہ بنا کر یہ کہدے کہ میں نے یہ سونا اپنی فلاں فلاں بیٹی یا بیٹے کو ہبہ کردیا ہے تو یہ بچے اس کے مالک ہوجائیں گے اور سونا اس شخص کی ملکیت سے نکل جائے گا اور جب تک بچے نابالغ رہیں گے اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔ وَشَرْطُ افْتِرَاضِهَا عَقْلٌ وَبُلُوغٌ (قَوْلُهُ عَقْلٌ وَبُلُوغٌ) فَلَا تَجِبُ عَلَى مَجْنُونٍ وَصَبِيٍّ۔ (شامی : ٢/٢٥٨)فقط واللہ تعالٰی اعلم محمد عامر عثمانی ملی 05 رمضان المبارک 1447

سفراء کی بھرمار

اسباب اور حل ✍️ مفتی محمد عامر عثمانی ملی       (امام وخطیب مسجد کوہ نور)  قارئین کرام ! رمضان المبارک کی آمد سے پہلے ہی شہر عزیز مالیگاؤں میں ملک کے مختلف علاقوں کے مدارس کے چندے کے لیے سفراء حضرات کی آمد کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ گذشتہ تین سال پہلے اس سلسلے میں جمیعت علماء کی جانب سے منصوبہ بندی اور کچھ جعلی سفراء کی گرفت کے معاملات سامنے آنے کے بعد دو تین سال سے معاملات کچھ قابو میں تھے۔ لیکن اس سال ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے سفراء حضرات کی باڑھ آگئی ہے۔ سفراء کا جھنڈ کا جھنڈ شہر میں گھومتا ہوا دکھائی دے رہا ہے، مساجد کے علاوہ مکانات، دوکانوں، آفسوں اور کارخانوں میں بھی یہ حضرات بغیر کسی تعارف اور پرانی رسید کے پہنچ رہے ہیں۔ چھوٹی مساجد میں ایک وقت میں چار پانچ سفراء موجود ہوتے ہیں۔ بڑی مساجد میں یہ تعداد بڑھ کر بیس پچیس ہورہی ہے۔ بلکہ اندھیر یہ ہوگئی کہ آج ایک مسجد کی تصویر وائرل ہوئی ہے جس میں 58 سفراء چندہ کے لیے بیٹھے ہوئے ہیں۔ آپ اندازہ لگائیں کہ شہر میں چار سو سے زائد مساجد ہیں، ہر مسجد میں اگر ایک نماز میں کم از کم پانچ سفیر بھی شمار کیے جائیں تو یہ تعداد د...

ایک دن "شاہ جامیؒ" کے دیار میں

✍️ مفتی محمد عامر عثمانی ملی      (امام وخطیب مسجد کوہِ نور)  قارئین کرام! میرے بہت سے متعلقین کو اس بات کا علم ہے کہ میں عموماً سفر سے بچنے کی کوشش کرتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ سال سال بھر ہوجاتے ہیں میرا ایک یا دو سفر ہی ہوتا ہے وہ بھی ایک دن یا پھر نصف یوم کا۔ چند دنوں پہلے ہمارے واٹس اپ گروپ دارالافتاء کے سرپرست حضرت مولانا مفتی مسعود اختر صاحب قاسمی نے بذریعہ واٹس اپ اطلاع دی کہ آپ کو ہمارے مدرسہ کے سالانہ جلسہ میں بطور مہمان خصوصی شرکت کرنا ہے۔ چونکہ یہ خواہش مفتی صاحب کی طرف سے تھی اور مدرسہ کی تعطیلات کے ایام میں یہ جلسہ ہونا تھا، اس لیے میں نے بلا چوں وچرا دعوت قبول کرلی۔ جلسہ کی تاریخ قریب آئی تو یہ مرحلہ در پیش ہوا کہ کس طرح جامنیر پہنچنا ہے؟ چونکہ ہمیں فور وھیلر سے دقت ہوتی ہے اور قے ہونے لگتی ہے، اس لیے بذریعہ ٹو وھیلر ہی سفر کرنا طے ہوا۔ چنانچہ 10 فروری کو صبح نو بجے کے آس پاس اپنے تین رفقاء درس مولانا محمد اطہر ملی، ندوی، مولانا محمد مصطفی ملی اور مولانا محمد حامد ملی کے ساتھ مالیگاؤں سے جامنیر کے لیے روانہ ہوئے۔ چونکہ فاصلہ طویل (تقریباً پونے دو سو کلو میٹ...