اشاعتیں

بلاگ اسسٹنٹ

اپنا سوال لکھیں، ہم بلاگ میں تلاش کریں گے

والد کے گھر گئی تو طلاق، پھر والد کے انتقال کے بعد گئی تو؟

سوال :  مفتی صاحب! کسی نے ایک سوال پوچھا ہے کہ اگر کسی شوہر نے بیوی کو کہا کہ اگر تو اپنے والد کے گھر جائے تو تجھے تین طلاق، کچھ دن بعد والد کا انتقال ہو جاتا ہے، تو بیوی والد کے انتقال کے بعد والد کے گھر پہنچتی ہے، تو اس صورت میں طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ کیونکہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اب وہ والد کا گھر نہیں رہا بلکہ وراثت کا حصہ بن چکا ہے، تو اس کا کیا حکم ہوگا؟ (المستفتی : محمد ابوذر، پاچورہ) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : احناف کے نزدیک مفتی بہ قول کے مطابق جب آدمی کا انتقال ہوجائے تو اس کا مکان اس کی ملکیت سے نکل جاتا ہے اور وارثین کی ملکیت میں چلا جاتا ہے۔ چنانچہ جب گھر والد کا نہیں رہا تو عورت کا اپنے باپ کے گھر جانا لازم نہیں آیا۔ جس کی وجہ سے صورتِ مسئولہ میں شوہر کی لگائی ہوئی شرط پوری نہیں ہوئی، لہٰذا کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔  رَجُلٌ قَالَ لِامْرَأَتِهِ : إنْ دَخَلْتِ دَارَ فُلَانٍ فَأَنْت طَالِقٌ فَمَاتَ فُلَانٌ فَصَارَتْ الدَّارُ مِيرَاثًا فَدَخَلَتْ إنْ لَمْ يَكُنْ عَلَى الْمَيِّتِ دَيْنٌ مُسْتَغْرِ...

حج وعمرہ ٹورس کے فراڈ

              اسباب اور حل ✍️ مفتی محمد عامر عثمانی ملی       (امام وخطیب مسجد کوہ نور)  قارئین کرام ! شہر عزیز مالیگاؤں کے لوگوں کا اپنا ایک منفرد انداز ہے، یہاں ٹرینڈ چلتا ہے، وہ اس طرح کے کسی نے کوئی کام یا کاروبار کیا اور اس میں اس کو فائدہ ہوا تو اس کام اور کاروبار میں لوگوں کی ایسی ہوڑ لگتی ہے کہ جب تک یہ کام اور کاروبار برباد نہ ہوجائے اور مذاق نہ بن جائے لوگ رُکتے نہیں ہیں۔ ایسا ہی کچھ معاملہ آپ کو حج وعمرہ ٹورس کے معاملے میں دیکھنے کو ملے گا، جو ایک مرتبہ حج یا عمرہ کرکے آگیا وہ اپنے آپ کو گروپ لیڈر یا ٹور آپریٹر سمجھنے لگتا ہے، اور اس کے بعد وہ کوشش میں لگ جاتا ہے اس کو بھی حج وعمرہ ٹورس چلانا ہے اور پیسے کمانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محلے دو محلے میں آپ کو حج وعمرہ ٹورس کی آفس مل جائے گی۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ شہرِ عزیز مالیگاؤں میں عمرہ ٹورس چلانا کوئی بہت نفع کمانے کا کام نہیں ہے، صحیح بات یہ ہے کہ اگر کوئی ٹور مالک جو 15 یا 20 دن کے پیکج کی سہولیات بتاتا ہے اگر وہ ایمانداری سے اس کو مہیا کرتا ہے تو اس کو ایک سیٹ کے پیچھے ...

صحابی کی داڑھی کے بال سے فرشتوں کا کھیلنا

سوال : مفتی صاحب! کیا کسی روایت میں ایسے صحابی کا ذکر آتا ہے جن کی داڑھی کے صرف ایک یا دو بال تھے اور ان کو اکھاڑنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ ان بالوں پر فرشتے جھولا جھولتے تھے۔ (المستفتی : محمد زید، مالیگاؤں)  ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : سوال نامہ میں جس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اسے مکمل اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ ایک صحابی کی داڑھی میں صرف دو بال تھے۔ جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم انہیں دیکھتے تو مسکراتے۔ وہ صحابیؓ اس بات پر حیران ہوتے۔ بالآخر انہوں نے ان دو بالوں کو مونڈ دیا۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں دیکھا تو ان سے وجہ پوچھی۔ صحابیؓ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میں نے دیکھا کہ آپ جب بھی مجھے دیکھتے ہیں تو مسکراتے ہیں تو مجھے مناسب نہیں لگا، اس لیے میں نے یہ بال مونڈ لیے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : میں دیکھتا تھا کہ فرشتے ان بالوں سے کھیل رہے ہوتے تھے، یہی میری مسکراہٹ کی وجہ تھی۔ معلوم ہونا چاہیے کہ اس طرح کے الفاظ کے...

کیا معذوروں کی وجہ سے ان کے گھر والے مالدار ہوتے ہیں؟

سوال : محترم مفتی صاحب! کیا لوگوں کا یہ سوچنا/کہنا صحیح ہے کہ جس گھر میں پیدائشی طور پر پاگل، عیبی یا پیدائشی مفلوج ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں بے پناہ دولت سے نوازتا ہے؟ شرعی طور ایسا کچھ سننے پڑھنے میں آتا ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔ (المستفتی : عمران الحسن، مالیگاؤں) ----------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : ہم نے یہ بات کئی لوگوں سے سنی ہے اور مشاہدہ بھی ہے کہ بہت سے ایسے گھرانے مالدار ہوتے ہیں جن میں دماغی معذور یا پیدائشی مفلوج افراد ہوتے ہیں۔ لیکن جو لوگ اس طرح کی بات کہتے ہیں وہ عموماً لاعلم افراد ہوتے ہیں، انہیں احادیث وغیرہ کا کوئی علم نہیں ہوتا وہ بس سنی سنائی باتوں کو کہتے رہتے ہیں، جبکہ احادیث میں یہ بات آئی ہے کہ معذوروں، کمزوروں اور مسکینوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے گھر والوں اور ان کا خیال رکھنے والوں کو رزق دیتے ہیں اور ان کو نوازتے ہیں۔ بخاری شریف میں ہے : مصعب بن سعد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سعد بن ابی وقاص کے دل میں خیال آیا کہ ان کو ان کے ماتحت لوگوں پر (کسب معاش میں ان سے زیادہ کوشش کرنے کی وجہ سے) فضیلت حاصل ہے، تو آپ ص...

مردوں کا بالوں میں کلپ یا بینڈ لگانا

سوال : حضرت مفتی صاحب! اسپرنگ نما کالی تار (جسے بعض لوگ بال سنبھالنے کے لیے استعمال کرتے ہیں)، کیا مرد اس کا استعمال کر سکتا ہے؟ خصوصاً اگر کوئی حافظ اسے ٹوپی کے اندر اس نیت سے پہنے کہ بال اپنی جگہ پر رہیں اور باہر سے یہ نظر بھی نہ آئے، تو کیا اس کا استعمال جائز ہے؟ یہ چیز عموماً عورتیں بال سنبھالنے کے لیے استعمال کرتی ہیں، اسی وجہ سے اس کے استعمال کے متعلق شرعی رہنمائی مطلوب ہے۔ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ (المستفتی : حافظ انس، مالیگاؤں)  ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : مردوں کا مسنون بال رکھنے کے لیے کلپ یا بینڈ وغیرہ استعمال کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔ غیر مسنون، فاسقوں اور فاجروں کی طرح بڑے بال رکھنے والوں کے لیے ہی اس طرح کی خرافات کی ضرورت ہوتی ہے، لہٰذا ایسے بڑے بال رکھنا اور اس کو سنبھالنے کے لیے کلپ اور بینڈ لگانا عورتوں کی مشابہت کی وجہ سے ناجائز اور گناہ ہے جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی ان مردوں پر لعنت کرے جو عورتوں سے...

فارماسسٹ کے لیے پانچ لاکھ کی بیمہ پالیسی؟

سوال :  فارماسسٹ سرکشا کوچ یوجنا مہاراشٹر میں تمام رجسٹرڈ فارماسسٹ کے لیے لاگو کیا گیا ہے۔ یہ اسکیم مہاراشٹر کے تمام رجسٹرڈ فارماسسٹ کے لیے مفت میں ہے۔ اس اسکیم کے تحت 5 لاکھ روپے کا حادثاتی بیمہ۔ فارماسسٹ کی حادثاتی موت پر اس کے ورثاء (Nominee) کو ملے گا۔  مفتی صاحب اِس اسکیم میں کوئی پیسہ نہیں بھرنا ہوگا صرف آن لائن فارم بھرنے کا پیسہ لگے گا اُس کے علاوہ کوئی چارج نہیں ہے۔ تو یہ اسکیم لینا شرعاً کیسا ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔ (المستفتی : محمد عاصم، مالیگاؤں) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی یہی بات ہے کہ اس اسکیم کو حاصل کرنے کے لیے کوئی رقم نہیں بھرنا ہے تو چونکہ اسکیم میں حصہ لینے والے کا کوئی پیسہ داؤں پر نہیں لگا ہے، جس کی وجہ سے اس میں جوئے یا سود کا کوئی معاملہ نہیں بنے گا، بلکہ اسے حکومت کی جانب سے امداد اور احسان کہا جائے گا، لہٰذا یہ اسکیم لینا شرعاً جائز ہے۔ قَالَ الْفَقِيهُ أَبُو اللَّيْثِ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي أَخْذِ الْجَائِزَةِ مِنْ السُّلْطَانِ قَالَ...

تیرے جنازہ میں نہیں آؤں گا اور میرے جنازہ میں تو مت آنا

سوال : محترم مفتی صاحب! بہت سارے خاندانی جھگڑے میں اکثر اس طرح کے جملے لوگ اپنے بھائی کے لیے، رشتے دار کے لیے یا کسی کاروباری رقابت کے پیش نظر، ایکدوسرے کے لیے یہ الفاظ "تیرے جنازہ میں نہیں آؤں گا اور میرے جنازہ میں تو مت آنا" استعمال کر دیتے ہیں. کیا یہ مناسب ہے؟ اور اگر کسی نے وصیت کے ذریعے یا مرتے وقت یہ کہہ دیا کہ میری میت میں فلاں کو مت بلانا، تو کیا رشتہ داروں کے لیے مرحوم کی اس وصیت پر عمل کرنا ضروری ہے؟ (المستفتی : عمران الحسن، مالیگاؤں) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر حق ہے کہ جب وہ انتقال کرجائے تو اس کے جنازے میں شریک ہو اور یہ بڑے اجر وثواب کا کام ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص جنازہ کے ساتھ چلا اور اس پر نماز پڑھی تو اس کو ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص میت کی تدفین تک جنازہ کے ساتھ رہا تو اس کو دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا۔ اور یہ قیراط ایسے ہیں کہ ان میں سے چھوٹا قیراط بھی احد پہاڑ جیسا ہے۔ لہٰذا کسی اخ...