والد کے گھر گئی تو طلاق، پھر والد کے انتقال کے بعد گئی تو؟
سوال : مفتی صاحب! کسی نے ایک سوال پوچھا ہے کہ اگر کسی شوہر نے بیوی کو کہا کہ اگر تو اپنے والد کے گھر جائے تو تجھے تین طلاق، کچھ دن بعد والد کا انتقال ہو جاتا ہے، تو بیوی والد کے انتقال کے بعد والد کے گھر پہنچتی ہے، تو اس صورت میں طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ کیونکہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اب وہ والد کا گھر نہیں رہا بلکہ وراثت کا حصہ بن چکا ہے، تو اس کا کیا حکم ہوگا؟ (المستفتی : محمد ابوذر، پاچورہ) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : احناف کے نزدیک مفتی بہ قول کے مطابق جب آدمی کا انتقال ہوجائے تو اس کا مکان اس کی ملکیت سے نکل جاتا ہے اور وارثین کی ملکیت میں چلا جاتا ہے۔ چنانچہ جب گھر والد کا نہیں رہا تو عورت کا اپنے باپ کے گھر جانا لازم نہیں آیا۔ جس کی وجہ سے صورتِ مسئولہ میں شوہر کی لگائی ہوئی شرط پوری نہیں ہوئی، لہٰذا کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔ رَجُلٌ قَالَ لِامْرَأَتِهِ : إنْ دَخَلْتِ دَارَ فُلَانٍ فَأَنْت طَالِقٌ فَمَاتَ فُلَانٌ فَصَارَتْ الدَّارُ مِيرَاثًا فَدَخَلَتْ إنْ لَمْ يَكُنْ عَلَى الْمَيِّتِ دَيْنٌ مُسْتَغْرِ...