شادی کارڈ پر "تحفہ صرف دعاؤں کا" لکھنا اور تحفہ قبول کرنا
سوال : محترم مفتی صاحب! اکثر شادیوں کے دعوت نامے پر لکھا ہوتا ہے، تحفہ صرف دعاؤں کا، جسے دیکھ کر مرد حضرات تو مطمئن ہو جاتے ہیں کہ چلو، کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ مگر جب عورتوں میں بات چلتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کے شامیانے میں باقاعدہ کرسی ٹیبل لگا کر وصولی جاری تھی، کوئی منہ دکھائی کے نام پر زیور دے رہا ہے تو کوئی ایک جوڑا کپڑا دے رہا ہے۔ کیا یہ بات مناسب ہے کہ آپ نے دعوت نامے پر دعاؤں کی درخواست کی اور منہ دکھائی کے نام سے تحائف بھی لے رہے ہیں، کپڑے بھی لے رہے ہیں (جہیز کے علاوہ)۔ (المستفتی : عمران الحسن، مالیگاؤں) ------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : شادی کارڈ پر "تحفہ صرف دعاؤں کا" کا لکھنا شرعاً جائز اور درست ہے۔ ہمارے یہاں اس کا یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ دعوت دینے والا تحفہ کے نام پر کوئی بھی چیز قبول نہیں کرے گا، اس لیے کہ تحفہ کے نام پر اب یہ ایک تکلیف دہ رسم بن چکی ہے، اور بہت سے لوگ خوش دلی کے بجائے مجبوراً اور شرما حضوری میں تحائف لے کر آتے ہیں۔ اور بہت سی جگہوں پر ماشاءاللہ اس پر عمل بھی کیا جاتا ہے کہ کسی سے کچھ بھی...