اشاعتیں

2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

طلاق کے ساتھ ان شاءاللہ کہا تو؟

سوال : مفتی صاحب! زید نے ایک مسئلہ سنا کہ اگر کوئی شخص اس طرح اپنی بیوی کو کہے کہ "ان شا اللہ میں تم کو طلاق طلاق طلاق دیتا ہوں، تو طلاق واقع نہیں ہوگی کیونکہ اللہ پاک نہیں چاہتے کہ کسی بندہ کی طلاق ہو۔ کیا یہ بات صحیح ہے؟ نوٹ : زید اپنی بیوی کو جو مسئلہ سنا وہ صرف سمجھانے کیلئے بھی اس طرح کہا ہو تو اس پر کیا حکم ہوگا؟ برائے کرم آپ اس کا جواب عنایت فرمائیں۔ (المستفتی : عبداللہ انجینئر، مالیگاؤں)  ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : طلاق کے لفظ کے ساتھ فوراً یعنی بغیر کسی توقف کے ان شاء اللہ کہا تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔ اسی طرح طلاق سے پہلے ان شاء اللہ کہا تب بھی کوئی طلاق نہیں ہوگی۔ دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ ہے : اگر کسی نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور اس کے بعد فوراً ان شاء اللہ بھی کہا تو اس سے طلاق واقع نہ ہوگی کیونکہ ان شاء اللہ کہنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر اللہ چاہے تو تجھے طلاق ہے، اللہ کی مشیت کسی کو معلوم نہیں، اس لیے ایسی شرط لگانے سے طلاق واقع نہ ہوگی۔ اور اگر طلاق کا جملہ بولا اور کچھ دیر تک توقف کیا پھر کچھ ...

مردوں کا عورتوں کی نقالی کرنا اور ویڈیو بنانا

سوال : مفتی صاحب! مردوں کا عورتوں کی ایکٹنگ کرنا یعنی ان کے جیسے کپڑے پہننا اور ان کے انداز اور لب ولہجہ میں بات کرنا اور اس کی ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر ڈالنا کیسا ہے؟ شریعت کی روشنی رہنمائی فرمائیں اور عنداللہ ماجور ہوں۔ (المستفتی : محمد عبداللہ، مالیگاؤں)  ----------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : عورت کو مرد کی اور مرد کو عورت کی مشابہت اختیار کرنا حرام ہے، حدیث شریف میں آتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے مشابہت اختیار کرنے والے مردوں پر لعنت فرمائی اور مردوں سے مشابہت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔ مرد کا عورتوں سے مشابہت کا مطلب یہ ہے کہ مرد کا عورتوں کی طرح لباس پہننا، ان کے جیسے لمبے بال رکھنا، مٹکنا اور کولھے ہلانا، ہاتھ پاؤں میں مہندی لگانا، عورتوں کی طرح بولنا، ان کی حرکات و سکنات اختیار کرنا یہ سب حرام ہے اور اس پر لعنت کی گئی۔  معلوم ہوا کہ سوال نامہ میں جو باتیں پوچھی گئی ہیں وہ سب ناجائز اور حرام ہیں، ان کے کرنے والے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی لعنت ہے۔ ملحوظ رہنا چاہیے کہ ل...

کیا حضور نے کبھی میدہ کی روٹی تناول فرمائی ہے؟

سوال : محترم مفتی صاحب! ایک ویڈیو میں دیکھا، ایک حضرت نے پیزا، برگر، بریڈ، میگی، نوڈلس وغیرہ کے نقصانات بتاتے ہوئے کہا کہ حضور نبی اکرم صل اللہ علیہ و سلم نے اپنی پوری زندگی میں کبھی میدہ یا میدے کی بنی ہوئی کوئی چیز نہیں کھائی۔ ذہن میں سوال آتا ہے کہ کیا اسوقت میدہ نہیں رہا ہوگا؟ یا آپکو پسند نہیں تھا؟ یا کوئی حکمت پوشیدہ تھی اس میں؟ احادیث میں کہیں ذکر ملتا ہے اس بات کا؟ (المستفتی : عمران الحسن، مالیگاؤں) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : یہ بات درست ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے میدہ یا میدہ کی روٹی تناول نہیں فرمائی جیسا کہ درج ذیل حدیث شریف میں میں آتا ہے۔ ابوحازم کہتے ہیں کہ میں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا آپ نے میدہ دیکھا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک میدہ نہیں دیکھا تھا، تو میں نے پوچھا: کیا لوگوں کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چھلنیاں نہ تھیں؟ انہوں نے جواب دیا : میں نے کوئی چھلنی نہیں دیکھی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو...

دو مرتبہ ثناء والی چار رکعت ؟

سوال : مفتی صاحب! سوشل میڈیا پر یہ مسئلہ کافی وائرل ہے کہ چار رکعت والی سنت غیر مؤکدہ میں دو مرتبہ ثناء پڑھنا چاہیے، کیا یہ بات درست ہے؟ جواب عنایت فرمائیں اور عنداللہ ماجور ہوں۔ (المستفتی : شکیل احمد، مالیگاؤں)  ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : ایک سلام سے چار رکعت نفل یا عصر اور عشاء سے پہلے کی چار رکعت سنت غیر مؤکدہ کو ادا کرنے کا دو طریقہ ہے، ایک طریقہ تو وہی ہے جو مشہور ہے یعنی قعدۂ اولی میں التحیات کے فوراً بعد کھڑا ہوجائے اور تسمیہ پڑھ کر سورہ فاتحہ اور کوئی سورۃ پڑھے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ پہلے قعدہ میں التحیات کے بعد کھڑا نہ ہو بلکہ درود ابراہیم اور دعائے ماثورہ بھی پڑھ لے اور تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوتو پہلے ثناء اور تعوذ وتسمیہ پڑھے اس کے بعد سورہ فاتحہ اور کوئی سورۃ پڑھے۔ اس لیے کہ چار رکعت والی سنتِ غیر مؤکدہ میں ہر دو رکعت مستقل نماز ہے اور تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہونا نئی تکبیرِ تحریمہ کے مرتبہ میں ہے۔ ملحوظ رہنا چاہیے کہ دونوں طریقہ درست ہے، کسی طریقہ کو غلط اور کسی کو صحیح کہنا درست نہیں ہے۔ (قَوْلُ...

خطبہ کے اخیر میں وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ پڑھنا

سوال :  امید ہے کہ مفتی صاحب خیریت سے ہوں۔ ایک مسئلہ ہے کہ جمعہ کے خطبہ ثانیہ میں امام صاحب خطبہ کے اختتام پر واللہ یعلم ما تصنعون کہتے ہیں اس پر کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں، تو کیا امام کا کہنا درست ہے؟ برائے مہربانی مدلل جواب دیجیے۔ (المستفتی : مولوی زید، پونے)  ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : خطبہ ثانیہ کو لفظ "اکبر" پر ختم کرنا شرعاً ضروری نہیں ہے، چنانچہ اگر کوئی امام اس سے آگے کوئی اور مفید جملہ یا کسی آیت کا ٹکڑا مثلاً "وَاِللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ" (ترجمہ : اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو) خطبہ میں بڑھا دے تو یہ خلافِ سنت نہیں ہے۔ کیوں کہ خود آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے لفظ "اکبر" پر خطبہ کو مکمل کرنے کا التزام نہیں فرمایا ہے۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء کا فتوی ہے : دونوں طرح سے پڑھنا درست ہے، مقصود ﷲ تعالیٰ کی عظمت بیان کرنا ہے، وہ درج کردہ تمام الفاظ سے حاصل ہوتے ہیں، وﷲ یعلم ماتصنعون کہنا بھی درست ہے۔ (وَكَفَتْ تَحْمِيدَةٌ أَوْ تَهْلِيلَةٌ أَوْ تَسْبِيحَةٌ) لِلْخُطْبَةِ الْمَفْرُوضَة...

افضل ایمان کس کا؟

سوال : مفتی صاحب! رج ذیل حدیث پاک کی تحقیق مطلوب ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے پوچھا کہ بتاؤ سب سے افضل ایمان کس کو ملا ہے؟ تو صحابہ نے جواب دیا کہ ملائکہ کو تو آپ ؐ نے جواب دیا کہ نہیں کیونکہ انکے سامنے تو اللہ کا غیبی نظام ہے۔ پھر صحابہ نے کہا کہ انبیاء کا تو آپؐ نے جواب دیا کہ نہیں کیونکہ انکے پاس تو وحی آتی ہے۔ پھر صحابہ نے کہا اب تو ہم رہ گئے، تو آپؐ نے کہا کہ تمہارے ساتھ تو اللہ کا نبی ہے تم معجزات کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو غزوات میں فرشتوں کو اترتے دیکھتے ہو۔ پھر صحابہ نے پوچھا کہ اللہ کے رسول پھر کن لوگوں کو سب سے افضل ایمان ملا ہے؟ تو نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ میرے بعد جو لوگ آئیں گے ان کا ایمان سب سے افضل ہو گا کیونکہ انکے سامنے یہ سب کچھ نہیں ہوگا۔ (المستفتی : فیضان احمد، مالیگاؤں) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : سوال نامہ میں جس روایت سے متعلق سوال کیا گیا ہے وہ مکمل درج ذیل ہے۔ حضرت عمرو بن شعیب بواسطہ اپنے والد، اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے ار...

والد کے گھر گئی تو طلاق، پھر والد کے انتقال کے بعد گئی تو؟

سوال :  مفتی صاحب! کسی نے ایک سوال پوچھا ہے کہ اگر کسی شوہر نے بیوی کو کہا کہ اگر تو اپنے والد کے گھر جائے تو تجھے تین طلاق، کچھ دن بعد والد کا انتقال ہو جاتا ہے، تو بیوی والد کے انتقال کے بعد والد کے گھر پہنچتی ہے، تو اس صورت میں طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ کیونکہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اب وہ والد کا گھر نہیں رہا بلکہ وراثت کا حصہ بن چکا ہے، تو اس کا کیا حکم ہوگا؟ (المستفتی : محمد ابوذر، پاچورہ) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : احناف کے نزدیک مفتی بہ قول کے مطابق جب آدمی کا انتقال ہوجائے تو اس کا مکان اس کی ملکیت سے نکل جاتا ہے اور وارثین کی ملکیت میں چلا جاتا ہے۔ چنانچہ جب گھر والد کا نہیں رہا تو عورت کا اپنے باپ کے گھر جانا لازم نہیں آیا۔ جس کی وجہ سے صورتِ مسئولہ میں شوہر کی لگائی ہوئی شرط پوری نہیں ہوئی، لہٰذا کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔  رَجُلٌ قَالَ لِامْرَأَتِهِ : إنْ دَخَلْتِ دَارَ فُلَانٍ فَأَنْت طَالِقٌ فَمَاتَ فُلَانٌ فَصَارَتْ الدَّارُ مِيرَاثًا فَدَخَلَتْ إنْ لَمْ يَكُنْ عَلَى الْمَيِّتِ دَيْنٌ مُسْتَغْرِ...

حج وعمرہ ٹورس کے فراڈ

              اسباب اور حل ✍️ مفتی محمد عامر عثمانی ملی       (امام وخطیب مسجد کوہ نور)  قارئین کرام ! شہر عزیز مالیگاؤں کے لوگوں کا اپنا ایک منفرد انداز ہے، یہاں ٹرینڈ چلتا ہے، وہ اس طرح کے کسی نے کوئی کام یا کاروبار کیا اور اس میں اس کو فائدہ ہوا تو اس کام اور کاروبار میں لوگوں کی ایسی ہوڑ لگتی ہے کہ جب تک یہ کام اور کاروبار برباد نہ ہوجائے اور مذاق نہ بن جائے لوگ رُکتے نہیں ہیں۔ ایسا ہی کچھ معاملہ آپ کو حج وعمرہ ٹورس کے معاملے میں دیکھنے کو ملے گا، جو ایک مرتبہ حج یا عمرہ کرکے آگیا وہ اپنے آپ کو گروپ لیڈر یا ٹور آپریٹر سمجھنے لگتا ہے، اور اس کے بعد وہ کوشش میں لگ جاتا ہے اس کو بھی حج وعمرہ ٹورس چلانا ہے اور پیسے کمانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محلے دو محلے میں آپ کو حج وعمرہ ٹورس کی آفس مل جائے گی۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ شہرِ عزیز مالیگاؤں میں عمرہ ٹورس چلانا کوئی بہت نفع کمانے کا کام نہیں ہے، صحیح بات یہ ہے کہ اگر کوئی ٹور مالک جو 15 یا 20 دن کے پیکج کی سہولیات بتاتا ہے اگر وہ ایمانداری سے اس کو مہیا کرتا ہے تو اس کو ایک سیٹ کے پیچھے ...

صحابی کی داڑھی کے بال سے فرشتوں کا کھیلنا

سوال : مفتی صاحب! کیا کسی روایت میں ایسے صحابی کا ذکر آتا ہے جن کی داڑھی کے صرف ایک یا دو بال تھے اور ان کو اکھاڑنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ ان بالوں پر فرشتے جھولا جھولتے تھے۔ (المستفتی : محمد زید، مالیگاؤں)  ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : سوال نامہ میں جس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اسے مکمل اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ ایک صحابی کی داڑھی میں صرف دو بال تھے۔ جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم انہیں دیکھتے تو مسکراتے۔ وہ صحابیؓ اس بات پر حیران ہوتے۔ بالآخر انہوں نے ان دو بالوں کو مونڈ دیا۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں دیکھا تو ان سے وجہ پوچھی۔ صحابیؓ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میں نے دیکھا کہ آپ جب بھی مجھے دیکھتے ہیں تو مسکراتے ہیں تو مجھے مناسب نہیں لگا، اس لیے میں نے یہ بال مونڈ لیے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : میں دیکھتا تھا کہ فرشتے ان بالوں سے کھیل رہے ہوتے تھے، یہی میری مسکراہٹ کی وجہ تھی۔ معلوم ہونا چاہیے کہ اس طرح کے الفاظ کے...

کیا معذوروں کی وجہ سے ان کے گھر والے مالدار ہوتے ہیں؟

سوال : محترم مفتی صاحب! کیا لوگوں کا یہ سوچنا/کہنا صحیح ہے کہ جس گھر میں پیدائشی طور پر پاگل، عیبی یا پیدائشی مفلوج ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں بے پناہ دولت سے نوازتا ہے؟ شرعی طور ایسا کچھ سننے پڑھنے میں آتا ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔ (المستفتی : عمران الحسن، مالیگاؤں) ----------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : ہم نے یہ بات کئی لوگوں سے سنی ہے اور مشاہدہ بھی ہے کہ بہت سے ایسے گھرانے مالدار ہوتے ہیں جن میں دماغی معذور یا پیدائشی مفلوج افراد ہوتے ہیں۔ لیکن جو لوگ اس طرح کی بات کہتے ہیں وہ عموماً لاعلم افراد ہوتے ہیں، انہیں احادیث وغیرہ کا کوئی علم نہیں ہوتا وہ بس سنی سنائی باتوں کو کہتے رہتے ہیں، جبکہ احادیث میں یہ بات آئی ہے کہ معذوروں، کمزوروں اور مسکینوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے گھر والوں اور ان کا خیال رکھنے والوں کو رزق دیتے ہیں اور ان کو نوازتے ہیں۔ بخاری شریف میں ہے : مصعب بن سعد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سعد بن ابی وقاص کے دل میں خیال آیا کہ ان کو ان کے ماتحت لوگوں پر (کسب معاش میں ان سے زیادہ کوشش کرنے کی وجہ سے) فضیلت حاصل ہے، تو آپ ص...

مردوں کا بالوں میں کلپ یا بینڈ لگانا

سوال : حضرت مفتی صاحب! اسپرنگ نما کالی تار (جسے بعض لوگ بال سنبھالنے کے لیے استعمال کرتے ہیں)، کیا مرد اس کا استعمال کر سکتا ہے؟ خصوصاً اگر کوئی حافظ اسے ٹوپی کے اندر اس نیت سے پہنے کہ بال اپنی جگہ پر رہیں اور باہر سے یہ نظر بھی نہ آئے، تو کیا اس کا استعمال جائز ہے؟ یہ چیز عموماً عورتیں بال سنبھالنے کے لیے استعمال کرتی ہیں، اسی وجہ سے اس کے استعمال کے متعلق شرعی رہنمائی مطلوب ہے۔ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ (المستفتی : حافظ انس، مالیگاؤں)  ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : مردوں کا مسنون بال رکھنے کے لیے کلپ یا بینڈ وغیرہ استعمال کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔ غیر مسنون، فاسقوں اور فاجروں کی طرح بڑے بال رکھنے والوں کے لیے ہی اس طرح کی خرافات کی ضرورت ہوتی ہے، لہٰذا ایسے بڑے بال رکھنا اور اس کو سنبھالنے کے لیے کلپ اور بینڈ لگانا عورتوں کی مشابہت کی وجہ سے ناجائز اور گناہ ہے جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی ان مردوں پر لعنت کرے جو عورتوں سے...

فارماسسٹ کے لیے پانچ لاکھ کی بیمہ پالیسی؟

سوال :  فارماسسٹ سرکشا کوچ یوجنا مہاراشٹر میں تمام رجسٹرڈ فارماسسٹ کے لیے لاگو کیا گیا ہے۔ یہ اسکیم مہاراشٹر کے تمام رجسٹرڈ فارماسسٹ کے لیے مفت میں ہے۔ اس اسکیم کے تحت 5 لاکھ روپے کا حادثاتی بیمہ۔ فارماسسٹ کی حادثاتی موت پر اس کے ورثاء (Nominee) کو ملے گا۔  مفتی صاحب اِس اسکیم میں کوئی پیسہ نہیں بھرنا ہوگا صرف آن لائن فارم بھرنے کا پیسہ لگے گا اُس کے علاوہ کوئی چارج نہیں ہے۔ تو یہ اسکیم لینا شرعاً کیسا ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔ (المستفتی : محمد عاصم، مالیگاؤں) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی یہی بات ہے کہ اس اسکیم کو حاصل کرنے کے لیے کوئی رقم نہیں بھرنا ہے تو چونکہ اسکیم میں حصہ لینے والے کا کوئی پیسہ داؤں پر نہیں لگا ہے، جس کی وجہ سے اس میں جوئے یا سود کا کوئی معاملہ نہیں بنے گا، بلکہ اسے حکومت کی جانب سے امداد اور احسان کہا جائے گا، لہٰذا یہ اسکیم لینا شرعاً جائز ہے۔ قَالَ الْفَقِيهُ أَبُو اللَّيْثِ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي أَخْذِ الْجَائِزَةِ مِنْ السُّلْطَانِ قَالَ...

تیرے جنازہ میں نہیں آؤں گا اور میرے جنازہ میں تو مت آنا

سوال : محترم مفتی صاحب! بہت سارے خاندانی جھگڑے میں اکثر اس طرح کے جملے لوگ اپنے بھائی کے لیے، رشتے دار کے لیے یا کسی کاروباری رقابت کے پیش نظر، ایکدوسرے کے لیے یہ الفاظ "تیرے جنازہ میں نہیں آؤں گا اور میرے جنازہ میں تو مت آنا" استعمال کر دیتے ہیں. کیا یہ مناسب ہے؟ اور اگر کسی نے وصیت کے ذریعے یا مرتے وقت یہ کہہ دیا کہ میری میت میں فلاں کو مت بلانا، تو کیا رشتہ داروں کے لیے مرحوم کی اس وصیت پر عمل کرنا ضروری ہے؟ (المستفتی : عمران الحسن، مالیگاؤں) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر حق ہے کہ جب وہ انتقال کرجائے تو اس کے جنازے میں شریک ہو اور یہ بڑے اجر وثواب کا کام ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص جنازہ کے ساتھ چلا اور اس پر نماز پڑھی تو اس کو ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص میت کی تدفین تک جنازہ کے ساتھ رہا تو اس کو دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا۔ اور یہ قیراط ایسے ہیں کہ ان میں سے چھوٹا قیراط بھی احد پہاڑ جیسا ہے۔ لہٰذا کسی اخ...

اسٹیکر کے ذریعے سلام بھیجنا

سوال : مفتی صاحب! آج کل واٹس ایپ پر اس طرح اسٹیکر کے ذریعے سلام کرنے کا رواج بہت بڑھ گیا ہے۔ عام طور پر جب آدمی سلام لکھتا ہے تو اکثر زبان سے بھی ادا کر لیتا ہے، لیکن اسٹیکر بھیجنے میں غالب گمان یہی ہوتا ہے کہ صرف اسٹیکر سینڈ کر دیا جاتا ہے، زبان سے سلام ادا نہیں کیا جاتا۔ میرا سوال یہ ہے کہ اگر اسٹیکر کے ذریعے سلام بھیجتے وقت زبان سے سلام ادا نہ کیا جائے، تو کیا عام طریقے سے سلام لکھنے اور اسٹیکر کے ذریعے سلام بھیجنے میں ثواب و نیکی کے اعتبار سے کوئی فرق ہوگا؟ (المستفتی : عبدالمطلب، مالیگاؤں)  ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : واٹس اپ وغیرہ پر ریڈی میڈ اسٹیکر کا استعمال بہت عام ہوچکا ہے۔ سلام یا جواب سلام کے لیے اس کا ایک دوسرے کو ارسال کرنا درست ہے، لیکن سلام کا صرف اسٹیکر ارسال کردیا جائے اور زبان سے تلفظ ادا نہ کیا جائے تو سلام کرنے کا ثواب نہیں ملے گا اور نہ ہی جواب دینے کا واجب ادا ہوگا، اس لیے کہ سلام میں اصل زبان سے ادائیگی ہے یا خود لکھنا ہے، اگر یہ نہیں پایا گیا تو ریڈی میڈ اسٹیکر کا کوئی مطلب نہیں رہا۔ نعم إذا...

بالوں سے متعلق شرعی حکم

سوال : مفتی صاحب ! بال رکھنے کا سنت طریقہ کیا ہے؟ کیسے بال رکھنا منع ہے؟ مکمل مفصل جواب عنایت فرمائیں۔ (المستفتی : محمد عبداللہ، مالیگاؤں)  ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : بال رکھنے کے تین طریقے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہیں، یعنی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے موئے مبارک کبھی نصف کان تک کبھی کان کی لَو تک ہوتے اور جب بڑھ جاتے تو شانۂ مبارک سے چُھو جاتے، اس لئے پورے سرپر بال رکھے جائیں یا سب کے سب منڈا دیئے جائیں جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کا معمول تھا۔ یا مساوی طور پر کٹوائے جائیں، کچھ حصہ منڈانا اور کچھ حصہ میں بال رکھنا، یا چھوٹے بڑے اتار چڑھاؤ بال رکھنا جو آج کل فیشن ہے اور انگریزی بال سے موسوم ہے، جس سے عیسائیوں اور فاسقوں، فاجروں کی ہئیت کے ساتھ مشابہت لازم آتی ہے، اور احادیث میں بھی ایسے بال رکھنے کی ممانعت وارد ہوئی ہے وہ احادیث درج ذیل ہیں۔ حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے نبی ﷺ کو قزع سے منع کرتے ہوئے سنا۔ نافع رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ ق...

وضو میں کان اور گردن کے مسح کی حیثیت

سوال : مفتی صاحب! آپ سے گذارش ہے کہ وضو میں کان اور گردن کے مسح کے تعلق سے قرآن حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں کہ گردن اور کان کا مسح کی کیا حیثیت ہے؟ اللہ آپ کو بہترین جزائے خیر دے۔ آمین (المستفتی : محمد شاکر، مالیگاؤں) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : وضو میں کانوں کا مسح کرنا بالاتفاق سنت ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے، جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں کان کے اندرونی حصے کا مسح شہادت کی انگلیوں سے کیا، اور ان کے مقابل اپنے دونوں انگوٹھوں کو کانوں کے اوپری حصے پر پھیرا، اس طرح کان کے اندرونی اور اوپری دونوں حصوں کا مسح کیا۔ (ابن ماجہ)  گردن (گردن کے پچھلا حصہ جسے گدی کہا جاتا ہے) کے مسح کے بارے میں چند روایات آئی ہیں جن میں موقوف روایات کے علاوہ مرفوع روایات بھی ہیں۔ یہ روایات اگرچہ ضعیف ہیں لیکن فضائل اعمال میں ضعیف احادیث سے استدلال جائز ہے اس پر تمام علمائے اہل سنت والجماعت کا اتفاق ہے۔ اور ضعیف حدیث پر عمل کرنا بہتر ہے اس سے کہ اُس عمل کا ان...

روایت "بال چھوٹا بڑا رکھنے والے پر اللہ کی ہر وقت لعنت" کی تحقیق

سوال : مفتی صاحب ! ایک مشہور مقرر کا ایک ویڈیو واٹس ایپ پر چل رہا ہے جس میں مقرر بالوں کے متعلق ایک حدیث بحوالہ بخاری شریف بیان کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں کہ "ہمارے نبی فرماتے ہیں ایک زمانہ آئے گا کہ میرے امتیوں کے سر کے اوپر کچھ حصے پر بال ہوں گے اور کچھ حصے پر نہیں ہوں گے۔ ہمارے نبی نے اس وقت فرمایا جب میرے وہ امتی ائے سمجھنا یہ وہ سر ہیں جن پر 24 گھنٹے اللہ کی لعنت اترتی ہے"  اس حدیث کا حوالہ عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی۔ (المستفتی : مولوی مجاہد، بسمت) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : بالوں کا کوئی حصہ چھوٹا کوئی حصہ بڑا رکھنا منع ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک بچہ کو دیکھا کہ اس کے سر کے بعض حصے کے بال مونڈے ہوئے اور بعض حصے میں بال چھوڑ دیے گئے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے منع فرمایا، اور ارشاد فرمایا کہ : (اگر بال مونڈنا ہو تو) پورے سر کے بال مونڈو (اور اگر بال رکھنے ہوں تو) پورے سر پر بال رکھو۔ چھوٹے بڑے بال رکھنا ناجائز اور گناہ کی بات ہے جس سے بچنا ضروری ہے، لیکن سو...

شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی کا گھومنے جانا

سوال : محترم مفتی صاحب ! اِدھر کچھ عرصے سے شہر عزیز میں دیکھا جا رہا ہے کہ، بیویاں مائیکے جاتی ہیں تو وہاں سے اپنی بہنوں/سہیلیوں کے ساتھ (چاہے ساتھ میں کوئی بزرگ خالہ ہو، ماں ہو، مگر محرم مرد نہیں ہوتا) کے ساتھ شہر کے اطراف ہوٹلوں میں ، کیمپ میں موجود بہت سارے گارڈن، عید گاہ گراؤنڈ میں کھانے کھیلنے کی جگہ بنام چوپاٹی، وغیرہ پر سیر و تفریح کے لیے نکل جاتی ہیں. اور اب نیا سلسلہ یہ ہے کہ شہر کے مغربی علاقے میں D - Mart چلی جاتی ہیں۔ موتی باغ ناکہ سے گرنا پل ہوتے ہوئے بیشمار خواتین بچوں کے ساتھ پیدل دکھائی دیتی ہیں۔ کچھ معاملات اس طرح بھی ہوئے کہ جمعہ کا دن ہونے کی وجہ سے شوہر اپنے دوستوں کے ساتھ کہیں نکلا تو بیوی مع سہیلیوں یا بہنوں کے اس سے ملاقات ہو گئی. لفظی نوک جھوک پر بیوی یا بہن، کا کہنا ہوتا ہے کہ تم بھی تو گھومنے نکلے ہو نا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح بغیر شوہر کے علم میں لائے بیوی مائیکے سے بغیر محرم، یا پھر محرم کے ساتھ کہیں گھومنے پھرنے جا سکتی ہے؟ ہو سکتا ہے کہ لوگ اس معاملے کو اگنور کرتے ہوں، مگر آگے چل کر یہ معاملہ بڑھتے جائے گا۔ (المستفتی : عمران الحسن، مالیگاؤں) ------------...

کسی مکان کو آسیب زدہ کہنا

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ : زید نے مالیگاؤں کے ایک مشہور محلہ میں ایک مکان خریدا اور اسے نئے سرے سے آر سی سی (RCC) کے ذریعے ایک منزلہ مضبوط گھر تعمیر کیا۔ تعمیر مکمل ہونے تک محلے کے کسی فرد نے اس گھر کے متعلق کوئی ایسی بات یا افواہ نہیں پھیلائی کہ اس میں جنات یا شیاطین کا اثر ہے۔ الحمد للہ! زید تقریباً دو سال تک اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ اسی گھر میں امن، عافیت اور خوشحالی کے ساتھ رہا، اور اس دوران کسی قسم کا کوئی غیر معمولی واقعہ پیش نہیں آیا۔ بعد ازاں کسی مجبوری کی بنا پر زید کو اپنا گھر فروخت کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ جب اس نے دلالوں اور اہلِ محلہ کے ذریعے گھر فروخت کرنے کی کوشش کی تو بعض افراد نے یہ افواہ پھیلانا شروع کر دی کہ اس گھر میں بہت بڑی "شے" ہے، اور جو بھی اس گھر میں رہے گا وہ اچانک موت کا شکار ہو جائے گا۔ حالانکہ یہ بات حقیقت کے بالکل خلاف ہے، کیونکہ خود زید اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ دو سال تک اس گھر میں خیریت سے رہا اور کوئی نقصان یا غیر معمولی واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس کے باوجود ان افواہوں کی وجہ سے کوئی بھی شخص گھر خریدنے یا ...

میت کے وزنی ہونے کی وجہ؟

سوال : مفتی صاحب ! کسی کے انتقال پر کچھ لوگوں کو کہتے سنا مٹی بھاری ہوگئی ہے۔ یعنی میت وزنی ہے، اس کا کیا مطلب ہے؟ ایسا کہنا درست ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔ (المستفتی : محمد زید، مالیگاؤں) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : آدمی کے انتقال کے بعد اس کا جسم وزنی ہوجانا شرعاً کوئی عیب کی بات نہیں ہے۔ بعض بیماریوں میں میت کا جسم وزنی ہوجاتا ہے۔ لہٰذا یہ سمجھنا کہ میت کے گناہوں کی وجہ سے اس کا جسم وزنی ہوگیا ہے بدگمانی ہے جو شرعاً ناجائز اور گناہ کی بات ہے جس سے بچنا ضروری ہے۔ یَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ۔ (سورہ الحجرات، آیت : ١٢) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ ؛ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلَا تَحَسَّسُوا ، وَلَا تَجَسَّسُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَدَابَرُوا ، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا۔ صحیح البخاری، رقم : ٦٠٦٤)فقط  واللہ تعالٰی اعلم  محمد عامر ع...

مغرب کے وقت کھانا کھانے کا حکم

سوال : جمعرات کو مغرب کے وقت مردوں کو کھانا تقسیم ہوتا ہے؟ بڑے بوڑھے اسوقت بچوں کو کھانا دینے سے منع کرتے ہیں۔ اس کی کیا حقیقت ہے؟  (المستفتی : ڈاکٹر طارق، مالیگاؤں)  ----------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : غیر روزہ دار کے لیے کسی بھی وقت کھانے کی ممانعت نہیں ہے، جب بھوک لگے وہ کھانا کھا سکتا ہے۔ چنانچہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : جب شام کا کھانا حاضر ہو جائے تو مغرب کی نماز سے پہلے کھانا کھا لو اور اپنا کھانا چھوڑ کر نماز کی طرف جلدی مت کرو۔ مطلب یہ ہے کہ جب کھانا حاضر ہو جائے اور نماز کا وقت بھی قریب آ جائے تو نماز پڑھنے سے قبل کھانے کو تناول کرلو اگر چہ نماز کا وقت تھوڑا یا محدود وقت ہو جیسا کہ نماز مغرب ہے، تاکہ نمازی کا ذہن کھانے میں مشغول نہ رہے۔ حضرت ابو درداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انسان کی عقلمندی اسی میں ہے کہ پہلے وہ اپنی حاجت پوری کر لے تاکہ جب وہ نماز میں کھڑا ہو تو اس کا دل فارغ ہو۔  مسئلہ ھذا میں دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ ملاحظہ فرمائیں : میرے گھر پر ا...

کیا کسی کو خون دینا ثواب کا کام ہے؟

سوال : مفتی عامر عثمانی صاحب امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ ضروری گزارش یہ ہیکہ زچکی کیلئے رات 2 بجے ایک عورت کو ہاسپٹل میں بھرتی کروایا گیا اس عورت کی جب خون کی جانچ کی گئی تو اس کے بدن میں خون کم تھا۔ جس کی وجہ سے اس عورت کی جان خطرے میں تھی اب ایسے سنگین وقت میں اس عورت کے رشتے دار جب خون کیلئے بلڈ ڈونر گروپ چلانے والوں سے رابطہ کیا تو آدھی رات کو بلڈ ڈونر گروپ کے ذمہ داران نے اس عورت کو جس گروپ کا خون لگ رہا تھا اس گروپ کے ڈونر کو ڈھونڈکر اس مریض کے رشتے دار کو دیا اس طرح ایک ڈونر مطلب ایک انسان نے اپنا خون فی سبیل اللہ عطیہ کیا اس نیت سے کہ کسی کی جان بچ جائے اور بلڈ ڈونر گروپ کے زمہ داران نے بھی ڈونر کو اسی نیت سے تلاش کیا کہ زچہ و بچہ دونوں کی جان بچ جائے کیا یہ عمل شریعت میں غیر ثواب کا عمل ہے؟ یا اس سے نیکی یا ثواب ملے گا؟ جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں نوازش ہوگی۔ (المستفتی : محمد اسامہ، مالیگاؤں) ----------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : خون انسانی جسم کا ایک اہم اور بنیادی جزء ہے جس سے انسانی زندگی کی حیات اور بقا...

حاجی کی دعا کب تک قبول ہوتی ہے؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین درمیان مسئلہ ھذا کے کہ حاجی کی دعا کب تک قبول ہوتی ہے؟ سننے میں آیا ہے کہ چالیس دن تک قبول ہوتی ہے؟ اور یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ بارہ ربیع الاول تک قبول ہوتی ہے۔ اس کی کیا حقیقت ہے؟ واضح فرمائیں۔ (المستفتی : محمد حذیفہ، مالیگاؤں)  ----------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : متعدد صحیح یا حسن درجہ کی احادیث میں بغیر کسی مدت کے یہ مضمون وارد ہوا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : حاجی اور جس کے لئے حاجی مغفرت کی دعا کرے، دونوں کی مغفرت کردی جاتی ہے۔ (1) متعدد ضعیف اور منقطع روایات میں حاجی کی قبولیتِ دعا کی مدت کا ذکر آیا ہے۔ اور یہ روایات دو طرح کی ہیں۔ مرفوع یعنی وہ روایت جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی جانب روایت کو منسوب کیا گیا ہو، اس میں ماہ محرم کے گزرنے تک دعا کی قبولیت کا ذکر ہے جو درج ذیل ہیں۔ ١) علامہ فاکہی رحمہ اللہ نے اپنی سند سے معاویة سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :حاجی، اورجس کے لیے حاجی مغفرت کی دعا کرے، ماہ محرم کے...

روایت "عالم ارواح میں جس نے جتنی مرتبہ لبیک کہا ہوگا وہ اتنی مرتبہ حج کے لیے جائے گا" کی تحقیق

سوال : مفتی صاحب! کیا یہ بات صحیح ہے کہ عالم ارواح میں جس نے جتنی بار حضرت ابراهیم علیہ السلام کی آواز پر لبيك کہا ہے، وہ اتنی بار حج پر جاتا ہے؟ جواب مرحمت فرمائیں۔ (المستفتی : حافظ ابوذر، مالیگاؤں)  ----------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : قرآن مجید کی آیت کریمہ وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ الخ کی تفسیر میں یہ روایت ملتی ہے جو مکمل درج ذیل ہے : سیدنا حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے بیت اللہ شریف کی تعمیر فرمائی (جس کے آثار طوفانِ نوح کے بعد مستور ہوچکے تھے) تو تعمیر مکمل ہونے پر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ : وَاَذِّنْ فِیْ النَّاسِ بِالْحَجِّ یَأْتُوْکَ رِجَالاً وَّعَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ یَّأْتِیْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ۔ (الحج : ۲۷) ترجمہ : آپ لوگوں میں حج کا اعلان فرمادیں، وہ چلے آئیں آپ کے پاس پیدل اور دبلے دبلے اونٹوں پر سوار ہوکر، چلے آئیں دور دراز راہوں سے۔ سیدنا حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے عرض کیا کہ الٰہ العالمین! میری آواز آخر کہاں تک پہنچے گی؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اعلان ت...

حرمین شریفین کے مٹی پتھر لانا

سوال : مفتی صاحب! کیا حرمین شریفین کے مٹی یا پتھر اپنے ساتھ لا سکتے ہیں؟ اگر کوئی لے آئے تو کیا یہ مٹی پتھر اسے بد دعا دیتے ہیں؟ جس کی وجہ سے لانے والے کے معاشی اور جسمانی حالات خراب ہوجاتے ہیں؟ رہنمائی فرمائیں۔ (المستفتی : محمد عبداللہ، مالیگاؤں)  ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : حرمین شریفین یعنی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مٹی پتھر لانا فی نفسہ جائز ہے۔ دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ ہے : تھوڑی موڑی مٹی تبرک کے طور پر مدینہ منورہ سے لانے میں کوئی حرج نہیں ہے، لوگوں کا اس پر اعتراض کرنا، یا اس کو حرام کہنا صحیح نہیں۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۰/ ۳۶۶)  جواب درست ہے، البتہ اس سے کوئی غلط عقیدہ متعلق نہ ہونا چاہیے۔ (رقم الفتوی : 158561)  جامعہ بنوری ٹاؤن کا فتوی ہے : "جنت البقیع" اگرچہ بہت مبارک قبرستان ہے کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے اس کی فضیلت بیان فرمائی ہے، لیکن چوں کہ یہ وقف قبرستان ہے، اس لیے یہاں سے انتظامیہ کی اجازت کے باوجود بھی مٹی اٹھاکر لانا جائز نہیں ہے، البتہ مدینہ منورہ یا مکہ مکرمہ کی مٹی کو تبرک کی ...

روایت "اللہ کے راستے کی دعا بنی اسرائیل کے انبیاء کی دعا طرح قبول ہوتی ہیں" کی تحقیق

سوال : محترم مفتی صاحب! اکثر تبلیغی جماعت اور دینی کام سے وابستہ بعض ساتھیوں سے یہ بات سننے میں آتی ہے کہ "اللہ کے راستے میں نکلنے والوں کی دعائیں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کے انبیاء علیہم السلام کی دعاؤں کی طرح قبول فرماتے ہیں" یا یہ کہ "جماعت میں نکلنے والے کی دعا خاص طور پر قبول ہوتی ہے۔" حضرت سے گزارش ہے کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس بات کی وضاحت فرمائیں کہ آیا اس مضمون کی کوئی صحیح اور معتبر دلیل موجود ہے یا نہیں؟ نیز اگر اس بارے میں کوئی حدیث یا شرعی اصل ہو تو اس کی بھی رہنمائی فرمائیں، اور اگر یہ بات درست نہ ہو تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ (المستفتی : حافظ انس، مالیگاؤں) ----------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : تبلیغی جماعت میں نکل کر سفر کرنا لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے کی محنت کرنا یہ فی سبیل اللہ اور اللہ کے راستے میں داخل ہے اور حدیث شریف میں آیا ہے کہ مسافر کی دعا قبول ہوتی ہے، اب اگر یہ سفر دین کی بنیاد پر ہوتو ایک عام دنیاوی غرض کے مسافر کی بہ نسبت اس کی دعا بدرجہ اولی قبول ہوگی، لیکن سوال نامہ میں جو ...

نکاح کے موقع پر سہرا پڑھنا

سوال : مفتی صاحب ! نکاح سے پہلے جو سہرا پڑھا جاتا ہے وہ پڑھنا بظاہر اچھا لگتا ہے، الفاظ میں کوئی غلط بات نظر نہیں آتی، کیا اس کی گنجائش ہوسکتی ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔ (المستفتی : حافظ افتخار، مالیگاؤں) ----------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : نکاح کے موقع پر گھر پر شرعی حدود میں رہتے ہوئے چند اشعار پڑھ دینا جائز ہے۔ لیکن ہمارے یہاں جو سہرا پڑھا جاتا ہے اس میں متعدد قباحتیں ہوتی ہیں جو درج ذیل ہیں۔ ایک تو یہ کہ لاؤڈ-اسپیکر لگاکر تقریباً ایک گھنٹے تک سہرا پڑھا جاتا ہے اور پوری گلی بلکہ محلے والوں کی ناک میں دم کردیا جاتا ہے جو بلاشبہ ایذائے مسلم میں داخل ہونے کی وجہ سے ناجائز اور گناہ کی بات ہے۔ دوسرے یہ کہ جب سہرا پڑھا جاتا ہے اس وقت مرد وزن کا اختلاط ہوتا ہے، جن لوگوں کا نام سہرے میں آتا ہے بالخصوص خواتین بے پردگی کے ساتھ مجمع میں پہنچ کر سہرا پڑھنے والے کو رقم دیتی ہیں، لہٰذا بے پردگی کی وجہ سے بھی عمل ناجائز ہے۔ تیسرے اس سہرا پڑھنے کی وجہ سے نکاح کے متعینہ وقت میں کافی تاخیر ہوتی ہے جو وعدہ خلافی اور شرعاً گناہ کی بات ہے۔ دارالعلوم د...

معلمات کے ساتھ سوتیلا سلوک کیوں؟

✍️ مفتی محمد عامر عثمانی ملی    (امام وخطیب مسجد کوہ نور) قارئین کرام! شہر عزیز مالیگاؤں میں بچے اور بچی دونوں کے لیے دینی بنیادی تعلیم کے ساتھ دینی اعلی تعلیم کا معیاری نظام الحمدللہ بہت بڑے پیمانے پر قائم ہے جو آپ کو دیگر علاقوں میں دیکھنے کو نہیں ملے گا۔ ان اداروں میں اپنی بے لوث خدمات انجام دینے والے مرد حضرات کے ساتھ بڑی تعداد خواتین کی ہے جو عالمات اور حافظات ہوتی ہیں۔ یہ معلمات پابندئ وقت، بلاناغہ اور بڑی جانفشانی کے ساتھ دینی خدمات انجام دیتی ہیں، لیکن انتہائی حیرت ناک بلکہ افسوس ناک اور شرمناک بات یہ ہے کہ ان کی تنخواہیں معلمین کی بہ نسبت نصف ہوتی ہیں، جبکہ ان کی پابندی، حاضری اور کارکردگی معلمین سے کم نہیں ہوتی،  ایک شفٹ میں دو گھنٹے پڑھانے والے معلمین کی ماہانہ تنخواہ فی الحال دو تین ہزار ہے تو معلمات کی تنخواہ ہزار اور پندرہ سو ہی رہتی ہے، جبکہ یہ مرد حضرات سے زیادہ قربانی دے کر مدرسہ پہنچتی ہیں، اس لیے کہ ان کے پیچھے گھریلو کام کاج اور بچوں کی ذمہ داری بھی ہوتی ہے جبکہ مرد حضرات اس سے مستثنٰی ہوتے ہیں۔ ان میں سے بہت ساری معلمات مطلقہ یا بیوہ ہوتی ہیں جو اکیلے...

اتی کرمن مخالف مہم

کیا پھر بے فائدہ ثابت ہوگی؟   ✍️ مفتی محمد عامرعثمانی ملی  (امام و خطیب مسجد کوہ نور) قارئین کرام ! ہر سال کی طرح امسال بھی شہر عزیز مالیگاؤں میں اتی کرمن ہٹاؤ مہم دو تین ہفتوں سے جاری ہے۔ اس مرتبہ خاص بات یہ ہے کہ انتظامیہ کو حرکت میں لانے کا کام شہر کی تمام سیاسی جماعتوں بالخصوص بر سراقتدار نے کیا ہے، اس میں ایک سیاسی لیڈر کا نام بہت زیادہ چرچا میں ہے کہ ان کی ذاتی دلچسپی سے یہ مہم بڑے پیمانے پر چلائی جارہی ہے، بلاشبہ یہ انتہائی اہم اور پورے شہر کے لیے مفید مہم ہے، اس کی حوصلہ افزائی کرنا ہم اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں اور کچھ سنجیدہ، فکرانگیز اور مفید باتیں اتی کرمن کرنے والوں اور انتظامیہ و بر سراقتدار سے اس مضمون اور سوشل میڈیا کے ذریعے کرنا چاہتے ہیں، اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین  محترم قارئین ! متاثرین یعنی جن لوگوں نے سڑکوں پر اتی کرمن کر رکھا ہے ان تمام افراد سے مؤدبانہ، مخلصانہ اور عاجزانہ درخواست ہے کہ آپ اس حقیقت کو بہرحال تسلیم کرلیں کہ اتی کرمن اور سڑکوں پر قبضہ کرلینا شرعاً ناجائز اور گناہ کی بات ہے۔ اور اگر اس سے راستہ چ...

ایسے رکشہ پر نہ بیٹھیں

✍️ مفتی محمد عامر عثمانی ملی     (امام وخطیب مسجد کوہ نور)  قارئین کرام ! شہر عزیز مالیگاؤں اپنی دینی شناخت کی وجہ سے دور دور تک مشہور ہے، یہاں کی خواتین اپنے پردہ کی وجہ سے احترام کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں، یہ پردہ نشین خواتین اگر کسی ضرورت کے تحت گھر سے باہر نکلتی ہیں اور انہیں کہیں جانا ہوتو یہ اپنے محرم مردوں کے ساتھ بائک پر چلی جاتی ہیں، لیکن اگر یہ ایک سے زائد ہوں تو پھر انہیں سواری کے لیے رکشہ کی ضرورت پڑتی ہے جو ہمارے یہاں بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ضرورت سے زیادہ رکشہ ہیں جس کی وجہ سے سڑکوں پر ٹرافک کا نظام بھی درہم برہم ہوتا رہتا ہے۔ فی الحال ہمارا موضوع یہ ہے کہ خواتین بڑی تعداد میں سواری کے لیے رکشہ کا اہتمام کرتی ہیں، لیکن دیکھنے اور سننے میں آرہا ہے کہ بعض ہمارے رکشہ والے ایسے ہیں جنہوں نے اپنے رکشہ کو باقاعدہ اسٹوڈیو کی شکل دے دی ہے جس میں انتہائی تیز آواز اور دھمک کے ساتھ میوزک اور گانے بجتے اور لائٹس جلتی اور بند ہوتی ہیں۔ یہ رکشے والے انتہائی لا ابالی اور غافل قسم کے ہوتے ہیں، تیز آواز سے گانے بجاتے ہوئے عام راستوں کے ساتھ سات...

بیٹی کی پیدائش پر اللہ کا اس کے باپ کا بازو بننا؟

سوال : محترم مفتی صاحب! ایک بات یہ بھی سننے میں آئی ہے جب بیٹا پیدا ہوتا ہے تو اللہ تعالٰی اسے باپ کا بازو بناتے ہیں اور اگر بیٹی پیدا ہوتی ہی تو اللہ تعالٰی خود باپ کا بازو بن جاتے ہیں۔ اس کی کیا حقیقت ہے؟ (المستفتی : وصی احمد، مالیگاؤں) ----------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : بیٹی کی پیدائش بلاشبہ باعث خیر وبرکت ہے بشرطیکہ اس کی اچھی تعلیم وتربیت کی جائے۔ لیکن آپ نے جس روایت سے متعلق سوال کیا ہے وہ معتبر نہیں ہے شیخ مازن بحصلی (ابو معاویہ البیرونی) نے اسے بے اصل لکھا ہے، لہٰذا اس کا بیان کرنا درست نہیں ہے۔ إن الله ينفخ في الولد فيقول له:اذهب فأنت عون لأبيك؛ وينفخ في البنت فيقول لها: اذهبي وأنا عون لأبيك”. تحقیق : قال أبومعاوية البيروتي : يُذكَر عند ولادة البنت، ولا أصل له۔فقط  واللہ تعالٰی اعلم  محمد عامر عثمانی ملی  25 شوال المکرم 1447 

پاکی کے غسل کے لیے نیت کرنا

سوال : مفتی صاحب! کیا حیض اور ناپاکی سے غسل کے لیے نیت کرنا ضروری ہے؟ اگر نیت نہیں کی تو غسل ادا نہیں ہوگا؟ اور عبادت ادا نہیں ہوگی؟ رہنمائی فرمائیں شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔ (المستفتی : محمد نعمان، مالیگاؤں)  ----------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : ناپاکی خواہ حیض یا نفاس کی ہو یا پھر جنابت کی۔ اس سے پاکی حاصل کرنے کے لیے غسل کے فرائض کا ادا ہونا ضروری ہے۔ اور غسل کے فرائض میں نیت کرنا نہیں ہے۔ بغیر نیت کے بھی غسل درست ہوجاتا ہے۔ دارالعلوم دیوبند کا فتوی ہے :  بلا نیت صرف فرائض غسل ادا کرلینے سے بھی غسل ہوجاتا ہے، ہاں جنابت سے پاکی کی نیت بھی کرلے تو اچھا ہے۔ (رقم الفتوی : 12019)  معلوم ہوا کہ بغیر نیت کے غسل درست ہوجاتا ہے اور ناپاک شخص پاک ہوجاتا ہے، لہٰذا جو کہتا ہے کہ نیت کے بغیر غسل ادا نہیں ہوتا اور نہ ہی عبادت ادا ہوتی، اس کا قول درست نہیں ہے۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ غسل کے وقت ناپاکی سے پاک ہونے کی نیت کرلی جائے۔ يُسَنُّ أَنْ يَبْدَأَ بِالنِّيَّةِ بِقَلْبِهِ وَيَقُولَ بِلِسَانِهِ نَوَيْت الْغُسْلَ لِرَفْ...

کیا حجر اسود پہلے سفید تھا؟

سوال : محترم مفتی صاحب! سننے میں آتا ہے کہ حجر اسود پہلے سفید تھا، لوگوں کے گناہوں کو جذب کرکے وہ کالا ہوگیا ہے، کیا یہ بات درست ہے؟ براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔ (المستفتی : نعیم احمد، مالیگاؤں) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : حجر اسود جنت کا پتھر ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے گناہ جذب کرنے کی تاثیر رکھی ہے، حدیث شریف میں آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : جس وقت حجر اسود جنت سے اترا تو وہ دودھ سے زیادہ سفید تھا، پھر بنی آدم کے گناہوں نے اسے سیاہ کردیا۔ (1) ایک روایت میں آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : حجرِ اسود اور مقامِ ابراہیم جنت کے یاقوتوں میں دو یاقوت ہیں، اگر اللہ تعالیٰ ان کی روشنی کو ختم نہ فرماتے تو یہ پوری زمین وآسمان کو روشن کردیتے۔ (2) دارالعلوم دیوبند کا فتوی ہے : حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب یہ پتھر جنت سے اتارا گیا تو یہ دودھ سے بھی زیادہ سفید تھا: وکان أبیض من اللبن ولکن سودتہ خطایا بني آدم یعنی وہ پتھر پہلے دودھ سے بھی زیادہ سفید تھا، لیکن بنی آدم کی خطاوٴں نے اس...

رمضان، مشرق میں سرخ ستون اور ایک سال کی ذخیرہ اندوزی؟

سوال : إذا رأيتمْ عمودًا أحمرَ منْ قِبلَ المشرقِ في شهرِ رمضانَ فادَّخِروا طعامَ سنتِكم، فإنَّها سنةُ جوعٍ ترجمہ : جب تم رمضان کے مہینے میں مشرق کی جانب آگ کا ستون دیکھ لو، تو ایک سال کے خوراک کا ذخیرہ کرو۔ مفتی صاحب!  اس حدیث کی تحقیق مطلوب ہے اور  کیا یہ حدیث آج کے حالات پر منطبق ہوتی ہے؟ (المستفتی : شمس العارفین، مالیگاؤں) ----------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : سوال نامہ میں مذکور روایت کو امام طبرانی نے المعجم الاوسط میں ذکر کیا ہے۔ لیکن اس روایت میں ایک راوی احمد بن رشدین کو ائمہ جرح وتعدیل نے متہم بالکذب اور ایک راویہ ام عبداللہ بنت خالد بن معدان کو مجہول اور منکر لکھا ہے، جس کی وجہ سے بہت سے محققین علماء نے اس روایت کو غیرمعتبر قرار دیا ہے۔ لہٰذا جب یہ روایت معتبر ہی نہیں ہے تو پھر اس کو موجودہ حالات پر منطبق کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بعض علماء کے نزدیک یہ روایت معتبر ہو تب بھی رمضان المبارک میں ایران میں آئیل ڈپو پر میزائیلوں کے گرنے اور وہاں آگ کے شعلے اٹھنے کو سرخ ستون مراد لینا درست نہیں ہے۔ اس لیے کہ جن ...

شرٹ پر کرسچن لکھا ہونا یا صلیب بنی ہونا

سوال : مفتی صاحب! ایک شرٹ کا برانڈ ہے جسکا نام کرسچن ڈیور ہے اور سلیب کا نشان بھی بنا ہوا ہے۔ یہ پہننا کیسا ہے اور اس پر نماز ہو جائے گی؟ مالیگاؤں میں کافی لوگ پہن رہے ہیں۔ (المستفتی : شاداب انجینئر، مالیگاؤں) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : عیسائیوں کو کرسچن کہا جاتا ہے اور Dior (ڈائر) فرانسیسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی گولڈن کے آتے ہیں۔ کرسچن ڈائر اگرچہ ایک برانڈ کا نام ہے، لیکن چونکہ کرسچن لفظ بہرحال ایک مذہب کی طرف منسوب ہے۔ اس لیے کسی مسلمان کے لیے ایسے کپڑے پہننا جس پر کسی دوسرے مذہب کا نام لکھا ہو دیگر مسلمانوں کے لیے کھٹک کا باعث بنے گا، جس پر نماز پڑھنا بھی کراہت سے خالی نہیں ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں کرسچن ڈائر لکھی ہوئی ٹی شرٹ پہننے سے بچنا ضروری ہے۔ صلیب کا نشان عیسائیوں کا مذہبی شعار اور ان کی پہچان ہے، اس لیے مسلمانوں کے لیے ایسے کپڑے پہننا جس میں صلیب بنی ہوئی ہو ناجائز ہے۔ اگر ایسے کپڑوں میں نماز پڑھی جس میں پر صلیب بنی ہوئی ہے تو یہ نماز بھی مکروہ تحریمی ہوگی۔ (وَلُبْسُ ثَوْبٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ) ذِي رُوحٍ،...