مردوں کا بالوں میں کلپ یا بینڈ لگانا

سوال :

حضرت مفتی صاحب! اسپرنگ نما کالی تار (جسے بعض لوگ بال سنبھالنے کے لیے استعمال کرتے ہیں)، کیا مرد اس کا استعمال کر سکتا ہے؟ خصوصاً اگر کوئی حافظ اسے ٹوپی کے اندر اس نیت سے پہنے کہ بال اپنی جگہ پر رہیں اور باہر سے یہ نظر بھی نہ آئے، تو کیا اس کا استعمال جائز ہے؟ یہ چیز عموماً عورتیں بال سنبھالنے کے لیے استعمال کرتی ہیں، اسی وجہ سے اس کے استعمال کے متعلق شرعی رہنمائی مطلوب ہے۔ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
(المستفتی : حافظ انس، مالیگاؤں) 
------------------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم 
الجواب وباللہ التوفيق : مردوں کا مسنون بال رکھنے کے لیے کلپ یا بینڈ وغیرہ استعمال کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔ غیر مسنون، فاسقوں اور فاجروں کی طرح بڑے بال رکھنے والوں کے لیے ہی اس طرح کی خرافات کی ضرورت ہوتی ہے، لہٰذا ایسے بڑے بال رکھنا اور اس کو سنبھالنے کے لیے کلپ اور بینڈ لگانا عورتوں کی مشابہت کی وجہ سے ناجائز اور گناہ ہے جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی ان مردوں پر لعنت کرے جو عورتوں سے مشابہت اختیار کرنے والے ہیں اور ان عورتوں پر جو مردوں سے مشابہت اختیار کرنے والی ہوں۔ (بخاری) 

لہٰذا مسنون بال رکھنے والوں کو بھی ہیئر کلپ یا بینڈ لگانے سے بچنا چاہیے۔


عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ، وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ۔ (صحیح البخاری، رقم : ٥٨٨٥)فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
09 صفر المظفر 1448 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مستقیم بھائی آپ سے یہ امید نہ تھی

ایرانی لیڈر کی موت اور ہمارا طرزِ عمل؟