ایرانی لیڈر کی موت اور ہمارا طرزِ عمل؟
✍️ مفتی محمد عامر عثمانی ملی
(امام وخطیب مسجد کوہ نور)
قارئین کرام! تین دن پہلے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کی خبریں موصول ہوئی اور اسی کے ساتھ یہ اطلاع بھی ملی کہ اسی حملہ میں ایران اور پورے عالم روافض کے سب سے بڑے لیڈر اس حادثے میں مارے گئے ہیں۔ جیسے ہی اس خبر کی تصدیق ہوئی تو سوشل میڈیا پر جذباتی نوجوانوں (جنہیں نہ شریعت کا علم ہے اور نہ تاریخ کا) نے ایرانی لیڈر کی تصویریں اپنے اسٹیٹس اور سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر لگانا شروع کردیا۔ کوئی اسے شہید کہہ رہا ہے تو کوئی اسے معاذ اللہ سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے تشبیہ دے رہا ہے، کوئی اسے شیر لکھ رہا ہے تو کوئی اسے عالم اسلام کا ہیرو قرار دے رہا ہے۔ غرض یہ کہ سوشل میڈیا پر بے گانی شادی میں عبداللہ دیوانوں کی بھیڑ لگی ہوئی ہے۔
معلوم ہونا چاہیے کہ ایران کی جنگ کوئی فلسطین اور غزہ والوں کے لیے نہیں ہے۔ یہ ان کی اپنی ذاتی لڑائی ہے جس میں یہ لوگ فلسطینی مسلمانوں کو چارہ اور پورے عالم کے مسلمانوں کو جذباتی بناکر دھوکہ میں ڈالے ہوئے ہیں۔
ہمارے ایمان کا حصہ یعنی حضور اکرم صلی اللہ علیہ کے جاں نثار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے بارے میں ان کے عقائد انتہائی دلسوز اور خطرناک ہیں، خامنہ ای کے پیشرو خمینی صاحب اپنے ایک بڑے رافضی عالم ملا باقر مجلسی کے بہت بڑے مداح ہیں اور اپنی کتاب "کشف الاسرار" میں رافضیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ اس کی کتابیں پڑھا کریں۔ اسی مجلسی نے اپنی کتاب حق الیقین صفحہ ۳۶۷ پر بدترین بات لکھی ہے (جس کی نسبت معاذ اللہ) حضرت باقر رحمہ اللہ کی طرف کی ہے۔
ترجمہ : جب امامِ غائب ظاہر ہوں گے تو عائشہ کو قبر سے نکال کر ان پر حد لگائیں گے۔ معاذ اللہ
روافض اپنے بارہ ائمہ کو انبیاء کرام علیہم السلام سے افضل بتاتے ہیں، حضرات شیخین حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو مرتد کہتے ہیں۔ معاذ اللہ
اس لیے ہم بھی انہیں ڈنکے کی چوٹ پر کافر کہتے ہیں، ان کی جنگ میں مارے جانے والے کسی بھی لیڈر کو شہید کہنے اور ان کے لیے دعائے مغفرت کو جائز نہیں سمجھتے۔
یہ بات بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہر مرتبہ دشمن کا دشمن دوست نہیں ہوتا۔ بسا اوقات وہ بھی آپ کا دشمن ہی ہوتا ہے۔ یہودی ہمارے دشمنِ اول ہیں، لیکن بظاہر ان کے دشمن یہ لوگ بھی ہمارے خیر خواہ نہیں ہیں۔
اسی طرح اس سلسلے میں عرب ممالک کا کردار بہت زیادہ افسوسناک اور مجرمانہ ہے، یہ لوگ امریکی اور اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف آواز تو کیا اٹھاتے؟ بلکہ یہ خود ان کے معاون اور آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالٰی انہیں اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
خلاصہ یہ کہ ایرانی لیڈر کی موت پر ہمیں نہ تو جشن منانا ہے اور نہ ہی بہت زیادہ غم منانے کی ضرورت ہے، جشن اس لیے نہیں منانا ہے کہ ایرانی لیڈر کی موت سے امریکہ اور اسرائیل جیسے اسلام اور مسلمانوں کے کٹر دشمنوں کو کسی نہ کسی درجہ میں تقویت ملی ہے۔ اور غم اس لیے نہیں منانا ہے کہ ایران اور ایرانی لیڈر کا کردار سنی مسلمانوں کے لیے انتہائی نقصان دہ رہا ہے۔ ان کے دامن لاکھوں شامی، عراقی، لبنانی سنی مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ اس لیے ان کو بھی اپنے انجام کو پہنچنا تھا۔
بہرحال جو کچھ بھی حالات بنے ہوئے ہیں، مجموعی طور پر مسلمانوں کے لیے اچھے نہیں ہیں۔ اس لیے ہمیں اپنے عقائد اور اعمال پر جمے رہنا ہے اور بحث ومباحثہ کے بجائے خاموش رہ کر دعا کرتے رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ عالم اسلام کی ہر قسم کی فتنہ سے حفاظت فرمائے اور مسلمانوں کو سربلندی عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین
بلکل درست فرمایا آپ نے
جواب دیںحذف کریںبالکل درست فرمایا
حذف کریںRight
حذف کریںJi sahi kaha aapne
حذف کریںبروقت بہترین رہنمائی فرمائ
جواب دیںحذف کریںماشاء اللّه
بارک الله فی علمک وعملک
ماشاءاللہ بہت ہی اچھے انداز میں وضاحت کی ہے
جواب دیںحذف کریںمولانا آپ کیا کہیں گے ان علماء کرام اور مفتیان عظام کے بارے میں جو خود بھی اس خبیث کو شہید اور امت کا ہیرو بتا رہے ہیں ؟؟
حذف کریںکیا آپ ان علماء کرام اور مفتیان عظام سے سوال کریں گے ؟؟
یا مصلحت کا لباس پہن کر خاموش رہیں گے ؟
السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ،، آپ کی طرف سے جو وضاحتیں اور دلیلیں بتاءی ہیں اس سے ہمیں بھت معلومات فراہم ہوءی ہے اور سہی راہ سمجھ آئی ہے،، جزاک اللہ خیر اکثرا
جواب دیںحذف کریںآپ کے پوسٹ ہمارے علم میں اضافہ ہوتا رہتا ہیں اور بہت سے مسائل کا حل ہمیں معلوم ہوتا رہتا ہیں اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے امین ثم آمین ❤️
حذف کریںJazakallah mufti sahab
جواب دیںحذف کریںSahi farmaya aapne jazakallah
جواب دیںحذف کریںجزاک اللہ محترم، بروقت
جواب دیںحذف کریںShukriya
جواب دیںحذف کریںAlhamdulillah
جواب دیںحذف کریںJazakallahu khaira
جواب دیںحذف کریںMalegaon k kuch mash hoor aalim e deen bhi bayan de rahe hain ki ye bahut achcha kaam kar raha tha aur ye shaheed huwe hai ab kiski baat sach hai kis ki galat kaise samjh me aega mufti sahab
جواب دیںحذف کریںMaulana aap log ummat ke bhoole bhale musalmano pe toh fauran fatwa de dete ho lekin aap ulma or muftiyan mein se hi bht sare bade aalim or mufti uss khabees Insan ko shaheed bta rahe hai or hero bta rahe hain uss bare mein aap ka kya khayal hai?kya aap unn logon. Kaye ? Kya ye sb kahne se unke iman pe asar nhi hoga?sb kahna sahi hai?
جواب دیںحذف کریںBilkul sahi kaha bhai apne mai apki baat se 100%sahemat hun
حذف کریںMaulana time nikal ke please mere Sawal ka aap jawab den
جواب دیںحذف کریںامت کے بھولے بھالے مسلمان آپ کی بات مانیں یا پھر ان بڑے بڑے علما کی جنہوں نے پتا نہیں کیوں ایک خبیث شیعہ کو شہید اور امت اسلامیہ کے ہیرو کا درجہ دیے رہیں ہے
جواب دیںحذف کریںمولانا مفتی صاحب میری آپ سے ہاتھ جوڑ کر ادب سے گزارش ہے خُدارا اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں
سوال کریں ان علماء کرام سے کہ کس وجہ سے اور کس مجبوری میں وہ آپ سے اتنا الگ بیان دے رہیں ہیں
Ye baat ko zyada se zyada share karen
جواب دیںحذف کریں