ختم قرآن یا تکمیل قرآن کہنا؟

سوال :

محترم مفتی صاحب! تراویح میں قرآن پاک کی تکمیل، جسے عام طور پر ختم قرآن کہا جاتا ہے، کیا ایسا کہنا صحیح ہے؟ یا یہ کہنا کہ فلاں دن تراویح میں قرآن پاک کی تکمیل ہوگی یا قرآن پاک مکمل ہوگا۔
(المستفتی : عمران الحسن، مالیگاؤں) 
------------------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم 
الجواب وباللہ التوفيق : قرآن مجید کی تلاوت کرکے اس کی تکمیل خواہ انفرادی طور پر ہو یا تراویح میں۔ اسے "ختم قرآن" کہنا ہر لحاظ سے درست ہے، شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ ختم قرآن کا سیدھا صاف مطلب یہی ہے کہ تیس پاروں کی تلاوت مکمل ہوگئی۔ کوئی بھی اس کا یہ مطلب نہیں لیتا کہ قرآن مجید باقی نہیں رہا، ختم ہوگیا۔ معاذ اللہ

قرآن مجید کے مکمل ہونے پر "خَتَمَ الْقُرْآنَ" کا لفظ متعدد روایات میں وارد ہوا ہے۔ 

سنن دارمی میں ہے :
حضرت انس بن مالک جب قرآن ختم کرنے لگتے تھے تو اپنی اولاد اور اہل خانہ کو اکٹھا کیا کرتے تھے اور ان کے لئے دعا کیا کرتے تھے۔

خلاصہ یہ کہ "ختم قرآن" کہنا بالکل درست ہے، اعتراض اور اشکال والی کوئی بات نہیں ہے، تکمیل قرآن اور مکمل قرآن کہنا بھی بہتر ہے۔


حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ قَالَ كَانَ أَنَسٌ إِذَا خَتَمَ الْقُرْآنَ جَمَعَ وَلَدَهُ وَأَهْلَ بَيْتِهِ فَدَعَا لَهُمْ۔ (سنن دارمی، رقم :٣٥١٧)فقط
واللہ تعالٰی اعلم 
محمد عامر عثمانی ملی 
21 رمضان المبارک 1447

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مستقیم بھائی آپ سے یہ امید نہ تھی

ایرانی لیڈر کی موت اور ہمارا طرزِ عمل؟