اشاعتیں

وراثت کے احکام لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

مجھے تمہارے ترکہ کی ضرورت نہیں کہنے والے کے حصے کا مسئلہ

سوال : مفتی صاحب کسی شخص کا اپنے والد یا سرپرستوں کو یہ کہہ دینا کہ رکھ لو اپنی جائیداد اپنے پاس یا نہیں ہونا تمہاری وراثت میں سے حصہ یا یہ کہہ دینا کہ مجھے تمہاری وراثت کے حصے کی ضرورت نہیں ہے ۔ یہ سب جملہ خواہ غصے میں کہا جائے یا سنجیدگی سے یا ہنسی مذاق میں تو کیا کہنے والا شخص شرعی اعتبار سے ہمیشہ کےلئے وراثت کے حصے سے دستبردار ہوجائے گا یا جب بھی حصہ ترکہ ہوگا تو اس شخص کوبھی حصہ میں شامل کیا جائے گا۔ برائےکرم رہنمائی فرمائیں۔ (المستفتی : مغیرہ، مالیگاؤں) ------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : کسی شخص کا اپنے والد یا سرپرستوں کو اس طرح کہنا کہ "رکھ لو اپنی جائیداد اپنے پاس یا نہیں ہونا تمہاری وراثت میں سے حصہ یا یہ کہہ دینا کہ مجھے تمہاری وراثت کے حصے کی ضرورت نہیں ہے" تو اس کی وجہ سے اسے مستقبل میں ملنے والا حصہ ختم نہیں ہوجائے گا، بلکہ بدستور اس کا حصہ باقی رہے گا اور حسبِ شرع اسے اس کا حصہ ملے گا۔ اس لیے کہ ہبہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ چیز آپ کی ملکیت میں ہو اور آپ اسے سامنے والے کو پورے اختیار اور قبضہ کے ساتھ دے دیں، جبکہ صور...

رشتہ داری ٹوٹنے کے ڈر سے اپنا حصہ معاف کرنا

سوال : اگر بھائی" بہنوں کو وراثت میں حصہ نہیں دے رہے یا مانگنے پر لڑائی کر رہے، تو رشتے داری نا ٹوٹے اس خوف سے بہن مطالبہ نا کرے یا چھوڑ دے یا معاف کر دے، تو کیا معاف ہو جائے گا؟ (المستفتی : بلال احمد، پونہ) ------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : اپنی مرضی اور خوشی سے بغیر کسی دباؤ کے اگر بہن اپنا حصہ بھائیوں کو ہبہ کردے تو یہ جائز ہے۔ لیکن بھائیوں کے حصہ نہ دینے، لڑائی کرنے اور رشتہ داری ٹوٹ جانے کے اندیشہ کی وجہ سے اگر کوئی بہن اپنا حصہ چھوڑ دے یا معاف کردے تو وہ معاف نہیں ہوتا بلکہ اس کا حصہ بدستور برقرار رہتا ہے۔ لہٰذا اس کا حصہ دینا ضروری ہے، ورنہ بروزِ حشر حصہ نہ دینے والے بھائیوں سے اس کا سخت مؤاخذہ ہوگا، اور ان سے اس کا بدلہ لیا جائے گا۔ الارث جبري لا يسقط بالاسقاط۔ (تكملۃ ردالمحتار علی الدرالمختار،كتاب الدعوی، ١١/٦٧٨) لو قال الوارث: تركت حقي لم يبطل حقه؛ إذ الملك لا يبطل بالترك، والحق يبطل به حتى لو أن أحدا من الغانمين قال قبل القسمة: تركت حقي بطل حقه، وكذا لو قال المرتهن: تركت حقي في حبس الرهن بطل،كذا في جامع الفصولين للعمادي،...

مشترکہ خاندانی نظام سے متعلق چند اہم سوالات

سوال : مفتی صاحب ! ہمارے معاشرے میں زیادہ تر افراد مشترکہ خاندانی نظام کے تحت ایک گھر میں رہتے ہیں ،ایک ساتھ کاروبار کرتے ہیں ،کھانے کپڑے سے لے کر شادی بیاہ تک، اسی طرح علاج وم...

پورا مال مسجد مدرسہ کے لیے وصیت کرنا

سوال : مفتی صاحب ! ہندہ کے شوہر کے انتقال کے بعد ہندہ نے وصیت کی کہ میرے مرنے کے بعد ساری جائداد مسجد یا مدرسہ کے لیے وقف کردیا جائے، جب کہ ہندہ کے کل پانچ لڑکے ہیں کیا وارثین کو م...

تعلیم اور ملازمت کے لیے بیٹے پر خرچ کی گئی رقم سے متعلق اہم مسائل اور ان کا حل

سوال : کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین درمیان مسئلہ ھذا کے کہ تعلیم کے دوران ڈگری ملنے تک ایک باپ اپنے بیٹے کامکمل تعلیمی خرچ برداشت کرتا ہے جو بعض مرتبہ لاکھوں تک ...

صرف ایک بیٹے کے حق میں وصیت کرنا

سوال : مفتی صاحب! مسئلہ اسطرح سے ہے کہ ایک آدمی کی چار اولاد ہیں، ۲ لڑکے ۲ لڑکی۔ اس آدمی کی جو ملکیت ہے وہ صرف ایک بیٹے کو وصیت کردی اسطرح سے کہ میرے مرنے کے بعد میری جائداد کا مال...

بیوی کو اس کے میکہ سے حصہ لانے کے لیے کہنا

سوال : مفتی صاحب! میرا سوال یہ ہے کہ بعض لوگ اپنی بیوی کو حصہ لے کر آ کہتے ہیں اور جب بیوی کچھ کہتی ہے تو پھر دونوں میں جھگڑا ہوجاتا ہے اور بات بہت بگڑ جاتی ہے پوچھنا یہ ہے کہ شوہر ک...

بیوی، ایک بیٹی اور بھائیوں کے درمیان میراث کی تقسیم

سوال : مفتی صاحب سوال یہ تھا کہ زید کے انتقال کے بعد اس کے وارثین میں صرف اس کی بیوی اور ایک لڑکی ہے اور زید کے پانچ بھائی بھی ہیں تب کیا ترکہ میں بھائیوں کا بھی حصہ ہوگا؟ جواب مر...