اشاعتیں

اپریل, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

پاکی کے غسل کے لیے نیت کرنا

سوال : مفتی صاحب! کیا حیض اور ناپاکی سے غسل کے لیے نیت کرنا ضروری ہے؟ اگر نیت نہیں کی تو غسل ادا نہیں ہوگا؟ اور عبادت ادا نہیں ہوگی؟ رہنمائی فرمائیں شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔ (المستفتی : محمد نعمان، مالیگاؤں)  ----------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : ناپاکی خواہ حیض یا نفاس کی ہو یا پھر جنابت کی۔ اس سے پاکی حاصل کرنے کے لیے غسل کے فرائض کا ادا ہونا ضروری ہے۔ اور غسل کے فرائض میں نیت کرنا نہیں ہے۔ بغیر نیت کے بھی غسل درست ہوجاتا ہے۔ دارالعلوم دیوبند کا فتوی ہے :  بلا نیت صرف فرائض غسل ادا کرلینے سے بھی غسل ہوجاتا ہے، ہاں جنابت سے پاکی کی نیت بھی کرلے تو اچھا ہے۔ (رقم الفتوی : 12019)  معلوم ہوا کہ بغیر نیت کے غسل درست ہوجاتا ہے اور ناپاک شخص پاک ہوجاتا ہے، لہٰذا جو کہتا ہے کہ نیت کے بغیر غسل ادا نہیں ہوتا اور نہ ہی عبادت ادا ہوتی، اس کا قول درست نہیں ہے۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ غسل کے وقت ناپاکی سے پاک ہونے کی نیت کرلی جائے۔ يُسَنُّ أَنْ يَبْدَأَ بِالنِّيَّةِ بِقَلْبِهِ وَيَقُولَ بِلِسَانِهِ نَوَيْت الْغُسْلَ لِرَفْ...

کیا حجر اسود پہلے سفید تھا؟

سوال : محترم مفتی صاحب! سننے میں آتا ہے کہ حجر اسود پہلے سفید تھا، لوگوں کے گناہوں کو جذب کرکے وہ کالا ہوگیا ہے، کیا یہ بات درست ہے؟ براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔ (المستفتی : نعیم احمد، مالیگاؤں) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : حجر اسود جنت کا پتھر ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے گناہ جذب کرنے کی تاثیر رکھی ہے، حدیث شریف میں آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : جس وقت حجر اسود جنت سے اترا تو وہ دودھ سے زیادہ سفید تھا، پھر بنی آدم کے گناہوں نے اسے سیاہ کردیا۔ (1) ایک روایت میں آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : حجرِ اسود اور مقامِ ابراہیم جنت کے یاقوتوں میں دو یاقوت ہیں، اگر اللہ تعالیٰ ان کی روشنی کو ختم نہ فرماتے تو یہ پوری زمین وآسمان کو روشن کردیتے۔ (2) دارالعلوم دیوبند کا فتوی ہے : حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب یہ پتھر جنت سے اتارا گیا تو یہ دودھ سے بھی زیادہ سفید تھا: وکان أبیض من اللبن ولکن سودتہ خطایا بني آدم یعنی وہ پتھر پہلے دودھ سے بھی زیادہ سفید تھا، لیکن بنی آدم کی خطاوٴں نے اس...

رمضان، مشرق میں سرخ ستون اور ایک سال کی ذخیرہ اندوزی؟

سوال : إذا رأيتمْ عمودًا أحمرَ منْ قِبلَ المشرقِ في شهرِ رمضانَ فادَّخِروا طعامَ سنتِكم، فإنَّها سنةُ جوعٍ ترجمہ : جب تم رمضان کے مہینے میں مشرق کی جانب آگ کا ستون دیکھ لو، تو ایک سال کے خوراک کا ذخیرہ کرو۔ مفتی صاحب!  اس حدیث کی تحقیق مطلوب ہے اور  کیا یہ حدیث آج کے حالات پر منطبق ہوتی ہے؟ (المستفتی : شمس العارفین، مالیگاؤں) ----------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : سوال نامہ میں مذکور روایت کو امام طبرانی نے المعجم الاوسط میں ذکر کیا ہے۔ لیکن اس روایت میں ایک راوی احمد بن رشدین کو ائمہ جرح وتعدیل نے متہم بالکذب اور ایک راویہ ام عبداللہ بنت خالد بن معدان کو مجہول اور منکر لکھا ہے، جس کی وجہ سے بہت سے محققین علماء نے اس روایت کو غیرمعتبر قرار دیا ہے۔ لہٰذا جب یہ روایت معتبر ہی نہیں ہے تو پھر اس کو موجودہ حالات پر منطبق کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بعض علماء کے نزدیک یہ روایت معتبر ہو تب بھی رمضان المبارک میں ایران میں آئیل ڈپو پر میزائیلوں کے گرنے اور وہاں آگ کے شعلے اٹھنے کو سرخ ستون مراد لینا درست نہیں ہے۔ اس لیے کہ جن ...