پاکی کے غسل کے لیے نیت کرنا

سوال :

مفتی صاحب! کیا حیض اور ناپاکی سے غسل کے لیے نیت کرنا ضروری ہے؟ اگر نیت نہیں کی تو غسل ادا نہیں ہوگا؟ اور عبادت ادا نہیں ہوگی؟ رہنمائی فرمائیں شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔
(المستفتی : محمد نعمان، مالیگاؤں) 
-----------------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم 
الجواب وباللہ التوفيق : ناپاکی خواہ حیض یا نفاس کی ہو یا پھر جنابت کی۔ اس سے پاکی حاصل کرنے کے لیے غسل کے فرائض کا ادا ہونا ضروری ہے۔ اور غسل کے فرائض میں نیت کرنا نہیں ہے۔ بغیر نیت کے بھی غسل درست ہوجاتا ہے۔

دارالعلوم دیوبند کا فتوی ہے : 
بلا نیت صرف فرائض غسل ادا کرلینے سے بھی غسل ہوجاتا ہے، ہاں جنابت سے پاکی کی نیت بھی کرلے تو اچھا ہے۔ (رقم الفتوی : 12019) 

معلوم ہوا کہ بغیر نیت کے غسل درست ہوجاتا ہے اور ناپاک شخص پاک ہوجاتا ہے، لہٰذا جو کہتا ہے کہ نیت کے بغیر غسل ادا نہیں ہوتا اور نہ ہی عبادت ادا ہوتی، اس کا قول درست نہیں ہے۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ غسل کے وقت ناپاکی سے پاک ہونے کی نیت کرلی جائے۔


يُسَنُّ أَنْ يَبْدَأَ بِالنِّيَّةِ بِقَلْبِهِ وَيَقُولَ بِلِسَانِهِ نَوَيْت الْغُسْلَ لِرَفْعِ الْجَنَابَةِ أَوْ لِلْجَنَابَةِ۔ (الفتاویٰ الہندیۃ : ١/١٤)فقط 
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی 
20 شوال المکرم 1447 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مستقیم بھائی آپ سے یہ امید نہ تھی

ایرانی لیڈر کی موت اور ہمارا طرزِ عمل؟