بیٹی کی پیدائش پر اللہ کا اس کے باپ کا بازو بننا؟

سوال :

محترم مفتی صاحب! ایک بات یہ بھی سننے میں آئی ہے جب بیٹا پیدا ہوتا ہے تو اللہ تعالٰی اسے باپ کا بازو بناتے ہیں اور اگر بیٹی پیدا ہوتی ہی تو اللہ تعالٰی خود باپ کا بازو بن جاتے ہیں۔ اس کی کیا حقیقت ہے؟
(المستفتی : وصی احمد، مالیگاؤں)
-----------------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : بیٹی کی پیدائش بلاشبہ باعث خیر وبرکت ہے بشرطیکہ اس کی اچھی تعلیم وتربیت کی جائے۔ لیکن آپ نے جس روایت سے متعلق سوال کیا ہے وہ معتبر نہیں ہے شیخ مازن بحصلی (ابو معاویہ البیرونی) نے اسے بے اصل لکھا ہے، لہٰذا اس کا بیان کرنا درست نہیں ہے۔

إن الله ينفخ في الولد فيقول له:اذهب فأنت عون لأبيك؛ وينفخ في البنت فيقول لها: اذهبي وأنا عون لأبيك”.
تحقیق :
قال أبومعاوية البيروتي : يُذكَر عند ولادة البنت، ولا أصل له۔فقط 
واللہ تعالٰی اعلم 
محمد عامر عثمانی ملی 
25 شوال المکرم 1447 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مستقیم بھائی آپ سے یہ امید نہ تھی

ایرانی لیڈر کی موت اور ہمارا طرزِ عمل؟