مجبوراً کفریہ جملہ کہنے کا حکم
سوال : محترم مفتی صاحب ! اِن دنوں کچھ شر پسند ایک یا چند مسلمانوں کو گھیر کر زبر دستی جے شری رام یا دیگر کفریہ جملے ادا کرنے کے لئے دباؤ ڈالتے ہیں، بعض اوقات انکار کی صورت میں زدو کوب کرتے ہیں حتّٰی کہ اُس مسلمان کی جان بھی لے لیتے ہیں، ایسی حالت میں پھنسے مسلمان کو بادلِ ناخواستہ وہ کفریہ جملے ادا کرنے پڑتے ہیں ورنہ جان جانے کا خطرہ ہو جاتا ہے، تو ایسے میں شریعت کیا راستہ اپنانے کی طرف رہنمائی کرتی ہے؟ جواب دے کر مشکور فرمائیں۔ (المستفتی : خورشید عالم، پونہ) ------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : جس شخص کو کلمۂ کفر کہنے پر اس طرح مجبور کردیا جائے کہ اگر وہ یہ کلمہ نہ کہے تو اس کوقتل کردیا جائے گا یا اس کو سخت جانی نقصان پہنچایا جائے گا تو ایسی مجبوری کی صورت میں اگر وہ زبان سے کلمۂ کفر کہہ دے، لیکن اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو اور وہ اس کلمۂ کفر کو باطل اور بُرا جانتا ہو تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے لئے رخصت ہے کہ وہ جان بچانے کے لئے مجبوراً یہ کلمہ کہہ دے اور دل میں اپنے ایمان پر قائم رہے۔ اس سلسلے میں...