روایت "اللہ کے راستے کی دعا بنی اسرائیل کے انبیاء کی دعا طرح قبول ہوتی ہیں" کی تحقیق

سوال :

محترم مفتی صاحب! اکثر تبلیغی جماعت اور دینی کام سے وابستہ بعض ساتھیوں سے یہ بات سننے میں آتی ہے کہ "اللہ کے راستے میں نکلنے والوں کی دعائیں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کے انبیاء علیہم السلام کی دعاؤں کی طرح قبول فرماتے ہیں" یا یہ کہ "جماعت میں نکلنے والے کی دعا خاص طور پر قبول ہوتی ہے۔"

حضرت سے گزارش ہے کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس بات کی وضاحت فرمائیں کہ آیا اس مضمون کی کوئی صحیح اور معتبر دلیل موجود ہے یا نہیں؟ نیز اگر اس بارے میں کوئی حدیث یا شرعی اصل ہو تو اس کی بھی رہنمائی فرمائیں، اور اگر یہ بات درست نہ ہو تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
(المستفتی : حافظ انس، مالیگاؤں)
-----------------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : تبلیغی جماعت میں نکل کر سفر کرنا لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے کی محنت کرنا یہ فی سبیل اللہ اور اللہ کے راستے میں داخل ہے اور حدیث شریف میں آیا ہے کہ مسافر کی دعا قبول ہوتی ہے، اب اگر یہ سفر دین کی بنیاد پر ہوتو ایک عام دنیاوی غرض کے مسافر کی بہ نسبت اس کی دعا بدرجہ اولی قبول ہوگی، لیکن سوال نامہ میں جو فضیلت بیان کی گئی ہے کہ اللہ کے راستے میں نکلنے والوں کی دعا بنی اسرائیل کے انبیاء کرام علیہم السلام کی دعاؤں کی طرح قبول ہوتی ہے تو ایسی کوئی حدیث نہیں ہے، لہٰذا یہ بات بیان کرنا درست نہیں ہے۔


عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ، لَا شَكَّ فِيهِنَّ : دَعْوَةُ الْوَالِدِ، وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ۔ (سنن الترمذی، رقم : ١٥٣٦)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ کَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ۔ (صحیح البخاری، رقم : ١١٠)فقط 
واللہ تعالٰی اعلم 
محمد عامر عثمانی ملی 
17 ذی الحجہ 1447

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مستقیم بھائی آپ سے یہ امید نہ تھی

ایرانی لیڈر کی موت اور ہمارا طرزِ عمل؟