قادیانی کی نماز جنازہ اور اس کی تدفین کا حکم
سوال : محترم مفتی صاحب ! کسی قادیانی اور احادیث کا انکار کرنے والے شخص کا اسی حالت میں انتقال ہوجائے تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی یا نہیں؟ کیا کفن سنت کے مطابق دیا جائے گا؟ اور اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا؟ اور اگر کوئی اس کی نماز جنازہ پڑھا دے اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کردے تو اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ براہ کرم مدلل اور مفصل جواب عنایت فرمائیں اور عنداللہ ماجور ہوں۔ (المستفتی : عبداللہ، مالیگاؤں) --------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : قادیانی اور احادیث کا انکار کرنے والا شخص بغیر توبہ کے مرجائے تو اس پر شرعاً مرتد اور کافر کا حکم لاگو ہوگا۔ قادیانی اور منکرِ حدیث علماء اہل سنت والجماعت کے نزدیک متفقہ طور پر کافر ہے، اس لئے کہ قادیانی حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے آخری نبی ہونے کا منکر ہوتا ہے، اسی طرح حدیث کا انکار دراصل قرآنِ کریم کا انکار ہے۔ (1) قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں : وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ و...