کیا حضور نے کبھی میدہ کی روٹی تناول فرمائی ہے؟
سوال :
محترم مفتی صاحب! ایک ویڈیو میں دیکھا، ایک حضرت نے پیزا، برگر، بریڈ، میگی، نوڈلس وغیرہ کے نقصانات بتاتے ہوئے کہا کہ حضور نبی اکرم صل اللہ علیہ و سلم نے اپنی پوری زندگی میں کبھی میدہ یا میدے کی بنی ہوئی کوئی چیز نہیں کھائی۔
ذہن میں سوال آتا ہے کہ کیا اسوقت میدہ نہیں رہا ہوگا؟ یا آپکو پسند نہیں تھا؟ یا کوئی حکمت پوشیدہ تھی اس میں؟ احادیث میں کہیں ذکر ملتا ہے اس بات کا؟
(المستفتی : عمران الحسن، مالیگاؤں)
------------------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : یہ بات درست ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے میدہ یا میدہ کی روٹی تناول نہیں فرمائی جیسا کہ درج ذیل حدیث شریف میں میں آتا ہے۔
ابوحازم کہتے ہیں کہ میں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا آپ نے میدہ دیکھا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک میدہ نہیں دیکھا تھا، تو میں نے پوچھا: کیا لوگوں کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چھلنیاں نہ تھیں؟ انہوں نے جواب دیا : میں نے کوئی چھلنی نہیں دیکھی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی، میں نے عرض کیا: آخر کیسے آپ لوگ بلا چھنا جو کھاتے تھے؟ فرمایا: ہاں! ہم اسے پھونک لیتے تو اس میں اڑنے کے لائق چیز اڑ جاتی اور جو باقی رہ جاتا اسے ہم گوندھ لیتے۔ (1)
معلوم ہونا چاہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں باریک پسے اور چھانے ہوئے گندم کے آٹے کو نقی کہا گیا ہے جسے اردو ترجمہ میں میدہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ یہ میدہ اور اس کی روٹی استعمال نہیں فرماتے تھے بلکہ جو کے بغیر چھنے ہوئے آٹے کی روٹی استعمال فرماتے تھے۔
ام ایمن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے آٹا چھانا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس کی روٹی بنائی، آپ نے پوچھا : یہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا : یہ وہ کھانا ہے جو ہم اپنے علاقہ میں بناتے ہیں، میں نے چاہا کہ اس سے آپ کے لیے بھی روٹی تیار کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے (چھان کر نکالی گئی بھوسی ) اس میں ڈال دو، پھر اسے گوندھو۔ (2)
آٹا چھاننے کے بعد جب اس کا بھوسہ بالکل نکل جائے تو وہ معدہ پر بھاری اور دیر ہضم ہوجاتا ہے جو پیٹ میں قبض پیدا کرتا ہے، اور ہمارے یہاں جس کو میدہ کہا جاتا ہے وہ انتہائی باریک پسا ہوا گیہوں کا آٹا ہوتا ہے جس میں کیمکل بھی شامل کیا جاتا ہے، لہٰذا اس کا زیادہ استعمال نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
1) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ , حَدَّثَنِي أَبِي , قَالَ: سَأَلْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ هَلْ رَأَيْتَ النَّقِيَّ؟ قَالَ:" مَا رَأَيْتُ النَّقِيَّ حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" , فَقُلْتُ: فَهَلْ كَانَ لَهُمْ مَنَاخِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" مَا رَأَيْتُ مُنْخُلًا , حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" , قُلْتُ: فَكَيْفَ كُنْتُمْ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ غَيْرَ مَنْخُولٍ؟ قَالَ:" نَعَمْ , كُنَّا نَنْفُخُهُ فَيَطِيرُ مِنْهُ مَا طَارَ , وَمَا بَقِيَ ثَرَّيْنَاهُ۔ (ابن ماجہ، رقم : 3335)
2) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَخْبَرَنِي بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ، أَنَّحَنَشَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُ، عَنْ أُمِّ أَيْمَنَ، أَنَّهَا غَرْبَلَتْ دَقِيقًا، فَصَنَعَتْهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَغِيفًا، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ ، قَالَتْ: طَعَامٌ نَصْنَعُهُ بِأَرْضِنَا، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَصْنَعَ مِنْهُ لَكَ رَغِيفًا، فَقَالَ: رُدِّيهِ فِيهِ ثُمَّ اعْجِنِيهِ۔(ابن ماجہ، رقم : 3336)فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
30 ربیع الاول 1448
ما شاء اللہ.. اللہ تعالیٰ آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے. ایسی معلومات صرف ایک کلک پر بہ آسانی دستیاب ہو جاتی ہو جو انسان کتابوں میں ڈھونڈتے رہ جائے. جزاک اللہ خیرا
جواب دیںحذف کریں