روایت "عالم ارواح میں جس نے جتنی مرتبہ لبیک کہا ہوگا وہ اتنی مرتبہ حج کے لیے جائے گا" کی تحقیق
سوال :
مفتی صاحب! کیا یہ بات صحیح ہے کہ عالم ارواح میں جس نے جتنی بار حضرت ابراهیم علیہ السلام کی آواز پر لبيك کہا ہے، وہ اتنی بار حج پر جاتا ہے؟ جواب مرحمت فرمائیں۔
(المستفتی : حافظ ابوذر، مالیگاؤں)
-----------------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : قرآن مجید کی آیت کریمہ وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ الخ کی تفسیر میں یہ روایت ملتی ہے جو مکمل درج ذیل ہے :
سیدنا حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے بیت اللہ شریف کی تعمیر فرمائی (جس کے آثار طوفانِ نوح کے بعد مستور ہوچکے تھے) تو تعمیر مکمل ہونے پر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ :
وَاَذِّنْ فِیْ النَّاسِ بِالْحَجِّ یَأْتُوْکَ رِجَالاً وَّعَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ یَّأْتِیْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ۔ (الحج : ۲۷)
ترجمہ : آپ لوگوں میں حج کا اعلان فرمادیں، وہ چلے آئیں آپ کے پاس پیدل اور دبلے دبلے اونٹوں پر سوار ہوکر، چلے آئیں دور دراز راہوں سے۔
سیدنا حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے عرض کیا کہ الٰہ العالمین! میری آواز آخر کہاں تک پہنچے گی؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اعلان تمہارا کام ہے پہنچانا ہمارے ذمہ ہے، پس سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے حکم کی تعمیل فرماتے ہوئے بلند پہاڑی پر چڑھ کر اعلان فرمایا کہ: ’’اے لوگو! تمہارے رب نے اپنا گھر بنایا ہے؛ لہٰذا اس کا حج کرو‘‘، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس ’’ندائے ابراہیمی‘‘ کو نہ صرف اس وقت موجود تمام مخلوقات تک پہنچایا؛ بلکہ جو لوگ ماں کے پیٹوں اور باپ کی پیٹھوں میں تھے ان سب تک یہ آواز پہنچادی اور جس نے اس ندا پر جتنی مرتبہ لبیک کہا اس کو اتنی ہی مرتبہ بیت اللہ حاضری کی سعادت نصیب ہوگی۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ (ملخص: تفسیر ابن کثیر مکمل ۸۹۵، تفسیر قرطبی ۱۲؍۳۶، نیز دیکھئے انوار مناسک، مؤلفہ: مفتی شبیر احمد صاحب قاسمی ۹۰-۹۷)
معلوم ہوا کہ یہ بات درست ہے کہ جس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نداء پر جتنی مرتبہ لبیک کہا ہوگا وہ اتنی مرتبہ حج کے لیے جائے گا۔
قَالَ جَمَاعَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ: مَعْنَى التَّلْبِيَةِ إِجَابَةُ دَعْوَةِ إِبْرَاهِيمَ حِينَ أَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ، انْتَهَى.
وَهَذَا أَخْرَجَهُ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَابْنُ جَرِيرٍ، وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ بِأَسَانِيدِهِمْ فِي تَفَاسِيرِهِمْ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَعَطَاءٍ، وَعِكْرِمَةَ، وَقَتَادَةَ وَغَيْرِ وَاحِدٍ، وَالْأَسَانِيدُ إِلَيْهِمْ قَوِيَّةٌ، وَأَقْوَى مَا فِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ مَا أَخْرَجَهُ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ فِي مُسْنَدِهِ وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ مِنْ طَرِيقِ قَابُوسِ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا فَرَغَ إِبْرَاهِيمُ ﵇ مِنْ بِنَاءِ الْبَيْتِ قِيلَ لَهُ: أَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ. قَالَ: رَبِّ، وَمَا يَبْلُغُ صَوْتِي؟ قَالَ: أَذِّنْ، وَعَلَيَّ الْبَلَاغُ. قَالَ: فَنَادَى إِبْرَاهِيمُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْحَجُّ إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ. فَسَمِعَهُ مَنْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، أَفَلَا تَرَوْنَ أَنَّ النَّاسَ يَجِيئُونَ مِنْ أَقْصَى الْأَرْضِ يُلَبُّونَ۔ (فتح الباری : ٣/٤٠٩)فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
22 ذی الحجہ 1447
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں