حاجی کی دعا کب تک قبول ہوتی ہے؟
سوال :
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین درمیان مسئلہ ھذا کے کہ حاجی کی دعا کب تک قبول ہوتی ہے؟ سننے میں آیا ہے کہ چالیس دن تک قبول ہوتی ہے؟ اور یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ بارہ ربیع الاول تک قبول ہوتی ہے۔ اس کی کیا حقیقت ہے؟ واضح فرمائیں۔
(المستفتی : محمد حذیفہ، مالیگاؤں)
-----------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : متعدد صحیح یا حسن درجہ کی احادیث میں بغیر کسی مدت کے یہ مضمون وارد ہوا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : حاجی اور جس کے لئے حاجی مغفرت کی دعا کرے، دونوں کی مغفرت کردی جاتی ہے۔ (1)
متعدد ضعیف اور منقطع روایات میں حاجی کی قبولیتِ دعا کی مدت کا ذکر آیا ہے۔ اور یہ روایات دو طرح کی ہیں۔
مرفوع یعنی وہ روایت جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی جانب روایت کو منسوب کیا گیا ہو، اس میں ماہ محرم کے گزرنے تک دعا کی قبولیت کا ذکر ہے جو درج ذیل ہیں۔
١) علامہ فاکہی رحمہ اللہ نے اپنی سند سے معاویة سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :حاجی، اورجس کے لیے حاجی مغفرت کی دعا کرے، ماہ محرم کے گزرنے تک بخشش کی دعا قبول کی جاتی ہے۔
٢) حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : حاجی، اور جس کے لیے حاجی مغفرت کی دعا کرے، ماہ محرم کے گزرنے تک بخشش کی دعا قبول کی جاتی ہے۔ (2)
موقوف یعنی وہ روایت جس میں صحابی رضی اللہ عنہ کی جانب اس قول کی نسبت کی گئی ہو، ان روایات میں دس یا بیس ربیع الاول تک قبولیتِ دعا کا تذکرہ ہے۔
١) علامہ دینوری رحمہ اللہ نے اپنی سند سے یاسین بن زیات سے نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ حاجی، اور جس کے لیے حاجی مغفرت کى دعا کرے، دونوں کی مغفرت کردی جاتی ہے، جس کی مدت ذی الحجہ کے بقیہ ایام، محرم، صفر اور ماہ ربیع الاول کے ابتدائی بیس دن تک ہے۔
٢) حضرت مہاجر سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : حاجی اور جس کے لیے حاجی مغفرت کی دعا مانگے دونوں کی مغفرت کردی جاتی ہے، (اس قبولیتِ دعا کی تحدید) ذی الحجہ کے بقیہ ایام، محرم، صفر اور ربیع الاول کے دس دن ہیں۔ (3)
میں دریافت کردہ روایت کی اصل ہونا معلوم ہوتی ہے، لہذا روایت کے مضمون کو آگے بیان کرنے میں حرج نہیں۔
خلاصہ یہ حج کی ادائیگی کے بعد حاجی کی دعا محرم الحرام کے اخیر تک قبول ہوتی ہے، اس کا بیان کرنا اور اس کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف کرنا درست ہے۔ اس لیے کہ اس کے شواہد اور تائیدات موجود ہیں یعنی احادیث میں حاجی کی دعا کا قبول ہونا مطلق وارد ہوا ہے۔
اسی طرح یہ بھی بیان کرنا درست ہے کہ روایات میں آیا ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول ہے کہ حج کے بعد حاجی کی دعا بیس ربیع الاول تک قبول ہوتی ہے۔ اس بات کو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف منسوب نہ کیا جائے۔
1) عن عمر رضي اللّٰہ عنہ عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال : اِذَا لَقِیْتَ الْحَاجَّ فَسَلِّمْ عَلَیْہِ وَصَافِحْہُ وَمُرْہُ اَنْ یَّسْتَغْفِرَ لَکَ قَبْلَ اَنْ یَّدْخُلَ بَیْتَہٗ، فَاِنَّہٗ مَغْفُوْرٌ لَہٗ۔ (مسند احمد ۲؍۶۹، سنن أبي داؤد رقم: ۱۴۹۸، البحر العمیق ۱؍۶۹)
عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ قال : قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: یُغْفَرُ لِلْحَاجِّ وَلِمَنْ اسْتَغْفَرَ لَہٗ الْحَاجُّ۔ (رواہ البزار وابن خزیمۃ والحاکم، الترغیب والترہیب ۲۶۰ رقم: ۱۷۲۴)
عن جابر رضي اللّٰہ عنہ قال : قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم : اَلْحُجَّاجُ وَالْعُمَّارُ وَفْدُ اللّٰہِ دَعَاہُمْ فَاَجَابُوْہُ وَسَأَلُوْہُ فَاَعْطَاہُمْ۔ (رواہ البزار ورواتہ ثقات، الترغیب والترہیب ۲۶۰ رقم: ۱۷۲۱)
2) عن معاوية بن إسحاق، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " الحاج يغفر له، ولمن استغفر له الحاج إلى انسلاخ المحرم۔ (أخبار مكة في قديم الدهر وحديثه، لأبي عبدالله محمد بن إسحاق الفاکهي، 425/1، المحقق: د. عبد الملك عبد الله دهيش، الناشر: دار خضر، بيروت)
عن علقمة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «الحاج مغفور له، ولمن استغفر له إلى انسلاخ المحرم»۔ (مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي، کتاب الحج، تحقيق: عبد الرحمن حسن محمود، الناشر: الآداب، مصر)
3) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ ؛ قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ خُبَيْقٍ ؛ قَالَ : سَمِعْتُ يُوسُفَ بْنَ أَسْبَاطٍ يَقُولُ : نا يَاسِينُ الزَّيَّاتُ ؛ قَالَ : يُغْفَرُ لِلْحَاجِّ وَلِمَنِ اسْتَغْفَرَ لَهُ الْحَاجُّ ذَا الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمِ وَصَفَرٍ وَعِشْرِينَ مِنْ شَهْرِ رَبِيعِ الأَوَّلِ*. ياسين الزيات ضعيف۔ (أخرج الدينوري في المجالسة :6 /147)فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
28 ذی الحجہ 1447
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں