کیا کسی کو خون دینا ثواب کا کام ہے؟

سوال :

مفتی عامر عثمانی صاحب امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ ضروری گزارش یہ ہیکہ زچکی کیلئے رات 2 بجے ایک عورت کو ہاسپٹل میں بھرتی کروایا گیا اس عورت کی جب خون کی جانچ کی گئی تو اس کے بدن میں خون کم تھا۔ جس کی وجہ سے اس عورت کی جان خطرے میں تھی اب ایسے سنگین وقت میں اس عورت کے رشتے دار جب خون کیلئے بلڈ ڈونر گروپ چلانے والوں سے رابطہ کیا تو آدھی رات کو بلڈ ڈونر گروپ کے ذمہ داران نے اس عورت کو جس گروپ کا خون لگ رہا تھا اس گروپ کے ڈونر کو ڈھونڈکر اس مریض کے رشتے دار کو دیا اس طرح ایک ڈونر مطلب ایک انسان نے اپنا خون فی سبیل اللہ عطیہ کیا اس نیت سے کہ کسی کی جان بچ جائے اور بلڈ ڈونر گروپ کے زمہ داران نے بھی ڈونر کو اسی نیت سے تلاش کیا کہ زچہ و بچہ دونوں کی جان بچ جائے کیا یہ عمل شریعت میں غیر ثواب کا عمل ہے؟ یا اس سے نیکی یا ثواب ملے گا؟ جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں نوازش ہوگی۔
(المستفتی : محمد اسامہ، مالیگاؤں)
-----------------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : خون انسانی جسم کا ایک اہم اور بنیادی جزء ہے جس سے انسانی زندگی کی حیات اور بقاء جڑی ہوئی ہے، اگر کسی انسان کو خون کی ضرورت پڑ جائے اور ماہر ڈاکٹر کی تجویز ہو کہ اس کے لیے خون ناگزیر ہے تو انسانی جان بچانے کے لیے ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان یا غیر مسلم کو عطیہ کرنا جائز ہے، اسی طرح کسی مسلمان کے لیے اس سے لینا بھی جائز ہے۔

معلوم ہوا کہ ضرورت کے تحت کسی کو بلا معاوضہ خون دینا جائز ہے اور اس عمل پر باقاعدہ کوئی فضیلت نہیں ہے، لیکن چونکہ اس میں دوسروں کے لیے چلنا پھرنا اور ان کی تکلیف دور کرنا، درد کا مداوا کرنا یہاں تک جان بچانا شامل ہے، لہٰذا اس پر درج ذیل بشارتیں اور فضیلتیں حاصل ہوں گی۔ ان شاءاللہ 

حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ مسجد نبوی میں معتکف تھے، ایک شخص آپ کے پاس آیا اور سلام کرکے بیٹھ گیا، حضرت عبداللہ ابن عباس نے اس سے پوچھا : کیا بات ہے، تم بڑے افسردہ اور پریشان دکھائی دے رہے ہو؟ تو اس نے کہا : اے رسول اللہ ﷺ کے چچا کے بیٹے ! بلاشبہ میں بڑا پریشان ہوں، فلاں شخص کا مجھ پر حق ہے اور اس صاحبِ قبر کی عزت کی قسم میں اس وقت حق ادا کرنے کی قدرت نہیں رکھتا، حضرت عبداللہ ابن عباس نے ارشاد فرمایا : کیا میں اس شخص سے تمہاری سفارش کردوں؟ اس نے عرض کیا : اگر آپ مناسب سمجھیں تو ضرور کردیں، آپ نے یہ سنا تو جوتا پہن کر مسجد سے باہر تشریف لے آئے۔اس شخص نے عرض کیا : کیا آپ اپنا اعتکاف بھول گئے آپ نے ارشاد فرمایا : مجھے یاد ہے، بات یہ ہے کہ میں نے اس صاحبِ قبر (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے سنا ہے اور ابھی یہ بات سنے ہوئے زیادہ عرصہ بھی نہیں گزرا، یہ کہتے ہوئے آپ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ ”جو شخص اپنے بھائی کے کام کے لیے چلے اور اس میں کامیاب ہوجائے تو یہ اس کے لئے دس سال کے اعتکاف سے افضل ہے اور جو شخص اللہ رب العزت کی رضا کے لئے ایک دن کا اعتکاف بھی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان تین ایسی خندقیں حائل کردیتا ہے۔ جن کی مسافت آسمان اور زمین کی مسافت سے بھی زیادہ ہے۔ (طبرانی، بیہقی) 

مسلم شریف کی ایک روایت میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ کُرْبَۃً مِنْ کُرَبِ الدُّنْیَا نَفَّسَ اللّٰہٗ عَنْہُ کُرْبَۃً مِنْ کُرَبِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔
جو شخص کسی مومن سے دنیا کی مصیبتوں میں سے کوئی معمولی سی تکلیف اور مصیبت دور کرے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کی بڑی تکلیف اس سے دور کردیں گے۔

خلاصہ یہ کہ بوقتِ ضرورت بغیر کسی اجرت کے خون دینا بڑے اجر وثواب کا کام ہے اور جو لوگ خون دینے والوں سے رابطہ کرکے خون کا انتظام کرتے ہیں وہ بھی عظیم اجر وثواب کے مستحق ہوں گے، اس لیے کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ لوگوں میں بہترین شخص وہ ہے جو لوگوں کو نفع پہنچائے۔ لہٰذا خون دینے اور دلانے کو معمولی اور بے فائدہ سمجھنا اور یہ سمجھنا کہ اس پر کوئی اجر وثواب نہیں ملے گا یہ بڑی غلطی اور دینِ متین کو صحیح طور پر نہ سمجھنے کی علامت ہے۔

 
أنَّه كان معتكِفًا في مسجدِ رسولِ اللهِ ﷺ فأتاه رجلٌ فسلَّم عليه ثمَّ جلس فقال له ابنُ عبّاسٍ يا فلانُ أراك مكتئِبًا حزينًا قال نعم يا بنَ عمِّ رسولِ اللهِ لفلانٍ عليَّ حقُّ ولاءٍ وحُرمةِ صاحبِ هذا القبرِ ما أقدِرُ عليه قال ابنُ عبّاسٍ أفلا أكلِّمُه فيك فقال إن أحببْتَ قال فانتَعَل ابنُ عبّاسٍ ثمَّ خرج من المسجدِ فقال له الرَّجلُ أنسِيتَ ما كنتَ فيه قال لا ولكنِّي سمعتُ صاحبَ هذا القبرِ ﷺ والعهدُ به قريبٌ فدمِعَتْ عيناه وهو يقولُ من مشى في حاجةِ أخيه وبلغ فيها كان خيرًا له من اعتكافِ عشرِ سنين ومن اعتكف يومًا ابتغاءَ وجهِ اللهِ تعالى وجعل اللهَ بينه وبين النّارِ ثلاثَ خنادِقَ أبعدَ ممّا بين الخافِقيْن
المنذري، الترغيب والترهيب (٢/١٥٦) • [إسناده صحيح أو حسن أو ما قاربهما] • أخرجه الطبراني في ((المعجم الأوسط)) (٧٣٢٦) دون القصة في أوله، والبيهقي في ((شعب الإيمان)) (٣٩٦٥)، والخطيب في ((تاريخ بغداد)) (٤/١٢٦) باختلاف يسير)فقط 
واللہ تعالٰی اعلم 
محمد عامر عثمانی ملی 
12 محرم الحرام 1448

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مستقیم بھائی آپ سے یہ امید نہ تھی

ایرانی لیڈر کی موت اور ہمارا طرزِ عمل؟