نکاح کے موقع پر سہرا پڑھنا
سوال :
مفتی صاحب ! نکاح سے پہلے جو سہرا پڑھا جاتا ہے وہ پڑھنا بظاہر اچھا لگتا ہے، الفاظ میں کوئی غلط بات نظر نہیں آتی، کیا اس کی گنجائش ہوسکتی ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔
(المستفتی : حافظ افتخار، مالیگاؤں)
-----------------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : نکاح کے موقع پر گھر پر شرعی حدود میں رہتے ہوئے چند اشعار پڑھ دینا جائز ہے۔ لیکن ہمارے یہاں جو سہرا پڑھا جاتا ہے اس میں متعدد قباحتیں ہوتی ہیں جو درج ذیل ہیں۔
ایک تو یہ کہ لاؤڈ-اسپیکر لگاکر تقریباً ایک گھنٹے تک سہرا پڑھا جاتا ہے اور پوری گلی بلکہ محلے والوں کی ناک دم کردیا جاتا ہے جو بلاشبہ ایذائے مسلم میں داخل ہونے کی وجہ سے ناجائز اور گناہ کی بات ہے۔
دوسرے یہ کہ جب سہرا پڑھا جاتا ہے اس وقت مرد وزن کا اختلاط ہوتا ہے، جن لوگوں کا نام سہرے میں آتا ہے بالخصوص خواتین بے پردگی کے ساتھ مجمع میں پہنچ کر سہرا پڑھنے والے کو رقم دیتی ہیں، لہٰذا بے پردگی کی وجہ سے بھی عمل ناجائز ہے۔
تیسرے اس سہرا پڑھنے کی وجہ سے نکاح کے متعینہ وقت میں کافی تاخیر ہوتی ہے جو وعدہ خلافی اور شرعاً گناہ کی بات ہے۔
دارالعلوم دیوبند کا فتوی ہے :
شادی کے موقعہ پر سہرا پڑھنا، یا نعتیہ کلام پڑھنا محض ایک رسم ہے۔ پڑھنے والوں کو محض پیسے وصول کرنا مقصد ہوتا ہے۔ اس رسم کو ترک کرنا چاہیے۔ نکاح میں جس قدر سادگی ہو اتنا ہی بہتر ہے۔ (رقم الفتوی : 7937)
مذکورہ برائیاں نہ بھی ہو تب بھی ہمارے یہاں نکاح سے پہلے سہرا پڑھنا ایک احمقانہ اور فضول رسم ہے، لہٰذا اسے مکمل طور بند کردینا چاہیے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ۔ (صحیح البخاری، رقم : ١٠)
قال اللہ تعالٰی : وَاَوْفُوْا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُوْلًا۔ (سورۃ الاسراء، آیت :۳۴)
عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: آیۃ المنافق ثلاث: إذا حدث کذب، وإذا وعد أخلف، وإذا ائتمن خان۔ (صحیح البخاري، کتاب الإیمان / باب علامۃ المنافق رقم: ۳۳)
قال الملا علی القاری ان من وعد ولیس من نیتہ ان یفی فعلیہ الاثم سواء وفی بہ اولم یف فانہ من اخلاق المنافقین۔ (مرقاۃ، ۴؍۶۴۷، باب الوعد)فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
11 ذی القعدہ 1447
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں