کیا حجر اسود پہلے سفید تھا؟
سوال :
محترم مفتی صاحب! سننے میں آتا ہے کہ حجر اسود پہلے سفید تھا، لوگوں کے گناہوں کو جذب کرکے وہ کالا ہوگیا ہے، کیا یہ بات درست ہے؟ براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔
(المستفتی : نعیم احمد، مالیگاؤں)
------------------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : حجر اسود جنت کا پتھر ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے گناہ جذب کرنے کی تاثیر رکھی ہے، حدیث شریف میں آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : جس وقت حجر اسود جنت سے اترا تو وہ دودھ سے زیادہ سفید تھا، پھر بنی آدم کے گناہوں نے اسے سیاہ کردیا۔ (1)
ایک روایت میں آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : حجرِ اسود اور مقامِ ابراہیم جنت کے یاقوتوں میں دو یاقوت ہیں، اگر اللہ تعالیٰ ان کی روشنی کو ختم نہ فرماتے تو یہ پوری زمین وآسمان کو روشن کردیتے۔ (2)
دارالعلوم دیوبند کا فتوی ہے :
حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب یہ پتھر جنت سے اتارا گیا تو یہ دودھ سے بھی زیادہ سفید تھا: وکان أبیض من اللبن ولکن سودتہ خطایا بني آدم یعنی وہ پتھر پہلے دودھ سے بھی زیادہ سفید تھا، لیکن بنی آدم کی خطاوٴں نے اسے سیاہ بنادیا۔ حدیث کے ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد میں اس کا نام حجر اسود پڑگیا۔ (15361)
درج بالا دونوں روایات سند کے اعتبار سے صحیح اور معتبر ہیں، لہٰذا سوال نامہ میں مذکور آپ کی سنی ہوئی بات صحیح ہے اور اس کا بیان کرنا درست ہے۔
نزل الحجرُ الأسوَدُ من الجنَّةِ وهو أشدُّ بياضًا من اللَّبنِ فسوَّدته خطايا بني آدمَ
الراوي: عبدالله بن عباس • المنذري، الترغيب والترهيب (٢/١٨٨) • [إسناده صحيح أو حسن أو ما قاربهما] • أخرجه الترمذي (٨٧٧) واللفظ له، وأحمد (٢٧٩٥)
الركنُ والمقامُ ياقوتتانِ من ياقوتِ الجنةِ، طمس اللهُ نورَهما ولولا ذلك لأضاءتا ما بينِ المشرقِ والمغربِ.
الراوي: عبدالله بن عمرو • الألباني، صحيح ابن خزيمة (٢٧٣١) • إسناده صحيح • أخرجه الترمذي (٨٧٨ )، وأحمد(٧٠٠٠ )، وابن خزيمة (٢٧٣١ )، وابن حبان (٣٧١٠ ) باختلاف يسير۔فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
16 شوال المکرم 1447
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں