بلاگ اسسٹنٹ

اپنا سوال لکھیں، ہم بلاگ میں تلاش کریں گے

کیا معذوروں کی وجہ سے ان کے گھر والے مالدار ہوتے ہیں؟

سوال :

محترم مفتی صاحب! کیا لوگوں کا یہ سوچنا/کہنا صحیح ہے کہ جس گھر میں پیدائشی طور پر پاگل، عیبی یا پیدائشی مفلوج ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں بے پناہ دولت سے نوازتا ہے؟ شرعی طور ایسا کچھ سننے پڑھنے میں آتا ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔
(المستفتی : عمران الحسن، مالیگاؤں)
-----------------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : ہم نے یہ بات کئی لوگوں سے سنی ہے اور مشاہدہ بھی ہے کہ بہت سے ایسے گھرانے مالدار ہوتے ہیں جن میں دماغی معذور یا پیدائشی مفلوج افراد ہوتے ہیں۔ لیکن جو لوگ اس طرح کی بات کہتے ہیں وہ عموماً لاعلم افراد ہوتے ہیں، انہیں احادیث وغیرہ کا کوئی علم نہیں ہوتا وہ بس سنی سنائی باتوں کو کہتے رہتے ہیں، جبکہ احادیث میں یہ بات آئی ہے کہ معذوروں، کمزوروں اور مسکینوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے گھر والوں اور ان کا خیال رکھنے والوں کو رزق دیتے ہیں اور ان کو نوازتے ہیں۔

بخاری شریف میں ہے :
مصعب بن سعد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سعد بن ابی وقاص کے دل میں خیال آیا کہ ان کو ان کے ماتحت لوگوں پر (کسب معاش میں ان سے زیادہ کوشش کرنے کی وجہ سے) فضیلت حاصل ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کمزور لوگوں کی وجہ سے مدد دی جاتی ہے اور رزق دیا جاتا ہے۔

سنن ترمذی میں ہے :
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : مجھے اپنے ضعیفوں اور کمزوروں میں تلاش کرو، اس لیے کہ تم اپنے ضعیفوں اور کمزوروں کی وجہ سے رزق دیئے جاتے ہو اور تمہاری مدد کی جاتی ہے۔

لہٰذا یہ بات کہنا درست ہے کہ معذوروں اور کمزوروں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے گھر والوں کو ان کا خیال رکھنے کی وجہ سے روزی دیتے ہیں، پھر اپنی مصلحت اور حکمت کے تحت کسی کو کم اور کسی کو بہت زیادہ مال ودولت عطا فرماتے ہیں۔


عَنْ طَلْحَةَ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ رَأَی سَعْدٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ لَهُ فَضْلًا عَلَی مَنْ دُونَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ تُنْصَرُونَ وَتُرْزَقُونَ إِلَّا بِضُعَفَائِکُمْ۔ (صحیح البخاری، رقم : ٢٨٩٦)

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : ابْغُونِي ضُعَفَاءَكُمْ، فَإِنَّمَا تُرْزَقُونَ وَتُنْصَرُونَ بِضُعَفَائِكُمْ۔ (سنن الترمذی، رقم : ١٧٠٢)فقط 
واللہ تعالٰی اعلم 
محمد عامر عثمانی ملی 
17 صفر المظفر 1448 

تبصرے

  1. بہت خوب
    زادکم اللہ علما وشرفا

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. انصاری محمود2 اگست، 2026 کو 2:56 AM

      ماشاء اللہ
      جزاکم اللہ خیرا و احسن الجزاء

      حذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ایرانی لیڈر کی موت اور ہمارا طرزِ عمل؟

مستقیم بھائی آپ سے یہ امید نہ تھی