بلاگ اسسٹنٹ

اپنا سوال لکھیں، ہم بلاگ میں تلاش کریں گے

افضل ایمان کس کا؟

سوال :

مفتی صاحب! رج ذیل حدیث پاک کی تحقیق مطلوب ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے پوچھا کہ بتاؤ سب سے افضل ایمان کس کو ملا ہے؟ تو صحابہ نے جواب دیا کہ ملائکہ کو تو آپ ؐ نے جواب دیا کہ نہیں کیونکہ انکے سامنے تو اللہ کا غیبی نظام ہے۔ پھر صحابہ نے کہا کہ انبیاء کا تو آپؐ نے جواب دیا کہ نہیں کیونکہ انکے پاس تو وحی آتی ہے۔ پھر صحابہ نے کہا اب تو ہم رہ گئے، تو آپؐ نے کہا کہ تمہارے ساتھ تو اللہ کا نبی ہے تم معجزات کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو غزوات میں فرشتوں کو اترتے دیکھتے ہو۔ پھر صحابہ نے پوچھا کہ اللہ کے رسول پھر کن لوگوں کو سب سے افضل ایمان ملا ہے؟ تو نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ میرے بعد جو لوگ آئیں گے ان کا ایمان سب سے افضل ہو گا کیونکہ انکے سامنے یہ سب کچھ نہیں ہوگا۔
(المستفتی : فیضان احمد، مالیگاؤں)
------------------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : سوال نامہ میں جس روایت سے متعلق سوال کیا گیا ہے وہ مکمل درج ذیل ہے۔

حضرت عمرو بن شعیب بواسطہ اپنے والد، اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے ارشاد فرمایا : کون سی مخلوق تمہارے نزدیک ایمان کے لحاظ سے سب سے عجیب تر ہے؟ صحابہ نے عرض کیا : فرشتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فرشتے کیوں ایمان نہ لائیں جبکہ وہ ہر وقت اپنے رب کی حضوری میں رہتے ہیں۔ انہوں نے عرض کیا : پھر انبیائے کرام علیہم السلام۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اور انبیائے کرام علیہم السلام کیوں ایمان نہ لائیں جبکہ ان پر تو وحی نازل ہوتی ہے۔ انہوں نے عرض کیا : تو پھر ہم (ہی ہوں گے)۔ فرمایا : تم ایمان کیوں نہیں لاؤ گے جبکہ بنفس نفیس میں خود تم میں جلوہ افروز ہوں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مخلوق میں میرے نزدیک سب سے عجیب تر اور قابل تعجب ایمان ان لوگوں کا ہے جو میرے (انتقال کے) بعد پیدا ہوں گے، وہ لوگ احکام دین کے مجموعہ مصحف یعنی قرآن پاک پائیں گے اور اس میں جو کچھ مذکور ہے سب پر ایمان لائیں گے۔ (١)

ذکر کردہ روایت متعدد کتب احادیث میں موجود ہے اور معتبر ہے جس کا بیان کرنا بھی درست ہے، البتہ اس کے معنی سمجھنے میں بعض لوگ غلطی کرتے ہیں، اس حدیث كا خلاصہ یہ ہے كہ ان لوگوں كا ایمان زیادہ تعجب كا باعث اور حیران کن ہے جو محض اللہ اور اس كے رسول كی باتیں قرآن وحدیث میں پڑھ كر‏، ان پر ایمان لاتے ہیں‏ جو غیب پر ایمان لانے کی بہترین مثال ہے، لیکن اس سے یہ دلیل پکڑنا کہ ہمارا ایمان انبیا‏ء کرام اور صحابۂ كرام وغیرہم سے اپنے حقیقی معنی میں افضل ہے‏، درست نہیں ہے۔ افضل ایمان انبیاء کرام علیہم السلام کا ہے اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا ہے، پھر اس کے بعد ہمارا شمار ہوگا۔ اس ترتیب کے خلاف بات کرنا قرآن وحدیث کی مخالفت اور گمراہی ہے۔


١) عَنْ عَمَرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيْهِ، عَنْ جدِّهِ رضى الله عنهم قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَيُّ الْخَلْقِ أَعْجَبُ إِلَيْکُمْ إِيْمَانًا؟ قَالُوْا: الْمَلَائِکَةُ. قَالَ: وَمَا لَهُمْ لاَ يُؤْمِنُوْنَ وَهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ؟ قَالُوْا: فَالنَّبِيُّوْنَ. قَالَ: وَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ عَلَيْهِمْ؟ قَالُوْا: فَنَحْنُ. قَالَ: وَمَا لَکُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِکُمْ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم: إِنَّ أَعْجَبَ الْخَلْقِ إِلَيَّ إِيْمَانًا لَقَوْمٌ يَکُوْنُوْنَ مِنْ بَعْدِي يَجِدُوْنَ صُحُفًا فِيْهَا کِتَابٌ يُؤْمِنُوْنَ بِمَا فِيْهَا۔ (أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 12 / 87، الرقم: 12560، وأبو يعلي عن عمر بن الخطاب رضى الله عنه في المسند، 1 / 147، الرقم: 160، و الحاکم في المستدرک، 4 / 96، الرقم: 6993، والهيثمي عن عمر بن الخطاب رضى الله عنه في مجمع الزوائد، 8 / 330، 6 / 65، وقال: رواه البزار وأحمد، وذکرہ الخطيب التبريزي في مشکاة المصابيح، 3 / 403، الرقم: 6288) 

( وعن عمرو بن شعيب ، عن أبيه ، عن جده ) ، وقد سبق الكلام على ما يتعلق بهذا السند من المرام ( قال : قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : " أي الخلق " ) ، أي : المخلوقات ( " أعجب " ) ، أي : أغرب ( " إليكم إيمانا " ) ؟ تمييز ( قالوا ) ، أي : بعض الصحابة ( الملائكة ) . أي أعجب الخلق إيمانا ، أو التقدير هم الملائكة ( قال : " وما لهم لا يؤمنون وهم عند ربهم " ) ؟ أي مقربون ومشاهدون عجائب الملكوت وغرائب الجبروت ، فأي عجب وغرابة في إيمانهم ؟ ( قالوا ) ، أي : ذلك البعض أو بعض آخر ( فالنبيون ) ، أي : إن لم يكن الملائكة فالنبيون ( قال : وما لهم لا يؤمنون والوحي ينزل عليهم " ) ؟ بصيغة الفاعل ، وفي نسخة بالمفعول ( قالوا : فنحن . وقال : " وما لكم لا تؤمنون وأنا بين أظهركم " ) ، أي : فيما بينكم تشاهدون معجزاتي وأتلو عليكم آياتي . ( قال ) ، أي : الراوي ( قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : " إن أعجب الخلق إلي " ) ، أي : عندي ( " إيمانا لقوم يكونون " ) ، أي : يوجدون ( "من بعدي " ) ، أي : من بعد مماتي من التابعينوأتباعهم إلى يوم الدين ( " يجدون " ) : استئناف بيان أي : يصادفون ( " صحفا " ) بضمتين جمع صحيفة أي : مصاحف وأجزاء ( " فيها كتاب " ) ، أي : مكتوب من عند الله ، وهو القرآن ( " يؤمنون بما فيها " ) . أي بما في تلك الصحف ، ولا يبعد أن يفسر الصحف بما يشمل الكتاب والسنة ، وحيث ورد الكلام في الأعجبية والأغربية ، فلا استدلال بالحديث في الأفضلية بوجه من وجوه المزية هذا . انتهى( مرقاة المفاتيح  11/420 دار الکتب العلمیہ بیروت)فقط 
واللہ تعالٰی اعلم 
محمد عامر عثمانی ملی 
15 ربیع الاول 1448

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ایرانی لیڈر کی موت اور ہمارا طرزِ عمل؟

مستقیم بھائی آپ سے یہ امید نہ تھی