حج وعمرہ ٹورس کے فراڈ
اسباب اور حل
✍️ مفتی محمد عامر عثمانی ملی
(امام وخطیب مسجد کوہ نور)
قارئین کرام ! شہر عزیز مالیگاؤں کے لوگوں کا اپنا ایک منفرد انداز ہے، یہاں ٹرینڈ چلتا ہے، وہ اس طرح کے کسی نے کوئی کام یا کاروبار کیا اور اس میں اس کو فائدہ ہوا تو اس کام اور کاروبار میں لوگوں کی ایسی ہوڑ لگتی ہے کہ جب تک یہ کام اور کاروبار برباد نہ ہوجائے اور مذاق نہ بن جائے لوگ رُکتے نہیں ہیں۔
ایسا ہی کچھ معاملہ آپ کو حج وعمرہ ٹورس کے معاملے میں دیکھنے کو ملے گا، جو ایک مرتبہ حج یا عمرہ کرکے آگیا وہ اپنے آپ کو گروپ لیڈر یا ٹور آپریٹر سمجھنے لگتا ہے، اور اس کے بعد وہ کوشش میں لگ جاتا ہے اس کو بھی حج وعمرہ ٹورس چلانا ہے اور پیسے کمانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محلے دو محلے میں آپ کو حج وعمرہ ٹورس کی آفس مل جائے گی۔
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ شہرِ عزیز مالیگاؤں میں عمرہ ٹورس چلانا کوئی بہت نفع کمانے کا کام نہیں ہے، صحیح بات یہ ہے کہ اگر کوئی ٹور مالک جو 15 یا 20 دن کے پیکج کی سہولیات بتاتا ہے اگر وہ ایمانداری سے اس کو مہیا کرتا ہے تو اس کو ایک سیٹ کے پیچھے پانچ ہزار کے آس پاس فائدہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر فی الحال 20 دن کا پیکج ہو، اس کا خرچ 90 ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان ہوگا۔مکہ ہوٹل پانچ سے سات سو میٹر کی دوری پر ہو، مدینہ ہوٹل مرکزیہ یعنی دو سو سے چار سو میٹر کی دوری پر ہوتو ایسے پیکج میں ٹور مالک کو ایک سیٹ پر پانچ سے سات ہزار کے درمیان نفع ہوسکتا ہے، لیکن اس میں اس کی جسمانی محنت، اس کی دماغ پاشی اور بعض عجیب وغریب مزاج کے زائرین کی بلاوجہ کی شکایت واعتراضات، نیز ان کی کڑوی کسیلی باتیں سننا بھی شامل ہے۔ لیکن بہت سے لوگ زمینی حقائق سے بالکل بھی واقف نہیں ہوتے، انٹرنیٹ کے دور میں چند کلک پر ان کو ہوائی جہاز کا ٹکٹ اور ویزہ کا خرچ معلوم ہوجائے گا کہ یہ تقریباً 50000 کا بن رہا ہے، پھر اس میں بیس دن ہوٹل کا قیام اور ان کے تین وقت کے انواع واقسام کے بہترین کھانے کا نظم بھی کرنا ہے تو یہ سب اخراجات 60000 میں کیسے ممکن ہوں گے؟ بالکل صاف اور سیدھی بات یہ ہے کہ کچھ لوگوں کو چارے کے طور پر اگر ساٹھ ہزار میں عمرہ کرایا جا رہا ہے تو بعد میں بہت سارے لوگوں کو اچھی طرح چونا لگایا جائے گا یا خود ٹور مالک اپنا کروڑوں روپے کا نقصان کرکے بیٹھ جائے گا۔
محترم قارئین! عمرہ ٹور والوں کے خسارے میں آنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بعض مرتبہ زائرین دو دو ایجنٹ کے ذریعے ٹور مالک تک پہنچتے ہیں، ایجنٹ حضرات اپنا کمیشن لے کر کنارے ہوجاتے ہیں اور پھر ٹور مالک کو ہی آگے کے سارے آسمانی سلطانی معاملات دیکھنا پڑتا ہے، اور بعض مرتبہ ناگہانی صورتحال میں اس کو بڑا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
بہت سی مرتبہ عازمین ٹور مالک کے بالکل پیچھے پڑ کر، زیادہ سیٹ کا حوالہ دے کر، رشتہ داری، تعلقات، علماء، حفاظ، ائمہ کی دہائی دے کر اصل خرچ سے بہت کم میں معاملہ طے کرتے ہیں اور پھر اسی خرچ کا حوالہ دے کر دوسرے لوگ بھی قیمت کم کروانے کی کوشش کرتے ہیں، اور پھر ٹور مالک یہ سمجھتا ہوگا کہ چلو زیادہ سیٹ جائے گی تو کہیں نہ کہیں نفع ہوجائے گا، لیکن یہ چھوٹا چھوٹا نقصان دھیرے دھیرے لاکھوں اور کروڑوں میں چلا جاتا ہے اور پھر ٹور مالک کو ہاتھ اُٹھا دینے اور راہ فرار اختیار کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نظر نہیں آتا۔
پورے ملک سے حج وعمرہ ٹورس کے فراڈ کی خبریں آئے دن آتی رہتی ہیں، شہر میں بھی متعدد مرتبہ حج اور عمرہ ٹورس کے نام پر عوام کے لاکھوں روپے لُٹ جانے کے واقعات سامنے آچکے ہیں لیکن اس کے بعد بھی لوگوں کی آنکھ نہیں کھل رہی ہے، اور جب تک لوگ لوبھی بنے رہیں گے اور یہ سوچیں گے کہ ان کا کام کم سے کم میں ہوجائے تو پھر ان کا سابقہ لباڑوں سے ہی پڑے گا، اور اس طرح کے فراڈ کو کوئی روک نہیں سکے گا جب تک کہ خود عوام کے اندر شعور پیدا نہیں ہوتا۔
لہٰذا ہماری تمام حج وعمرہ ٹورس کے مالکان سے مؤدبانہ اور مخلصانہ درخواست ہے کہ انتہائی منصوبہ بندی کے ساتھ کام کریں، ہر چیز کا بجٹ اچھی طرح نکال کر ہی پیکج کا خرچ متعین کریں، نقصان میں سیٹ بالکل نہ لیں، اس لیے کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ "لاضرر ولا ضرار" مومن نہ تو نقصان پہنچاتا ہے اور نہ ہی نقصان اٹھاتا ہے۔ بہت ایجنٹ نہ رکھیں کہ اس سے بھی معاملات خراب ہوتے ہیں۔
عوام کا کام بھی یہ ہے کہ شہر کے رجسٹرڈ ٹورس، یا قدیم اور معتبر حج وعمرہ ٹورس سے اپنی بکنگ کروائیں، سستے کے چکر میں پڑ کر وہاں حیران، پریشان ہونے یا اپنی حلال کمائی ضائع کرنے سے بچیں، نیز کئی مہینے پہلے سے عام خرچ سے حد درجہ کم خرچ والی بکنگ کروانے سے باز رہیں، اس میں عموماً دھوکہ ہوتا ہے۔ اسی طرح جن لوگوں کے ساتھ فراڈ کا معاملہ ہوا ہے وہ ٹور مالک سے اپنا پیسہ حاصل کرنے کے لیے مستقل کوشش کرتے رہیں اور پیسہ حاصل کرکے ہی رہیں، کچھ دن کوشش کرنا پھر خاموش بیٹھ جانے سے ایسوں کو تقویت ملتی ہے اور پھر کوئی دوسرا کھڑا ہوتا ہے کہ چلو فراڈ کرلو، کچھ دن ہنگامہ ہوگا پھر سب معاملہ ٹھنڈا ہوجائے گا اور لوگ بھول جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کی دھوکہ دینے اور دھوکہ کھانے سے حفاظت فرمائے اور ہر معاملے میں سچی، سیدھی صاف بات کرنے اور سننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
بہترین تجزیہ کئے ہیں محترم.. زبردست.
جواب دیںحذف کریںبرسبیلِ تذکرہ عوام کے لیے کچھ معتبر ٹورس کی رہنمائی بھی ہوجاتی تو بہتر ہوتا
جواب دیںحذف کریں