صحابی کی داڑھی کے بال سے فرشتوں کا کھیلنا
سوال :
مفتی صاحب! کیا کسی روایت میں ایسے صحابی کا ذکر آتا ہے جن کی داڑھی کے صرف ایک یا دو بال تھے اور ان کو اکھاڑنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ ان بالوں پر فرشتے جھولا جھولتے تھے۔
(المستفتی : محمد زید، مالیگاؤں)
------------------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : سوال نامہ میں جس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اسے مکمل اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ ایک صحابی کی داڑھی میں صرف دو بال تھے۔ جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم انہیں دیکھتے تو مسکراتے۔ وہ صحابیؓ اس بات پر حیران ہوتے۔ بالآخر انہوں نے ان دو بالوں کو مونڈ دیا۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں دیکھا تو ان سے وجہ پوچھی۔ صحابیؓ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میں نے دیکھا کہ آپ جب بھی مجھے دیکھتے ہیں تو مسکراتے ہیں تو مجھے مناسب نہیں لگا، اس لیے میں نے یہ بال مونڈ لیے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : میں دیکھتا تھا کہ فرشتے ان بالوں سے کھیل رہے ہوتے تھے، یہی میری مسکراہٹ کی وجہ تھی۔
معلوم ہونا چاہیے کہ اس طرح کے الفاظ کے ساتھ کوئی واقعہ کسی بھی صحیح یا ضعیف روایت میں نہیں ہے، لہٰذا اس واقعہ کا بیان کرنا جائز نہیں ہے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ۔ (صحیح البخاری، رقم : ١١٠)فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
20 صفر المظفر 1448
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں