حق رضا ضرور دیں اور معقول دیں

✍️ مفتی محمد عامر عثمانی ملی 
    (امام وخطیب مسجد کوہ نور) 

قارئین کرام ! شریعت مطہرہ میں ملازمین کے بڑے حقوق بیان کیے گئے ہیں، جس میں ان کے ساتھ اخلاق سے پیش آنا، انہیں معقول تنخواہ دینا، ان کی طاقت کے بقدر ان سے کام لینا، ان کی غلطیوں سے درگزر کرنا اور بوقت ضرورت وبقدر استطاعت ان کی مالی مدد کرنا بھی ہے۔

ہمارے یہاں عیدالفطر سے کچھ پہلے رمضان المبارک میں تقریباً ہر شعبہ جات میں اپنے ملازمین کو تنخواہ کے علاوہ "عید بونس" دینے کا رواج ہے جسے ہمارے یہاں "حق رضا" بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بلاشبہ ایک نیک عمل ہے، لہٰذا آپ کے یہاں جس کام کے لیے بھی ملازم ہوں خواہ پاور لوم سے منسلک مزدور، مقادم، منیجر ومیتھا، تراشن بھرنے والے، آپ کے گھروں میں صفائی اور کپڑے وغیرہ دھونے والیاں، ہاسپٹل یا آفس میں کام کرنے والا عملہ ہو ہر کسی کا مسلمانوں کے سب سے بڑے تہوار "عیدالفطر" پر آپ خیال رکھیں، اور انہیں ضرور حق رضا دیں اور معقول حق رضا دیں کہ ان پیسوں میں ان کی عید کی کچھ خریداری ہوجائے۔ ہم کوئی مخصوص رقم یہاں نہیں لکھیں گے کہ آپ اتنا اتنا دیں، یہ آپ کو خود بہتر سمجھتا ہے کہ آج کے مہنگائی کے دور میں ہزار دو ہزار کی کتنی اہمیت رہ گئی ہے؟؟؟ 

بعض لا ابالی نوجوان جن پر گھر کی اتنی ذمہ داری نہیں ہوتی، یہ لوگ فضول خرچی اور ناجائز کاموں میں اپنا پیسہ اڑاتے ہوئے آپ کو نظر آئیں گے، لیکن اکثر پاورلوم مزدور طبقہ جن پر بیوی بچوں سمیت بوڑھے والدین کی بھی ذمہ داری ہوتی ہے، اور ان کی تنخواہ ہفتہ واری تین ہزار کے آس پاس ہوتی ہے، ان کے لیے گھر چلانا، علاج، موت میت، شادی بیاہ، اور تہوار کے اخراجات پورے کرنا انتہائی مشکل ہوجاتا ہے، بسا اوقات یہ حضرات قرض میں بھی مبتلا ہوجاتے ہیں اور ان کی پوری زندگی اسی طرح محنت مزدوری کرتے ہوئے کسمپرسی کی حالت میں گزر جاتی ہے۔ لہٰذا ایسے اہل وعیال والے مزدوروں کا خاص طور پر خیال رکھیں، جو پیسے آپ پیشہ ور بھکاریوں کو صدقہ کی نیت سے دے دیتے ہیں وہ جمع کرکے ایسے مزدوروں کو دینا چاہیے کہ یہ اس کے زیادہ مستحق ہیں، پیشہ ور بھکاریوں کو دینا درست نہیں ہے کہ اس میں کام چوری اور بلاضرورت شدیدہ سوال کرنے جیسی بری عادتوں کو بڑھاوا ملتا ہے۔

اگر آپ کو غالب گمان ہے کہ آپ کا یہ ملازم مستحق زکوٰۃ ہے اور اس کی آمدنی سے اس کے اخراجات پورے نہیں ہوپاتے تو آپ اس کو حق رضا اور عید بونس میں زکوٰۃ بھی دے سکتے ہیں کیوں کہ حق رضا دینا آپ پر واجب نہیں ہے۔ اور اس کے لیے آپ کو بتانا ضروری نہیں ہے کہ یہ زکوٰۃ ہے۔ بلکہ آپ اسے حق رضا، عید بونس، تحفہ اور تہواری کہہ کر بھی دے سکتے ہیں۔

امید ہے کہ جن لوگوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہے وہ اپنے ملازمین کا خوب خیال رکھیں گے اور رمضان المبارک کے بابرکت ایام اور نیکیوں کے موسم میں اپنے لیے خوب آخرت کا ذخیرہ جمع کریں گے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایک دوسرے کا درد سمجھنے اور حتی الامکان اس کا مداوا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مستقیم بھائی آپ سے یہ امید نہ تھی

ایرانی لیڈر کی موت اور ہمارا طرزِ عمل؟