بالوں سے متعلق شرعی حکم
سوال :
مفتی صاحب ! بال رکھنے کا سنت طریقہ کیا ہے؟ کیسے بال رکھنا منع ہے؟ مکمل مفصل جواب عنایت فرمائیں۔
(المستفتی : محمد عبداللہ، مالیگاؤں)
------------------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : بال رکھنے کے تین طریقے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہیں، یعنی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے موئے مبارک کبھی نصف کان تک کبھی کان کی لَو تک ہوتے اور جب بڑھ جاتے تو شانۂ مبارک سے چُھو جاتے، اس لئے پورے سرپر بال رکھے جائیں یا سب کے سب منڈا دیئے جائیں جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کا معمول تھا۔ یا مساوی طور پر کٹوائے جائیں، کچھ حصہ منڈانا اور کچھ حصہ میں بال رکھنا، یا چھوٹے بڑے اتار چڑھاؤ بال رکھنا جو آج کل فیشن ہے اور انگریزی بال سے موسوم ہے، جس سے عیسائیوں اور فاسقوں، فاجروں کی ہئیت کے ساتھ مشابہت لازم آتی ہے، اور احادیث میں بھی ایسے بال رکھنے کی ممانعت وارد ہوئی ہے وہ احادیث درج ذیل ہیں۔
حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے نبی ﷺ کو قزع سے منع کرتے ہوئے سنا۔ نافع رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ قزع سے کیا مراد ہے کہا کہ بچے کے سر کا کچھ حصہ تو مونڈ دیا جائے اور کچھ کو چھوڑ دیا جائے۔ (بخاری ومسلم)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بچے کو دیکھا جس کے سر کا کچھ حصہ تو مونڈا گیا تھا اور کچھ حصہ چھوڑ دیا گیا تھا۔ آپ ﷺ نے اس (طرح کرنے) سے لوگوں کو منع کیا اور فرمایا یا تو پورے سر کو مونڈو یا پورے سر کو چھوڑ دو۔ (مسلم)
نوٹ : بالوں کے چھوٹے بڑے ہونے میں بالکل معمولی سا فرق ہوتو حرج نہیں۔ جو فرق بالکل صاف واضح ہوجائے وہ درست نہیں ہے۔
قال في المغني : إنَّ شَعْرَ النَّبِیِّ - صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ - کَانَ إلَی شَحْمَةِ أُذُنَیْہِ. وَفِی بَعْضِ الْحَدِیثِ: إلَی مَنْکِبَیْہِ . وَرَوَی الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ، قَالَ : مَا رَأَیْت مِنْ ذِی لِمَّةٍ فِی حُلَّةٍ حَمْرَاءَ أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ - صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ - لَہُ شَعْرٌ یَضْرِبُ مَنْکِبَیْہِ. مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ. وَرَوَی ابْنُ عُمَرَ، عَنْ النَّبِیِّ - صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ - قَالَ: رَأَیْت ابْنَ مَرْیَمَ لَہُ لِمَّةٌ . قَالَ الْخَلَّالُ سَأَلْت أَحْمَدَ بْنَ یَحْیَی - یَعْنِی ثَعْلَبًا - عَنْ اللِّمَّةِ؟ فَقَالَ: مَا أَلَمَّتْ بِالْأُذُنِ. وَالْجُمَّةُ: مَا طَالَتْ.
وَقَدْ ذَکَرِ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ فِی حَدِیثِہِ: أَنَّ شَعْرَ النَّبِیِّ - صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ - یَضْرِبُ مَنْکِبَیْہِ ، وَقَدْ سَمَّاہُ لِمَّةً. وَیُسْتَحَبُّ أَنْ یَکُونَ شَعْرُ الْإِنْسَانِ عَلَی صِفَةِ شَعْرِ النَّبِیِّ - صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ - إذَا طَالَ فَإِلَی مَنْکِبَیْہِ، وَإِنْ قَصُرَ فَإِلَی شَحْمَةِ أُذُنَیْہِ. وَإِنْ طَوَّلَہُ فَلَا بَأْسَ، نَصَّ عَلَیْہِ۔ (المغني لابن قدامة: ۱/۶۳)فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
03 صفر المظفر 1448
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں