کسی مکان کو آسیب زدہ کہنا

سوال :

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ :
زید نے مالیگاؤں کے ایک مشہور محلہ میں ایک مکان خریدا اور اسے نئے سرے سے آر سی سی (RCC) کے ذریعے ایک منزلہ مضبوط گھر تعمیر کیا۔ تعمیر مکمل ہونے تک محلے کے کسی فرد نے اس گھر کے متعلق کوئی ایسی بات یا افواہ نہیں پھیلائی کہ اس میں جنات یا شیاطین کا اثر ہے۔
الحمد للہ! زید تقریباً دو سال تک اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ اسی گھر میں امن، عافیت اور خوشحالی کے ساتھ رہا، اور اس دوران کسی قسم کا کوئی غیر معمولی واقعہ پیش نہیں آیا۔
بعد ازاں کسی مجبوری کی بنا پر زید کو اپنا گھر فروخت کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ جب اس نے دلالوں اور اہلِ محلہ کے ذریعے گھر فروخت کرنے کی کوشش کی تو بعض افراد نے یہ افواہ پھیلانا شروع کر دی کہ اس گھر میں بہت بڑی "شے" ہے، اور جو بھی اس گھر میں رہے گا وہ اچانک موت کا شکار ہو جائے گا۔
حالانکہ یہ بات حقیقت کے بالکل خلاف ہے، کیونکہ خود زید اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ دو سال تک اس گھر میں خیریت سے رہا اور کوئی نقصان یا غیر معمولی واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس کے باوجود ان افواہوں کی وجہ سے کوئی بھی شخص گھر خریدنے یا کرائے پر لینے کے لیے تیار نہیں ہو رہا۔ نتیجتاً زید شدید ذہنی دباؤ، صدمے اور پریشانی میں مبتلا ہو گیا، یہاں تک کہ وہ بیمار بھی ہو گیا ہے۔
اب دریافت طلب امور یہ ہیں :
1) کیا محلے کے بعض افراد کا اس قسم کی بے بنیاد افواہیں پھیلانا شرعاً جائز ہے؟
2) کیا اللہ تعالیٰ کے علاوہ جنات یا شیاطین کسی کو از خود موت دے سکتے ہیں؟
3) اگر ان افواہوں کی وجہ سے ایک مسلمان اپنی زندگی کی جمع پونجی سے بنائے ہوئے گھر سے محروم ہو جائے، شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہو، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوسی کا شکار ہونے لگے، اور مالی و جسمانی نقصان برداشت کرے، تو کیا اس کا وبال اور گناہ ان افواہیں پھیلانے والوں پر ہوگا؟
4) ایسے افراد کے بارے میں شریعتِ مطہرہ کا کیا حکم ہے؟
5) کیا اس گھر کو فروخت کرنا یا کرائے پر دینا شرعاً جائز ہے جبکہ اس کے متعلق پھیلائی جانے والی باتوں کی کوئی شرعی یا حقیقی بنیاد موجود نہیں؟
قرآن و سنت کی روشنی میں مفصل، مدلل جواب مرحمت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔
المستفتی : قاری مجاہد الاسلام، مالیگاؤں) 
------------------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : اسلام کا مقصد یہ ہے کہ ہر مسلمان معاشرے کا ایک ذمہ دار فرد بن کر زندگی گزارے۔ اس کے منہ سے جو بات نکلے، وہ کھری اور سچی بات ہو اور وہ اپنے کسی قول و فعل سے غیر ذمہ داری کا ثبوت نہ دے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ‘‘ (سورۂ ق :۱۸)
انسان جو بات بھی زبان سے نکالتا ہے، اسے محفوظ رکھنے کے لیے ایک نگہبان ہر وقت تیار ہے۔ 

مطلب یہ ہے کہ انسان یہ نہ سمجھے کہ جو بات وہ زبان سے نکال رہا ہے، وہ فضا میں تحلیل ہو کر ختم ہوجاتی ہے، بلکہ منہ سے نکلی ہوئی ہر بات کہیں ریکارڈ ہورہی ہے، اور آخرت میں اس سارے ریکارڈ کا ہر شخص کو جواب دینا ہوگا۔

ایک حدیث شریف میں آتا ہے کہ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے پھیلا دے۔ (مسلم) 

جھوٹی خبروں کو عام کرنے والوں اور افواہوں کو پھیلانے والوں کو اس حدیث شریف سے عبرت حاصل کرنا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں دیکھا کہ : دو فرشتے آپ کو لے کر ایک ایسے شخص کی جانب چلے جو اپنی گدّی کے بل چت لیٹا ہوا تھا، اور اس کے پاس ایک اور شخص (فرشتہ) لوہے کا کوئی ہتھیار لئے کھڑا تھا، پھر وہ اس کے منہ کے ایک طرف جاکر اس کا جبڑاگدّی تک پھاڑ ڈالتا۔ نتھنے اور آنکھ کو بھی اسی طرح گدی تک چیز دیتا پھر دوسری جانب پلٹ کر ایسا ہی کرتا، جیسا کہ پہلی جانب کیا تھا، اور ایک طرف چیر کر فارغ نہیں ہوتا کہ دوسری طرف کا حصہ بالکل درست ہوکر اپنی اصلی حالت پر آجاتا، پھر وہ اس کی طرف پلٹ کر ایسا ہی چیر پھاڑ کرتا جیسا کہ پہلی بار چیرا پھاڑا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں تو میں نے اپنے ساتھ والے دونوں فرشتوں سے پوچھا : سبحان اللہ، یہ دونوں کون ہیں؟ تو ان دونوں نے مجھ سے کہا کہ : وہ شخص جس کے پاس آپ آئے اور جس کا جبڑا اور نتھنے کو گدّی تک چیرا جا رہا تھا وہ ایسا شخص ہے جو صبح اپنے گھر سے نکلتا اور جھوٹ بولتا ہے جو دور دور تک پھیل جاتا( افواہ بن جاتی) ہے۔ (بخاری)

سنی سنائی باتیں، جھوٹی خبریں اور افواہ پھیلانے والے ہر مسلمان کو اللہ سے ڈرنا چاہیے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد پر خوب غور و فکر کرنا چاہئے : آدمی اپنی زبان سے ایک بات بولتا ہے اور اس کے متعلق سوچتا نہیں (کہ وہ بات کتنی پھیلے گی، کتنا نقصان ہوگا اور قوم و ملت پر اس کا کیا اثر پڑے گا) جس کی وجہ سے وہ جہنم کے گڑھے میں اتنی دور تک گرتا ہے جتنا مشرق سے مغرب کا فاصلہ ہے۔ (مسلم) 

1) صورتِ مسئولہ میں محلہ کے بعض افراد کا زید کے مکان کو آسیب زدہ کہنا اور یہ کہنا کہ اس میں "شئے" ہے یہ بالکل بے بنیاد اور جھوٹی بات ہے، اور ایسی باتیں پھیلانا افواہ ہے جو ناجائز اور حرام ہے جس پر حدیث شریف میں مذکور درج بالا وعیدیں سنائی گئی ہیں۔

2) اللہ تعالیٰ کے علاوہ دنیا کی کوئی طاقت خواہ جنات ہوں یا شیاطین وہ کسی کو موت نہیں دے سکتے۔

3) اگر افواہ پھیلانے کی وجہ سے زید مالی، جسمانی اور ذہنی اذیت میں مبتلا ہوا ہے تو اس کا وبال افواہ پھیلانے والوں پر ہی ہوگا، انہیں فوری طور پر اس کے ازالہ کی کوشش کرنا چاہیے اور لوگوں کو سچائی بتاکر مکان مالک کی تلافی کرنا چاہیے۔ ورنہ انہیں بروز حشر عنداللہ جواب دہ ہونا پڑے گا۔ 

4) جواب نمبر ایک اور اس کی تمہید میں جھوٹ پھیلانے والوں کا حکم بیان کر دیا گیا ہے۔

5) جب مکان میں بظاہر کوئی عیب نہیں ہے تو اس کا فروخت کرنا اور اس کا کرایہ پر دینا بلا تردد جائز ہے۔


یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ۔ (سورہ حجرات، آیت : 6)

عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ۔ (صحيح مسلم)فقط 
واللہ تعالٰی اعلم 
محمد عامر عثمانی ملی 
22 محرم الحرام 1448

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مستقیم بھائی آپ سے یہ امید نہ تھی

ایرانی لیڈر کی موت اور ہمارا طرزِ عمل؟