اسٹیکر کے ذریعے سلام بھیجنا

سوال :

مفتی صاحب! آج کل واٹس ایپ پر اس طرح اسٹیکر کے ذریعے سلام کرنے کا رواج بہت بڑھ گیا ہے۔
عام طور پر جب آدمی سلام لکھتا ہے تو اکثر زبان سے بھی ادا کر لیتا ہے، لیکن اسٹیکر بھیجنے میں غالب گمان یہی ہوتا ہے کہ صرف اسٹیکر سینڈ کر دیا جاتا ہے، زبان سے سلام ادا نہیں کیا جاتا۔
میرا سوال یہ ہے کہ اگر اسٹیکر کے ذریعے سلام بھیجتے وقت زبان سے سلام ادا نہ کیا جائے، تو کیا عام طریقے سے سلام لکھنے اور اسٹیکر کے ذریعے سلام بھیجنے میں ثواب و نیکی کے اعتبار سے کوئی فرق ہوگا؟
(المستفتی : عبدالمطلب، مالیگاؤں) 
------------------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : واٹس اپ وغیرہ پر ریڈی میڈ اسٹیکر کا استعمال بہت عام ہوچکا ہے۔ سلام یا جواب سلام کے لیے اس کا ایک دوسرے کو ارسال کرنا درست ہے، لیکن سلام کا صرف اسٹیکر ارسال کردیا جائے اور زبان سے تلفظ ادا نہ کیا جائے تو سلام کرنے کا ثواب نہیں ملے گا اور نہ ہی جواب دینے کا واجب ادا ہوگا، اس لیے کہ سلام میں اصل زبان سے ادائیگی ہے یا خود لکھنا ہے، اگر یہ نہیں پایا گیا تو ریڈی میڈ اسٹیکر کا کوئی مطلب نہیں رہا۔


نعم إذا کان الرجل المسلم بعیدًا تجوز الإشارۃ ولا بد من التکلم باللسان أیضًا ولا یکتفي بإشارۃ الید فقط۔(العرف الشذي علی ہامش الترمذي : ۲/۹۹)فقط 
واللہ تعالٰی اعلم 
محمد عامر عثمانی ملی 
05 صفر المظفر 1448

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مستقیم بھائی آپ سے یہ امید نہ تھی

ایرانی لیڈر کی موت اور ہمارا طرزِ عمل؟