مردوں کا عورتوں کی نقالی کرنا اور ویڈیو بنانا
سوال :
مفتی صاحب! مردوں کا عورتوں کی ایکٹنگ کرنا یعنی ان کے جیسے کپڑے پہننا اور ان کے انداز اور لب ولہجہ میں بات کرنا اور اس کی ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر ڈالنا کیسا ہے؟ شریعت کی روشنی رہنمائی فرمائیں اور عنداللہ ماجور ہوں۔
(المستفتی : محمد عبداللہ، مالیگاؤں)
-----------------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : عورت کو مرد کی اور مرد کو عورت کی مشابہت اختیار کرنا حرام ہے، حدیث شریف میں آتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے مشابہت اختیار کرنے والے مردوں پر لعنت فرمائی اور مردوں سے مشابہت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔
مرد کا عورتوں سے مشابہت کا مطلب یہ ہے کہ مرد کا عورتوں کی طرح لباس پہننا، ان کے جیسے لمبے بال رکھنا، مٹکنا اور کولھے ہلانا، ہاتھ پاؤں میں مہندی لگانا، عورتوں کی طرح بولنا، ان کی حرکات و سکنات اختیار کرنا یہ سب حرام ہے اور اس پر لعنت کی گئی۔
معلوم ہوا کہ سوال نامہ میں جو باتیں پوچھی گئی ہیں وہ سب ناجائز اور حرام ہیں، ان کے کرنے والے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی لعنت ہے۔
ملحوظ رہنا چاہیے کہ لعنت کوئی معمولی کلمہ نہیں ہے، کسی بھی ایمان والے کے لئے اس سے بڑھ کر اور کوئی زجر وتوبیخ یا دھمکی نہیں۔ لعنت کے لفظی معنی یہ ہیں "اللہ کی رحمت سے دوری" اور وہ بھی صادق ومصدوق اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ کی زبان سے اگر ادا ہوتو پھر ایسے شخص کے لیے بڑی بدبختی کی بات ہے، لہٰذا اس سے بچنا بہت ضروری ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ، وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ۔ (صحیح البخاری، رقم : 5885)
٤٤٢٩ - (وَعَنْهُ): أَيْ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - ﷺ: لَعَنَ اللَّهُ): يَحْتَمِلُ الْإِخْبَارَ وَالدُّعَاءَ (الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ، وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ): قَالَ النَّوَوِيُّ: الْمُخَنَّثُ ضَرْبَانِ، أَحَدُهُمَا: مَنْ خُلِقَ كَذَلِكَ وَلَمْ يَتَكَلَّفِ التَّخَلُّقَ بِأَخْلَاقِ النِّسَاءِ وَزِيِّهِنَّ وَكَلَامِهِنَّ وَحَرَكَاتِهِنَّ، وَهَذَا لَا ذَمَّ عَلَيْهِ وَلَا إِثْمَ وَلَا عَيْبَ وَلَا عُقُوبَةَ لِأَنَّهُ مَعْذُورٌ، وَالثَّانِي مِنْ يَتَكَلَّفُ أَخْلَاقَ النِّسَاءِ وَحَرَكَاتِهِنَّ وَسَكَنَاتِهِنَّ وَكَلَامِهِنَّ وَزِيِّهِنَّ، فَهَذَا هُوَ الْمَذْمُومُ الَّذِي جَاءَ فِي الْحَدِيثِ لَعْنُهُ (رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ): وَكَذَا أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ۔ (مرقاۃ المفاتيح : ٧/٢٨١٩)فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
08 ربیع الآخر 1448
اور اسی طریقے سے ان کا ویڈیو دیکھنا اور شیئر کرنا کیسا ہے۔یہ بھی ایڈ کر دیں تو بہتر ہوگا۔جزاکم اللہ خیر
جواب دیںحذف کریں