طلاق کے ساتھ ان شاءاللہ کہا تو؟

سوال :

مفتی صاحب! زید نے ایک مسئلہ سنا کہ اگر کوئی شخص اس طرح اپنی بیوی کو کہے کہ "ان شا اللہ میں تم کو طلاق طلاق طلاق دیتا ہوں، تو طلاق واقع نہیں ہوگی کیونکہ اللہ پاک نہیں چاہتے کہ کسی بندہ کی طلاق ہو۔ کیا یہ بات صحیح ہے؟
نوٹ : زید اپنی بیوی کو جو مسئلہ سنا وہ صرف سمجھانے کیلئے بھی اس طرح کہا ہو تو اس پر کیا حکم ہوگا؟ برائے کرم آپ اس کا جواب عنایت فرمائیں۔
(المستفتی : عبداللہ انجینئر، مالیگاؤں) 
------------------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم 
الجواب وباللہ التوفيق : طلاق کے لفظ کے ساتھ فوراً یعنی بغیر کسی توقف کے ان شاء اللہ کہا تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔ اسی طرح طلاق سے پہلے ان شاء اللہ کہا تب بھی کوئی طلاق نہیں ہوگی۔

دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ ہے :
اگر کسی نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور اس کے بعد فوراً ان شاء اللہ بھی کہا تو اس سے طلاق واقع نہ ہوگی کیونکہ ان شاء اللہ کہنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر اللہ چاہے تو تجھے طلاق ہے، اللہ کی مشیت کسی کو معلوم نہیں، اس لیے ایسی شرط لگانے سے طلاق واقع نہ ہوگی۔ اور اگر طلاق کا جملہ بولا اور کچھ دیر تک توقف کیا پھر کچھ دیر کے بعد ان شاء اللہ کہا تو اس صورت میں طلاق واقع ہوجائے گی، ان شاء اللہ کو کچھ دیر کے بعد بولنے کی وجہ سے پہلے کلام کے ساتھ متصل نہیں مانا جائے گا۔ (رقم الفتوی : 153988) 

لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر کوئی شخص اس طرح اپنی بیوی کو کہے کہ "ان شا اللہ میں تم کو طلاق طلاق طلاق دیتا ہوں" تو اس بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، نیز اگر بیوی کو بتانے کے لیے یہ الفاظ کہے ہیں تب بھی کوئی طلاق نہیں ہوگی۔


أخرج الدار قطني عن معاذ بن جبل - في حدیث طویل - وَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِامْرَأَتِهِ: أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَلَهُ اسْتِثْنَاؤُهُ وَلَا طَلَاقَ عَلَيْهِ۔ (سنن الدار قطنی، رقم : ٣٩٨٤) 

لَوْ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً إنْ شَاءَ اللَّهُ لَمْ يَقَعْ شَيْءٌ۔ (شامی : ٣/٢٨٧) 

إذَا قَالَ لِامْرَأَتِهِ: أَنْتِ طَالِقٌ إنْ شَاءَ اللَّهُ - تَعَالَى - مُتَّصِلًا بِهِ لَمْ يَقَعْ الطَّلَاقُ۔ (الفتاویٰ الہندیۃ : ١/٤٠٤)فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
15 ربیع الآخر 1448

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ایرانی لیڈر کی موت اور ہمارا طرزِ عمل؟

مستقیم بھائی آپ سے یہ امید نہ تھی