اشاعتیں

مارچ, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ایرانی لیڈر کی موت اور ہمارا طرزِ عمل؟

✍️ مفتی محمد عامر عثمانی ملی       (امام وخطیب مسجد کوہ نور)  قارئین کرام! تین دن پہلے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کی خبریں موصول ہوئی اور اسی کے ساتھ یہ اطلاع بھی ملی کہ اسی حملہ میں ایران اور پورے عالم روافض کے سب سے بڑے لیڈر اس حادثے میں مارے گئے ہیں۔ جیسے ہی اس خبر کی تصدیق ہوئی تو سوشل میڈیا پر جذباتی نوجوانوں (جنہیں نہ شریعت کا علم ہے اور نہ تاریخ کا) نے ایرانی لیڈر کی تصویریں اپنے اسٹیٹس اور سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر لگانا شروع کردیا۔ کوئی اسے شہید کہہ رہا ہے تو کوئی اسے معاذ اللہ سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے تشبیہ دے رہا ہے، کوئی اسے شیر لکھ رہا ہے تو کوئی اسے عالم اسلام کا ہیرو قرار دے رہا ہے۔ غرض یہ کہ سوشل میڈیا پر بے گانی شادی میں عبداللہ دیوانوں کی بھیڑ لگی ہوئی ہے۔ معلوم ہونا چاہیے کہ ایران کی جنگ کوئی فلسطین اور غزہ والوں کے لیے نہیں ہے۔ یہ ان کی اپنی ذاتی لڑائی ہے جس میں یہ لوگ فلسطینی مسلمانوں کو چارہ اور پورے عالم کے مسلمانوں کو جذباتی بناکر دھوکہ میں ڈالے ہوئے ہیں۔ ہمارے ایمان کا حصہ یعنی حضور اکرم صلی اللہ علیہ کے جاں نثار صحابہ ...