دو مرتبہ ثناء والی چار رکعت ؟
سوال : مفتی صاحب! سوشل میڈیا پر یہ مسئلہ کافی وائرل ہے کہ چار رکعت والی سنت غیر مؤکدہ میں دو مرتبہ ثناء پڑھنا چاہیے، کیا یہ بات درست ہے؟ جواب عنایت فرمائیں اور عنداللہ ماجور ہوں۔ (المستفتی : شکیل احمد، مالیگاؤں) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : ایک سلام سے چار رکعت نفل یا عصر اور عشاء سے پہلے کی چار رکعت سنت غیر مؤکدہ کو ادا کرنے کا دو طریقہ ہے، ایک طریقہ تو وہی ہے جو مشہور ہے یعنی قعدۂ اولی میں التحیات کے فوراً بعد کھڑا ہوجائے اور تسمیہ پڑھ کر سورہ فاتحہ اور کوئی سورۃ پڑھے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ پہلے قعدہ میں التحیات کے بعد کھڑا نہ ہو بلکہ درود ابراہیم اور دعائے ماثورہ بھی پڑھ لے اور تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوتو پہلے ثناء اور تعوذ وتسمیہ پڑھے اس کے بعد سورہ فاتحہ اور کوئی سورۃ پڑھے۔ اس لیے کہ چار رکعت والی سنتِ غیر مؤکدہ میں ہر دو رکعت مستقل نماز ہے اور تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہونا نئی تکبیرِ تحریمہ کے مرتبہ میں ہے۔ ملحوظ رہنا چاہیے کہ دونوں طریقہ درست ہے، کسی طریقہ کو غلط اور کسی کو صحیح کہنا درست نہیں ہے۔ (قَوْلُ...