روایت "قبر میں دلہن کی طرح سوجا" کی تحقیق
سوال : مفتی صاحب ! کہیں بیان میں سننے میں آیا تھا کہ قبر میں جب مردہ فرشتوں کے سوالات کا درست جواب دے دیتا ہے تو فرشتے خوش ہو کر کہتے ہیں کہ دلہن کی طرح بے خوف ہو کرکے سوجا۔ جسے اسکے محبوب کے علاوہ کوئی نہیں جگاتا۔ سوال یہ ہیکہ یہ بات قرآن پاک میں وارد ہوئی ہے یا پھر احادیث مبارکہ میں؟ مع حوالہ ارسال فرمائیں۔ (المستفتی : فیضان احمد، مالیگاؤں) ----------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : سوال نامہ میں جن الفاظ کی تحقیق طلب کی گئی ہے وہ ترمذی شریف کی ایک معتبر روایت میں موجود ہیں اور وہ روایت درج ذیل ہے : حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کسی میت یا فرمایا تم میں سے کسی ایک کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے تو اس کے پاس سیاہ رنگ کے نیلی آنکھوں والے دو فرشتے آتے ہیں ایک کو منکر دوسرے کو نکیر کہا جاتا ہے وہ دونوں اس میت سے پوچھتے ہیں تو اس شخص (یعنی نبی کریم ﷺ (کے بارے میں کیا کہتا ہے وہ شخص وہی جواب دیتا ہے جو دنیا میں کہتا تھا کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد...