اشاعتیں

آن لائن سونے چاندی کی تجارت کا حکم

سوال : مفتی صاحب ! کیا online سونا یا پھر چاندی فون پے phone pe پر digital خریدنا اور وہیں پر بیچ دینا کیا جائز ہے؟ ایک بھائی کہ رہا ہے کی digital یعنی online سونا چاندی خریدنا درست نہیں ہے۔ آپ رہنمائی فرمائیں۔ (المستفتی : محمد سلمان، مالیگاؤں) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : آن لائن کسی ایپ بشمول phone pe وغیرہ کے ذریعہ جو سونا چاندی خریدا جاتا ہے، سب سے پہلی بات یہ کہ وہ خارج میں موجود ہی نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے کہ اس کی بیع شرعاً درست نہیں ہے۔ اور اگر بالفرض اس کو موجود مان لیا جائے تو اگرچہ اس کی بیع صحیح ہو جائے گی، لیکن اس پر حسی قبضہ کے بغیر اس کو آگے بیچنا جائز نہیں ہے، اور یہاں قبضہ کے بغیر اس کو آگے بیچا جاتا ہے، لہٰذا اس طرح کی تجارت جائز نہیں ہے اور اس کا نفع بھی حلال نہیں ہے۔ مِنْ حُكْمِ الْمَبِيعِ إذَا كَانَ مَنْقُولًا أَنْ لَا يَجُوزَ بَيْعُهُ قَبْلَ الْقَبْضِ۔ (الفتاویٰ الہندیۃ : ٣/١٣)فقط  واللہ تعالٰی اعلم  محمد عامر عثمانی ملی  29 رجب المرجب 1447 

ووٹر، امیدوار اور ان کے حامیوں سے اہم گزارش

✍ مفتی محمد عامر عثمانی ملی      (امام وخطیب مسجد کوہ نور) قارئین کرام ! شہر عزیز مالیگاؤں میں کارپوریشن الیکشن 2026 کی سرگرمیاں اپنے آخری مراحل میں ہیں، اس موقع پر عام رائے دہندگان، امیدوار حضرات، اور ان کے حامیوں کی خدمت میں شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں اہم باتیں عرض کی جا رہی ہیں تاکہ عمل کرنے والوں کو رہنمائی مل جائے اور من مانی کرنے والوں پر حجت تمام ہوجائے۔ اسی طرح دیگر حضرات بھی اس سے واقف ہوجائیں تاکہ بوقت ضرورت اور بقدرِ استطاعت وہ بھی ان برائیوں کے سدباب کی کوشش کریں۔ محترم قارئین ! سب سے پہلی ہدایت عام رائے دہندگان کے لیے ہے کہ 15 جنوری بروز جمعرات کو ووٹنگ ہوگی جس میں آپ اپنا آئینی حق ووٹ کا استعمال ضرور کریں۔ نیز ایسے حالات میں جبکہ N. R. C اور S. I. R لاگو کرکے در پردہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، ووٹنگ کی اہمیت دو چند ہوجاتی ہے۔ کیونکہ حق رائے دہی کا استعمال کرنا ہندوستانی ہونے کے لیے ایک بڑا ثبوت ہے۔ اسی طرح ووٹ کی شرعی حیثیت شہادت، سفارش اور وکالت کی ہے، جس سے بلاعذر غفلت اور کوتاہی برتنا شرعاً بھی درست نہیں ہے۔ نیز ووٹ اس امیدوار کو دی جائے ...

روایت "قبر میں دلہن کی طرح سوجا" کی تحقیق

سوال : مفتی صاحب ! کہیں بیان میں سننے میں آیا تھا کہ قبر میں جب مردہ فرشتوں کے سوالات کا درست جواب  دے دیتا ہے تو فرشتے خوش ہو کر کہتے ہیں کہ دلہن کی طرح بے خوف ہو کرکے سوجا۔ جسے اسکے محبوب کے علاوہ کوئی نہیں جگاتا۔ سوال یہ ہیکہ یہ بات قرآن پاک میں وارد ہوئی ہے یا پھر احادیث مبارکہ میں؟ مع حوالہ ارسال فرمائیں۔ (المستفتی : فیضان احمد، مالیگاؤں) ----------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : سوال نامہ میں جن الفاظ کی تحقیق طلب کی گئی ہے وہ ترمذی شریف کی ایک معتبر روایت میں موجود ہیں اور وہ روایت درج ذیل ہے : حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کسی میت یا فرمایا تم میں سے کسی ایک کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے تو اس کے پاس سیاہ رنگ کے نیلی آنکھوں والے دو فرشتے آتے ہیں ایک کو منکر دوسرے کو نکیر کہا جاتا ہے وہ دونوں اس میت سے پوچھتے ہیں تو اس شخص (یعنی نبی کریم ﷺ (کے بارے میں کیا کہتا ہے وہ شخص وہی جواب دیتا ہے جو دنیا میں کہتا تھا کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد...

پیسے لے کر الیکشن میں امیدواری چھوڑنا

سوال : الیکشن میں بعض حضرات آزاد امیدواری کا فارم بھرتے ہیں بعد میں کسی پارٹی کی طرف سے آفر آتا ہے کہ آپ اتنی اتنی رقم لے لیں اور اپنا فارم واپس لے لیں۔ تو کیا اس طرح پیسہ لے کر فارم واپس نکال لینا درست ہوگا؟ ملنے والی رقم کا کیا حکم ہوگا؟ (المستفتی : محمد مجتبی، مالیگاؤں) ----------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : مخالف امیدوار کو اپنے سے بہتر سمجھتے ہوئے یا اور کسی وجہ سے الیکشن میں فارم بھر کر واپس لے لینا اور امیدواری نہ کرنا شرعاً درست ہے بشرطیکہ اس میں کوئی دھوکہ دہی پیشِ نظر نہ ہو، لیکن اس کے لیے پیسوں کا لین دین کرنا قانوناً اور شرعاً بھی جائز نہیں ہے، اس لیے کہ یہ کوئی ایسا عمل نہیں ہے جس کے لیے اجرت لی جائے، بلکہ یہ رشوت ہے جس کے لین دین پر احادیث مبارکہ میں سخت وعید وارد ہوئی ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا : رشوت لینے اور دینے والے پر ﷲ تعالٰی نے لعنت فرمائی ہے۔ ایک دوسری حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”رشوت لینے اور...

سیاست میں دوستی اور دشمنی؟

✍️ مفتی محمد عامر عثمانی ملی      (امام وخطیب مسجد کوہ نور)  قارئین کرام! مالیگاؤں کارپوریشن الیکشن کی تاریخ طے ہوچکی ہے، جس کی وجہ سے شہری سیاست کا پارہ چڑھ چکا ہے، الیکشن میں امیدواری کے خواہشمند حضرات اپنے وارڈ میں مضبوط اثر رکھنے والی پارٹیوں سے ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے ہر طرح کے حربے استعمال کررہے ہیں، کوئی ریلی نکال رہا ہے تو کوئی پُر ہجوم میٹنگ کا انعقاد کررہا ہے، کوئی باقاعدہ پریس کانفرنس لے رہا ہے تو کوئی بائٹ دے کر اپنے لیڈر کو کھلے یا دبے الفاظ میں خوشامد کررہا ہے یا پھر دھمکی دے رہا ہے۔ کسی کا ٹکٹ اس کی موجودہ پارٹی سے کینسل ہورہا ہے تو وہ مخالف پارٹی سے امیدواری کررہا ہے تو ایسے موقع پر انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا درج ذیل انتہائی حکیمانہ فرمان عالیشان ضرور پڑھنا چاہیے اور اسے اپنے لیے مشعلِ راہ بنانا چاہیے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اپنے دوست کے ساتھ میانہ روی کا معاملہ رکھو۔ شاید کسی دن وہ تمہارا دشمن بن جائے اور دشمن کے ساتھ دشمنی میں بھی میانہ روی ہی رکھو کیونکہ ممکن ہے کہ کل وہی تمہارا دوست بن جائے۔ (ترمذی) کی...

بروز حشر حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے سجدہ کی مدت؟

سوال :  محترم مفتی صاحب! قیامت کے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم طويل سجدہ فرمائیں گے اس کے بعد آپ شفاعت کی اجازت دی جائے گی۔ کیا یہ حدیث ہے؟ اگر حدیث ہے تو اس سجدہ کی طوالت کیا ہوگی؟  (المستفتی : فضال احمد ملّی، مالیگاؤں) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : سوال نامہ میں جس روایت کی طرف اشارہ ہے وہ بخاری ومسلم سمیت متعدد کتب احادیث میں موجود ہے جو مکمل درج ذیل ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک دعوت میں تھے آپ ﷺ کے سامنے دست پیش کیا گیا اور آپ ﷺ کو دست کا گوشت مرغوب تھا تو آپ ﷺ اس میں سے نوچ نوچ کر کھانے لگے اور فرمایا کہ میں قیامت کے دن تمام آدمیوں کا سردار ہوں گا کیا تم جانتے ہو کس لئے؟ وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام اگلے پچھلے لوگوں کو ہموار میدان میں جمع کرے گا اس طرح کہ دیکھنے والا ان سب کو دیکھ سکے اور پکارنے والا انہیں اپنی آواز سنا سکے اور آفتاب ان کے (بہت) قریب آجائے گا پس بعض آدمی کہیں گے کہ تم دیکھتے نہیں کہ تمہاری کیا حالت ہو رہی ہے اور تمہیں کتنی مشقت پہنچ رہی ہے ی...

بدھ کے دن کسی کام کی ابتداء کرنے والی روایت کی تحقیق

سوال : مفتی صاحب! ایسی کوئی حدیث ہے جس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ "بدھ کے دن جو بھی کام شروع کیا جائے، وہ ضرور مکمل ہوتا ہے" اس کی تحقیق بیان فرمائیں۔ (المستفتی : محمد عفان، مالیگاؤں)  ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : سوال نامہ میں مذکور روایت "ما بُدِئَ بشيءٍ يومَ الأربعاءِ إلا تمَّ یعنی بدھ کے دن جو بھی کام شروع کیا جائے، وہ ضرور مکمل ہوتا ہے۔" کو محدثین بالخصوص علامہ ابن عراق کنانی، ملا علی قاری، علامہ زرقانی اور امام سخاوی رحمھم اللہ نے بے اصل اور غیر معتبر لکھا ہے، لہٰذا اس کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف کرنا اور اس کا بیان کرنا درست نہیں ہے۔ معلوم ہونا چاہیے کہ کام شروع کرنے کے لیے شرعاً کوئی خاص دن مقرر نہیں، کسی بھی دن اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل کرکے کام شروع کرسکتے ہیں۔ البتہ بدھ کے دن کسی کام کی شروعات، سلف صالحین کا معمول رہا ہے، اور اسے بہتر کہا گیا ہے۔ مطلب تجربہ سے بدھ کے دن کو سدھ یعنی اچھا پایا گیا ہے۔ ما بُدِئَ بشيءٍ يومَ الأربعاءِ إلا تمَّ الراوي: - • ملا علي قاري، الأسرار المرفو...