اشاعتیں

طلاق کے ساتھ ان شاءاللہ کہا تو؟

سوال : مفتی صاحب! زید نے ایک مسئلہ سنا کہ اگر کوئی شخص اس طرح اپنی بیوی کو کہے کہ "ان شا اللہ میں تم کو طلاق طلاق طلاق دیتا ہوں، تو طلاق واقع نہیں ہوگی کیونکہ اللہ پاک نہیں چاہتے کہ کسی بندہ کی طلاق ہو۔ کیا یہ بات صحیح ہے؟ نوٹ : زید اپنی بیوی کو جو مسئلہ سنا وہ صرف سمجھانے کیلئے بھی اس طرح کہا ہو تو اس پر کیا حکم ہوگا؟ برائے کرم آپ اس کا جواب عنایت فرمائیں۔ (المستفتی : عبداللہ انجینئر، مالیگاؤں)  ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : طلاق کے لفظ کے ساتھ فوراً یعنی بغیر کسی توقف کے ان شاء اللہ کہا تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔ اسی طرح طلاق سے پہلے ان شاء اللہ کہا تب بھی کوئی طلاق نہیں ہوگی۔ دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ ہے : اگر کسی نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور اس کے بعد فوراً ان شاء اللہ بھی کہا تو اس سے طلاق واقع نہ ہوگی کیونکہ ان شاء اللہ کہنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر اللہ چاہے تو تجھے طلاق ہے، اللہ کی مشیت کسی کو معلوم نہیں، اس لیے ایسی شرط لگانے سے طلاق واقع نہ ہوگی۔ اور اگر طلاق کا جملہ بولا اور کچھ دیر تک توقف کیا پھر کچھ ...

مردوں کا عورتوں کی نقالی کرنا اور ویڈیو بنانا

سوال : مفتی صاحب! مردوں کا عورتوں کی ایکٹنگ کرنا یعنی ان کے جیسے کپڑے پہننا اور ان کے انداز اور لب ولہجہ میں بات کرنا اور اس کی ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر ڈالنا کیسا ہے؟ شریعت کی روشنی رہنمائی فرمائیں اور عنداللہ ماجور ہوں۔ (المستفتی : محمد عبداللہ، مالیگاؤں)  ----------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : عورت کو مرد کی اور مرد کو عورت کی مشابہت اختیار کرنا حرام ہے، حدیث شریف میں آتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے مشابہت اختیار کرنے والے مردوں پر لعنت فرمائی اور مردوں سے مشابہت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔ مرد کا عورتوں سے مشابہت کا مطلب یہ ہے کہ مرد کا عورتوں کی طرح لباس پہننا، ان کے جیسے لمبے بال رکھنا، مٹکنا اور کولھے ہلانا، ہاتھ پاؤں میں مہندی لگانا، عورتوں کی طرح بولنا، ان کی حرکات و سکنات اختیار کرنا یہ سب حرام ہے اور اس پر لعنت کی گئی۔  معلوم ہوا کہ سوال نامہ میں جو باتیں پوچھی گئی ہیں وہ سب ناجائز اور حرام ہیں، ان کے کرنے والے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی لعنت ہے۔ ملحوظ رہنا چاہیے کہ ل...

کیا حضور نے کبھی میدہ کی روٹی تناول فرمائی ہے؟

سوال : محترم مفتی صاحب! ایک ویڈیو میں دیکھا، ایک حضرت نے پیزا، برگر، بریڈ، میگی، نوڈلس وغیرہ کے نقصانات بتاتے ہوئے کہا کہ حضور نبی اکرم صل اللہ علیہ و سلم نے اپنی پوری زندگی میں کبھی میدہ یا میدے کی بنی ہوئی کوئی چیز نہیں کھائی۔ ذہن میں سوال آتا ہے کہ کیا اسوقت میدہ نہیں رہا ہوگا؟ یا آپکو پسند نہیں تھا؟ یا کوئی حکمت پوشیدہ تھی اس میں؟ احادیث میں کہیں ذکر ملتا ہے اس بات کا؟ (المستفتی : عمران الحسن، مالیگاؤں) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : یہ بات درست ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے میدہ یا میدہ کی روٹی تناول نہیں فرمائی جیسا کہ درج ذیل حدیث شریف میں میں آتا ہے۔ ابوحازم کہتے ہیں کہ میں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا آپ نے میدہ دیکھا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک میدہ نہیں دیکھا تھا، تو میں نے پوچھا: کیا لوگوں کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چھلنیاں نہ تھیں؟ انہوں نے جواب دیا : میں نے کوئی چھلنی نہیں دیکھی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو...

دو مرتبہ ثناء والی چار رکعت ؟

سوال : مفتی صاحب! سوشل میڈیا پر یہ مسئلہ کافی وائرل ہے کہ چار رکعت والی سنت غیر مؤکدہ میں دو مرتبہ ثناء پڑھنا چاہیے، کیا یہ بات درست ہے؟ جواب عنایت فرمائیں اور عنداللہ ماجور ہوں۔ (المستفتی : شکیل احمد، مالیگاؤں)  ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : ایک سلام سے چار رکعت نفل یا عصر اور عشاء سے پہلے کی چار رکعت سنت غیر مؤکدہ کو ادا کرنے کا دو طریقہ ہے، ایک طریقہ تو وہی ہے جو مشہور ہے یعنی قعدۂ اولی میں التحیات کے فوراً بعد کھڑا ہوجائے اور تسمیہ پڑھ کر سورہ فاتحہ اور کوئی سورۃ پڑھے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ پہلے قعدہ میں التحیات کے بعد کھڑا نہ ہو بلکہ درود ابراہیم اور دعائے ماثورہ بھی پڑھ لے اور تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوتو پہلے ثناء اور تعوذ وتسمیہ پڑھے اس کے بعد سورہ فاتحہ اور کوئی سورۃ پڑھے۔ اس لیے کہ چار رکعت والی سنتِ غیر مؤکدہ میں ہر دو رکعت مستقل نماز ہے اور تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہونا نئی تکبیرِ تحریمہ کے مرتبہ میں ہے۔ ملحوظ رہنا چاہیے کہ دونوں طریقہ درست ہے، کسی طریقہ کو غلط اور کسی کو صحیح کہنا درست نہیں ہے۔ (قَوْلُ...

خطبہ کے اخیر میں وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ پڑھنا

سوال :  امید ہے کہ مفتی صاحب خیریت سے ہوں۔ ایک مسئلہ ہے کہ جمعہ کے خطبہ ثانیہ میں امام صاحب خطبہ کے اختتام پر واللہ یعلم ما تصنعون کہتے ہیں اس پر کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں، تو کیا امام کا کہنا درست ہے؟ برائے مہربانی مدلل جواب دیجیے۔ (المستفتی : مولوی زید، پونے)  ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : خطبہ ثانیہ کو لفظ "اکبر" پر ختم کرنا شرعاً ضروری نہیں ہے، چنانچہ اگر کوئی امام اس سے آگے کوئی اور مفید جملہ یا کسی آیت کا ٹکڑا مثلاً "وَاِللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ" (ترجمہ : اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو) خطبہ میں بڑھا دے تو یہ خلافِ سنت نہیں ہے۔ کیوں کہ خود آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے لفظ "اکبر" پر خطبہ کو مکمل کرنے کا التزام نہیں فرمایا ہے۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء کا فتوی ہے : دونوں طرح سے پڑھنا درست ہے، مقصود ﷲ تعالیٰ کی عظمت بیان کرنا ہے، وہ درج کردہ تمام الفاظ سے حاصل ہوتے ہیں، وﷲ یعلم ماتصنعون کہنا بھی درست ہے۔ (وَكَفَتْ تَحْمِيدَةٌ أَوْ تَهْلِيلَةٌ أَوْ تَسْبِيحَةٌ) لِلْخُطْبَةِ الْمَفْرُوضَة...

افضل ایمان کس کا؟

سوال : مفتی صاحب! رج ذیل حدیث پاک کی تحقیق مطلوب ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے پوچھا کہ بتاؤ سب سے افضل ایمان کس کو ملا ہے؟ تو صحابہ نے جواب دیا کہ ملائکہ کو تو آپ ؐ نے جواب دیا کہ نہیں کیونکہ انکے سامنے تو اللہ کا غیبی نظام ہے۔ پھر صحابہ نے کہا کہ انبیاء کا تو آپؐ نے جواب دیا کہ نہیں کیونکہ انکے پاس تو وحی آتی ہے۔ پھر صحابہ نے کہا اب تو ہم رہ گئے، تو آپؐ نے کہا کہ تمہارے ساتھ تو اللہ کا نبی ہے تم معجزات کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو غزوات میں فرشتوں کو اترتے دیکھتے ہو۔ پھر صحابہ نے پوچھا کہ اللہ کے رسول پھر کن لوگوں کو سب سے افضل ایمان ملا ہے؟ تو نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ میرے بعد جو لوگ آئیں گے ان کا ایمان سب سے افضل ہو گا کیونکہ انکے سامنے یہ سب کچھ نہیں ہوگا۔ (المستفتی : فیضان احمد، مالیگاؤں) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : سوال نامہ میں جس روایت سے متعلق سوال کیا گیا ہے وہ مکمل درج ذیل ہے۔ حضرت عمرو بن شعیب بواسطہ اپنے والد، اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے ار...

والد کے گھر گئی تو طلاق، پھر والد کے انتقال کے بعد گئی تو؟

سوال :  مفتی صاحب! کسی نے ایک سوال پوچھا ہے کہ اگر کسی شوہر نے بیوی کو کہا کہ اگر تو اپنے والد کے گھر جائے تو تجھے تین طلاق، کچھ دن بعد والد کا انتقال ہو جاتا ہے، تو بیوی والد کے انتقال کے بعد والد کے گھر پہنچتی ہے، تو اس صورت میں طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ کیونکہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اب وہ والد کا گھر نہیں رہا بلکہ وراثت کا حصہ بن چکا ہے، تو اس کا کیا حکم ہوگا؟ (المستفتی : محمد ابوذر، پاچورہ) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : احناف کے نزدیک مفتی بہ قول کے مطابق جب آدمی کا انتقال ہوجائے تو اس کا مکان اس کی ملکیت سے نکل جاتا ہے اور وارثین کی ملکیت میں چلا جاتا ہے۔ چنانچہ جب گھر والد کا نہیں رہا تو عورت کا اپنے باپ کے گھر جانا لازم نہیں آیا۔ جس کی وجہ سے صورتِ مسئولہ میں شوہر کی لگائی ہوئی شرط پوری نہیں ہوئی، لہٰذا کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔  رَجُلٌ قَالَ لِامْرَأَتِهِ : إنْ دَخَلْتِ دَارَ فُلَانٍ فَأَنْت طَالِقٌ فَمَاتَ فُلَانٌ فَصَارَتْ الدَّارُ مِيرَاثًا فَدَخَلَتْ إنْ لَمْ يَكُنْ عَلَى الْمَيِّتِ دَيْنٌ مُسْتَغْرِ...