پیسے لے کر الیکشن میں امیدواری چھوڑنا
سوال :
الیکشن میں بعض حضرات آزاد امیدواری کا فارم بھرتے ہیں بعد میں کسی پارٹی کی طرف سے آفر آتا ہے کہ آپ اتنی اتنی رقم لے لیں اور اپنا فارم واپس لے لیں۔ تو کیا اس طرح پیسہ لے کر فارم واپس نکال لینا درست ہوگا؟ ملنے والی رقم کا کیا حکم ہوگا؟
(المستفتی : محمد مجتبی، مالیگاؤں)
-----------------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : مخالف امیدوار کو اپنے سے بہتر سمجھتے ہوئے یا اور کسی وجہ سے الیکشن میں فارم بھر کر واپس لے لینا اور امیدواری نہ کرنا شرعاً درست ہے بشرطیکہ اس میں کوئی دھوکہ دہی پیشِ نظر نہ ہو، لیکن اس کے لیے پیسوں کا لین دین کرنا قانوناً اور شرعاً بھی جائز نہیں ہے، اس لیے کہ یہ کوئی ایسا عمل نہیں ہے جس کے لیے اجرت لی جائے، بلکہ یہ رشوت ہے جس کے لین دین پر احادیث مبارکہ میں سخت وعید وارد ہوئی ہیں۔
حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا : رشوت لینے اور دینے والے پر ﷲ تعالٰی نے لعنت فرمائی ہے۔
ایک دوسری حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”رشوت لینے اور دینے والا دونوں ہی دوزخ میں جائیں گے۔
درج بالا احادیث مبارکہ رشوت کی حرمت پر صراحتاً دلالت کرتی ہیں، کیونکہ لعنت یعنی ﷲ تعالیٰ کی رحمت سے دوری کسی عظیم گناہ کی بنیاد پر ہی ہوتی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ رشوت گناہِ کبیرہ ہے جس کے مرتکب کو جہنم کی وعید سنائی گئی ہے، لہٰذا ہر مسلمان کا اس ملعون فعل سے بچنا ضروری ہے۔ اور اگر کسی نے لاعلمی میں ایسا کرلیا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ رشوت کی رقم دینے والے کو واپس کرے اور دونوں پر توبہ و استغفار بھی لازم ہے۔
عن أبي ہریرۃ -رضي اﷲ عنہ- لعن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم الراشي والمرتشي في الحکم۔ (ترمذي، باب ماجاء في الراشي والمرتشي في الحکم)
3) عن عبد الله بن عمرو قال: قال النبیﷺ: الراشی والمرتشی فی النار۔ (المعجم الأوسط، دارالفکر ۱/۵۵۰، رقم:۲۰۲۶)
قال العلامۃ ابن عابدین : الرشوۃ بالکسر ما یعطیہ الشخص الحاکم وغیرہ لیحکم لہ او یحملہ علی ما یرید۔ (ردالمحتار، ۴:۳۳۷،۳۳۸ مطلب فی الکلام علی الرشوۃ)
وَيَرُدُّونَهَا عَلَى أَرْبَابِهَا إنْ عَرَفُوهُمْ، وَإِلَّا تَصَدَّقُوا بِهَا لِأَنَّ سَبِيلَ الْكَسْبِ الْخَبِيثِ التَّصَدُّقُ إذَا تَعَذَّرَ الرَّدُّ عَلَى صَاحِبِهِ۔ (شامی : ٩/٣٨٥)فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
11 رجب المرجب 1447
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں