ووٹر، امیدوار اور ان کے حامیوں سے اہم گزارش

✍ مفتی محمد عامر عثمانی ملی
     (امام وخطیب مسجد کوہ نور)

قارئین کرام ! شہر عزیز مالیگاؤں میں کارپوریشن الیکشن 2026 کی سرگرمیاں اپنے آخری مراحل میں ہیں، اس موقع پر عام رائے دہندگان، امیدوار حضرات، اور ان کے حامیوں کی خدمت میں شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں اہم باتیں عرض کی جا رہی ہیں تاکہ عمل کرنے والوں کو رہنمائی مل جائے اور من مانی کرنے والوں پر حجت تمام ہوجائے۔ اسی طرح دیگر حضرات بھی اس سے واقف ہوجائیں تاکہ بوقت ضرورت اور بقدرِ استطاعت وہ بھی ان برائیوں کے سدباب کی کوشش کریں۔

محترم قارئین ! سب سے پہلی ہدایت عام رائے دہندگان کے لیے ہے کہ 15 جنوری بروز جمعرات کو ووٹنگ ہوگی جس میں آپ اپنا آئینی حق ووٹ کا استعمال ضرور کریں۔ نیز ایسے حالات میں جبکہ N. R. C اور S. I. R لاگو کرکے در پردہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، ووٹنگ کی اہمیت دو چند ہوجاتی ہے۔ کیونکہ حق رائے دہی کا استعمال کرنا ہندوستانی ہونے کے لیے ایک بڑا ثبوت ہے۔ اسی طرح ووٹ کی شرعی حیثیت شہادت، سفارش اور وکالت کی ہے، جس سے بلاعذر غفلت اور کوتاہی برتنا شرعاً بھی درست نہیں ہے۔ نیز ووٹ اس امیدوار کو دی جائے جو منصب کا اہل اور قوم و ملت کے حق میں مفید ہو، ووٹ دینے میں ذاتی مفاد، برادری، اور تعلقات و عقیدت کو ترجیح دینا درست نہیں ہے۔

دوسری ہدایت الیکشن میں امیدواری کرنے والے افراد کے لیے ہے کہ اگر آپ الیکشن ہار جاتے ہیں تب بھی آپ کو دل برداشتہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے، آپ جیتنے والے امیدوار اور ووٹروں کو اپنا دشمن نہ سمجھیں، اور انہیں ایذا اور تکلیف دینے کے ارادہ سے مکمل طور پر باز رہیں، اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی رہ کر اجر و ثواب کے مستحق بنیں۔ ایسے موقع پر آپ کے لیے ضروری ہے آپ اپنا محاسبہ کریں اور عوامی روابط اور اپنی خدمات کے دائرے کو مزید وسیع کریں، اگر آپ نے ایسا کرلیا تو یقیناً آپ دنیا و آخرت میں فلاح پانے والے ہوں گے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا ضابطہ ہے کہ وہ کام کو اچھے انداز میں کرنے والوں کی محنتوں کو ضائع نہیں فرماتا۔ نیز آپ کو اس بات کا بھی علم ہونا چاہیے کہ اگر آپ نے عوامی خدمت کے جذبہ سے انتخاب میں حصہ لیا تھا، لیکن آپ کو اس کا موقع نہیں مل سکا تب بھی آپ عنداللہ ضرور اجرِ عظیم کے مستحق ہوں گے۔

فتح یاب ہونے والے امیدوار کے لیے شرعی احکام یہ ہیں کہ وہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور دو رکعت نماز بطور شکرانہ اور صلوۃ الحاجت کے ادا کرلے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرکے اس کی مدد کا طلب گار ہو کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی کامیابی ملی ہے اور وہی اس منصب کی ذمہ داریوں کے ادا کرنے کی طاقت وقوت دینے والا ہے۔ اور اس بات سے بھی ڈرتا رہے کہ بروزِ حشر اس عہدے کی ذمہ داریوں سے متعلق اس سے سوال بھی ہوگا۔ اسی طرح ہارنے والے امیدواروں سے بھی دلجوئی کی جائے، اور اس بات کی پوری کوشش کی جائے کہ اپنی ذات اور اپنے حامیوں کی طرف سے کوئی ایسی حرکت سرزد نہ ہو جو ہارنے والے امیدوار اور ان کے حامیوں کی دل آزاری کا سبب بنے، جو اللہ کے یہاں سخت غصہ کا سبب ہے۔ لہٰذا اپنے حامیوں کو بھی اس بات کا پابند بنانے کی پوری کوشش کی جائے کہ فتح کے جشن میں آتش بازی، ناچ گانے، ڈھول باجے، گلال کھیلنے اور دل آزار نعروں اور غیرشرعی حرکتوں سے مکمل طور پر اجتناب کیا جائے۔ کیونکہ ان نوجوانوں کو روکنے کی سب سے پہلی ذمہ داری آپ کی ہی ہے۔ اس سلسلے میں غفلت برتنے کی صورت میں آپ بھی ان کے گناہوں میں حصہ دار ہوں گے۔ نیز اپنے دورِ اقتدار میں حتی الامکان ایسی سرگرمیوں سے احتراز فرمائیں جو آپ کے منصب کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں خلل پیدا کریں۔

تیسری اور سب سے اہم ہدایات پارٹی ورکرس اور جیتنے والے امیدواروں کے حامیوں کے لیے ہے کہ اس مرتبہ الیکشن کے نتائج کا اعلان جمعہ کے دن ہوگا۔ اس لیے نماز جمعہ کا خاص طور پر خیال رکھا جائے کہ نتائج کی مشغولی میں خدانخواستہ نماز جمعہ قضا نہ ہو، کیونکہ یہ سنگین گناہ ہے۔ اسی طرح آتش بازی، ناچنے گانے، ڈھول بجانے اور رنگ کھیلنے سے مکمل طور پر اجتناب کیا جائے، اس میں اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالنا، فضول خرچی، غیروں سے مشابَہت اور دوسروں کو تکلیف دینا بھی پایا جاتا ہے۔ یہ سارے کام گناہ کبیرہ ہیں۔ جس کی حدیث شریف میں ممانعت اور اس کے ارتکاب پر سخت وعید وارد ہوئی ہے، لہٰذا ہماری اپنی قوم کے نوجوانوں سے عاجزانہ اور دردمندانہ درخواست ہے کہ وہ ان کبیرہ گناہوں سے باز رہیں اور اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت نہ دیں۔ آپ کو اپنے محبوب امیدوار کے فتح کی خوشی ہے تو اس کا تقاضہ یہی ہے کہ آپ ان کے لیے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے منصب کی ذمہ داریوں کو کماحقہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اپنی حلال کمائی سے لوگوں میں مٹھائیاں تقسیم کردیں، غرباء اور مساکین کو کھانا کھلائیں ان میں کپڑے تقسیم کرکے ان کی دعائیں لیں، اور شہر کے مفاد میں کیے جانے والے کاموں میں ان کو مفید مشورے دیں، ان کے معاون ومددگار بنیں۔ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو بلاشبہ یہ آپ کے اور آپ کے محبوب امیدوار کے لیے دنیا و آخرت میں سرخروئی کا ذریعہ بنے گا۔

اللہ تعالٰی ہم سب کو اپنے پیش آمدہ مسائل میں شریعت مطہرہ کا حکم جان کر اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مستقیم بھائی آپ سے یہ امید نہ تھی

کیا ہے ہکوکا مٹاٹا کی حقیقت ؟