اشاعتیں

فروری, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

نابالغ بچوں کے لیے بنائے گئے زیورات پر زکوٰۃ ؟

سوال : مفتی صاحب! نابالغ بچیوں کے لیے اگر والدین زیورات بنا کر رکھے ہوں تو اُن پر زکوٰۃ کا کیا حکم ہوگا؟ (المستفتی : کاشف انجینئر، مالیگاؤں) ----------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : نابالغ بچے شریعت کے مکلف نہیں ہیں، لہٰذا اگر ان کے پاس نصاب کے بقدر مال ہو تب بھی ان پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔ چنانچہ اگر کوئی سونا خرید کر اپنے نابالغ بچے بچیوں کو باقاعدہ ہبہ اور گفٹ کردے، جس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ کم از کم دو افراد کو گواہ بنا کر یہ کہدے کہ میں نے یہ سونا اپنی فلاں فلاں بیٹی یا بیٹے کو ہبہ کردیا ہے تو یہ بچے اس کے مالک ہوجائیں گے اور سونا اس شخص کی ملکیت سے نکل جائے گا اور جب تک بچے نابالغ رہیں گے اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔ وَشَرْطُ افْتِرَاضِهَا عَقْلٌ وَبُلُوغٌ (قَوْلُهُ عَقْلٌ وَبُلُوغٌ) فَلَا تَجِبُ عَلَى مَجْنُونٍ وَصَبِيٍّ۔ (شامی : ٢/٢٥٨)فقط واللہ تعالٰی اعلم محمد عامر عثمانی ملی 05 رمضان المبارک 1447

سفراء کی بھرمار

اسباب اور حل ✍️ مفتی محمد عامر عثمانی ملی       (امام وخطیب مسجد کوہ نور)  قارئین کرام ! رمضان المبارک کی آمد سے پہلے ہی شہر عزیز مالیگاؤں میں ملک کے مختلف علاقوں کے مدارس کے چندے کے لیے سفراء حضرات کی آمد کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ گذشتہ تین سال پہلے اس سلسلے میں جمیعت علماء کی جانب سے منصوبہ بندی اور کچھ جعلی سفراء کی گرفت کے معاملات سامنے آنے کے بعد دو تین سال سے معاملات کچھ قابو میں تھے۔ لیکن اس سال ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے سفراء حضرات کی باڑھ آگئی ہے۔ سفراء کا جھنڈ کا جھنڈ شہر میں گھومتا ہوا دکھائی دے رہا ہے، مساجد کے علاوہ مکانات، دوکانوں، آفسوں اور کارخانوں میں بھی یہ حضرات بغیر کسی تعارف اور پرانی رسید کے پہنچ رہے ہیں۔ چھوٹی مساجد میں ایک وقت میں چار پانچ سفراء موجود ہوتے ہیں۔ بڑی مساجد میں یہ تعداد بڑھ کر بیس پچیس ہورہی ہے۔ بلکہ اندھیر یہ ہوگئی کہ آج ایک مسجد کی تصویر وائرل ہوئی ہے جس میں 58 سفراء چندہ کے لیے بیٹھے ہوئے ہیں۔ آپ اندازہ لگائیں کہ شہر میں چار سو سے زائد مساجد ہیں، ہر مسجد میں اگر ایک نماز میں کم از کم پانچ سفیر بھی شمار کیے جائیں تو یہ تعداد د...

ایک دن "شاہ جامیؒ" کے دیار میں

✍️ مفتی محمد عامر عثمانی ملی      (امام وخطیب مسجد کوہِ نور)  قارئین کرام! میرے بہت سے متعلقین کو اس بات کا علم ہے کہ میں عموماً سفر سے بچنے کی کوشش کرتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ سال سال بھر ہوجاتے ہیں میرا ایک یا دو سفر ہی ہوتا ہے وہ بھی ایک دن یا پھر نصف یوم کا۔ چند دنوں پہلے ہمارے واٹس اپ گروپ دارالافتاء کے سرپرست حضرت مولانا مفتی مسعود اختر صاحب قاسمی نے بذریعہ واٹس اپ اطلاع دی کہ آپ کو ہمارے مدرسہ کے سالانہ جلسہ میں بطور مہمان خصوصی شرکت کرنا ہے۔ چونکہ یہ خواہش مفتی صاحب کی طرف سے تھی اور مدرسہ کی تعطیلات کے ایام میں یہ جلسہ ہونا تھا، اس لیے میں نے بلا چوں وچرا دعوت قبول کرلی۔ جلسہ کی تاریخ قریب آئی تو یہ مرحلہ در پیش ہوا کہ کس طرح جامنیر پہنچنا ہے؟ چونکہ ہمیں فور وھیلر سے دقت ہوتی ہے اور قے ہونے لگتی ہے، اس لیے بذریعہ ٹو وھیلر ہی سفر کرنا طے ہوا۔ چنانچہ 10 فروری کو صبح نو بجے کے آس پاس اپنے تین رفقاء درس مولانا محمد اطہر ملی، ندوی، مولانا محمد مصطفی ملی اور مولانا محمد حامد ملی کے ساتھ مالیگاؤں سے جامنیر کے لیے روانہ ہوئے۔ چونکہ فاصلہ طویل (تقریباً پونے دو سو کلو میٹ...

حضرت موسی اور روزہ دار کی فضیلت والی روایت کی تحقیق

سوال : محترم مفتی صاحب! رمضان المبارک سے پہلے درج ذیل واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوتا ہے، براہ کرم اس کی تحقیق فرما دیں۔ ایک بار موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے پوچھا کہ یا اللہ جتنا میں آپ کے قریب ہوں، آپ سے بات کر سکتا ہوں اتنا کوئی اور قریب ہے؟ اللہ تعالی نے فرمایا : اے موسیٰ ! آخری وقت میں ایک امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہوگی اور اس امت کو ایک مہینہ ایسا ملے گا جس میں وہ خشک ہونٹوں، پیاسی زبان، سوکھی ہوئی آنکھیں، بھوکے پیٹ جب افطار کرنے بیٹھے گی تب میں اُن کے بہت قریب ہوں گا۔ موسیٰ تمہارے اور میرے درمیان ستر پر دوں کا فاصلہ ہے لیکن افطار کے وقت اُس اُمت اور میرے درمیان ایک پردے کا فاصلہ بھی نہیں ہو گا اور جو دعاوہ مانگیں گے اُسے قبول کرنا میری ذمہ داری ہو گی۔ (المستفتی : اعجاز احمد، مالیگاؤں)  ----------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : افطار کے وقت روزہ دار کی دعا کی قبولیت کا ثبوت حدیث شریف سے ملتا ہے، لیکن سوال نامہ میں مذکور روایت معتبر نہیں ہے، اس روایت کو عبدالرحمن بن عبدالسلام الصفوری رحمہ اللہ کی کتاب "نزهة المجالس و من...

چاندی کی بڑھتی قیمت اور مہر کی مقدار؟

✍️ مفتی محمد عامر عثمانی ملی      (امام وخطیب مسجد کوہ نور)  قارئین کرام! بہت سے لوگوں کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ چاندی کی قیمت تقریباً چار گنا تک بڑھ چکی ہے، یا اگر چاندی کی قیمت کا علم ہے تو انہیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ نکاح میں مہر چاندی کی قیمت کے اعتبار سے مقرر کیا جاتا ہے۔ جو چاندی آج سے چند مہینے پہلے فی تولہ 1000 روپے کے آس پاس چل رہی تھی وہ فی الحال 3500 کے آس پاس چل رہی ہے۔  معلوم ہونا چاہیے کہ احناف کے نزدیک کم سے کم مہر دس درہم ہے جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : عورتوں کا نکاح غیر کفوء میں نہ کرو اور ان کا نکاح سرپرستوں کے علاوہ کوئی نہ کرے اور مہر دس درہم سے کم مقرر نہیں ہوسکتا۔ (بیہقی)  دس درہم کا وزن گرام کے اعتبار سے 30 گرام 618 ملی گرام چاندی ہے، دس گرام کا ایک تولہ ہوتا ہے، اس لیے مہر مقرر کرنے سے پہلے ایک مرتبہ چاندی کی آن لائن یا آف لائن قیمت معلوم کرلیں، اور عموماً آن لائن کی بہ نسبت آف لائن کی قیمت کم ہوتی ہے۔ لہٰذا آف لائن کے اعتبار سے بھی...