نابالغ بچوں کے لیے بنائے گئے زیورات پر زکوٰۃ ؟
سوال :
مفتی صاحب! نابالغ بچیوں کے لیے اگر والدین زیورات بنا کر رکھے ہوں تو اُن پر زکوٰۃ کا کیا حکم ہوگا؟
(المستفتی : کاشف انجینئر، مالیگاؤں)
-----------------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : نابالغ بچے شریعت کے مکلف نہیں ہیں، لہٰذا اگر ان کے پاس نصاب کے بقدر مال ہو تب بھی ان پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔ چنانچہ اگر کوئی سونا خرید کر اپنے نابالغ بچے بچیوں کو باقاعدہ ہبہ اور گفٹ کردے، جس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ کم از کم دو افراد کو گواہ بنا کر یہ کہدے کہ میں نے یہ سونا اپنی فلاں فلاں بیٹی یا بیٹے کو ہبہ کردیا ہے تو یہ بچے اس کے مالک ہوجائیں گے اور سونا اس شخص کی ملکیت سے نکل جائے گا اور جب تک بچے نابالغ رہیں گے اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔
وَشَرْطُ افْتِرَاضِهَا عَقْلٌ وَبُلُوغٌ (قَوْلُهُ عَقْلٌ وَبُلُوغٌ) فَلَا تَجِبُ عَلَى مَجْنُونٍ وَصَبِيٍّ۔ (شامی : ٢/٢٥٨)فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
05 رمضان المبارک 1447
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں