حضرت موسی اور روزہ دار کی فضیلت والی روایت کی تحقیق
سوال :
محترم مفتی صاحب! رمضان المبارک سے پہلے درج ذیل واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوتا ہے، براہ کرم اس کی تحقیق فرما دیں۔
ایک بار موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے پوچھا کہ یا اللہ جتنا میں آپ کے قریب ہوں، آپ سے بات کر سکتا ہوں اتنا کوئی اور قریب ہے؟ اللہ تعالی نے فرمایا : اے موسیٰ ! آخری وقت میں ایک امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہوگی اور اس امت کو ایک مہینہ ایسا ملے گا جس میں وہ خشک ہونٹوں، پیاسی زبان، سوکھی ہوئی آنکھیں، بھوکے پیٹ جب افطار کرنے بیٹھے گی تب میں اُن کے بہت قریب ہوں گا۔ موسیٰ تمہارے اور میرے درمیان ستر پر دوں کا فاصلہ ہے لیکن افطار کے وقت اُس اُمت اور میرے درمیان ایک پردے کا فاصلہ بھی نہیں ہو گا اور جو دعاوہ مانگیں گے اُسے قبول کرنا میری ذمہ داری ہو گی۔
(المستفتی : اعجاز احمد، مالیگاؤں)
-----------------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : افطار کے وقت روزہ دار کی دعا کی قبولیت کا ثبوت حدیث شریف سے ملتا ہے، لیکن سوال نامہ میں مذکور روایت معتبر نہیں ہے، اس روایت کو عبدالرحمن بن عبدالسلام الصفوری رحمہ اللہ کی کتاب "نزهة المجالس و منتخب النفائس" میں ذکر کیا ہے، لیکن انہوں نے اس کی کوئی سند ذکر نہیں کی ہے۔لہٰذا اس کا بیان کرنا درست نہیں ہے۔
قال موسى عليه السلام : يا رب أكرمتني بالتكليم، فهل أعطيت أحداً مثل ذلك؟ فأوحى الله تعالى: يا موسى! إن لي عباداً أخرجهم في آخر الزمان وأكرمهم بشهر رمضان فأكون أقرب لأحدهم منك؛ لأنك كلمتني وبيني وبينك سبعون ألف حجاب، فإذا صامت أمة محمد صلى الله عليه وسلم حتى ابيضت شفاههم واصفرت ألوانهم أرفع الحجب بيني وبينهم وقت إفطارهم، يا موسى طوبى لمن عطش كبده وأجاع بطنه في رمضان، وقال كعب الأحبار: أوحى الله إلى موسى أني كتبت على نفسي أن لا أرد دعوة صائم رمضان۔ (نزهة المجالس ومنتخب النفائس : ١/١٦٥)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمْ: الصَّائِمُ حِينَ يُفْطِرُ وَالْإِمَامُ الْعَادِلُ وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ يَرْفَعُهَا اللَّهُ فَوْقَ الْغَمَامِ وَتُفْتَحُ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَيَقُولُ الرَّبُّ: وَعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكِ وَلَوْ بعد حِين۔ (سنن الترمذی، رقم : ٢٥٢٦)فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
16 شعبان المعظم 1447
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں