روایت "بال چھوٹا بڑا رکھنے والے پر اللہ کی ہر وقت لعنت" کی تحقیق

سوال :

مفتی صاحب ! ایک مشہور مقرر کا ایک ویڈیو واٹس ایپ پر چل رہا ہے جس میں مقرر بالوں کے متعلق ایک حدیث بحوالہ بخاری شریف بیان کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں کہ "ہمارے نبی فرماتے ہیں ایک زمانہ آئے گا کہ میرے امتیوں کے سر کے اوپر کچھ حصے پر بال ہوں گے اور کچھ حصے پر نہیں ہوں گے۔ ہمارے نبی نے اس وقت فرمایا جب میرے وہ امتی ائے سمجھنا یہ وہ سر ہیں جن پر 24 گھنٹے اللہ کی لعنت اترتی ہے" 
اس حدیث کا حوالہ عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی۔
(المستفتی : مولوی مجاہد، بسمت)
------------------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : بالوں کا کوئی حصہ چھوٹا کوئی حصہ بڑا رکھنا منع ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک بچہ کو دیکھا کہ اس کے سر کے بعض حصے کے بال مونڈے ہوئے اور بعض حصے میں بال چھوڑ دیے گئے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے منع فرمایا، اور ارشاد فرمایا کہ : (اگر بال مونڈنا ہو تو) پورے سر کے بال مونڈو (اور اگر بال رکھنے ہوں تو) پورے سر پر بال رکھو۔

چھوٹے بڑے بال رکھنا ناجائز اور گناہ کی بات ہے جس سے بچنا ضروری ہے، لیکن سوال نامہ میں جو بات بیان کی گئی ہے وہ نہ تو بخاری شریف میں ہے اور نہ ہی اور کسی حدیث کی کتاب میں یہ روایت مذکور ہے، لہٰذا یہ روایت بیان کرنا اور اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف منسوب کرنا جائز نہیں ہے۔


عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى صَبِيًّا قَدْ حُلِقَ بَعْضُ شَعْرِهِ وَتُرِكَ بَعْضُهُ، فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ وَقَالَ : احْلِقُوهُ كُلَّهُ أَوِ اتْرُكُوهُ كُلَّهُ۔ (سنن ابی داؤد، رقم : ٤١٩٥)

عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ۔ (صحیح البخاری، رقم : ١١٠)فقط 
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
26 محرم الحرام 1448

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں