قبر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے سوال؟
سوال :
ایک دس سالہ طالبہ کا سوال ہے کہ قبر میں منکر نکیر جو سوالات ہم سے کریں گے کیا وہ سوالات حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کیے گئے؟ جواب عنایت فرمائیں۔
(المستفتی : ضیاء الرحمن، مالیگاؤں)
------------------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : انبیاء اور رسول، اللہ تعالیٰ کے منتخب بندے ہوتے ہیں جو معصوم عن الخطاء یعنی گناہوں سے پاک ہوتے ہیں۔ چنانچہ عقیدہ کی انتہائی اہم کتاب فقہ اکبر میں لکھا ہے کہ حساب وکتاب اور قبر میں سوال وجواب کے حکم سے تمام انبیاء علیہم السلام مستثنیٰ ہیں، ان سے قبر میں سوال وجواب نہیں ہوتا ہے۔
دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ ہے :
حضراتِ انبیاء کرام ورسل سے قبر میں سوال نہیں ہوتا، منکر نکیر ان سے سوال نہیں کرتے۔ (رقم الفتوی : 603917)
معلوم ہوا کہ تمام انبیاء ورسل سے قبر میں سوال وجواب اور حشر میں حساب وکتاب نہیں ہوگا، اور ہمارے آقا جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تو انبیاء اور رسولوں کے سردار ہیں، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے بدرجہ اولی سوال نہیں ہوگا۔
واستثنی من عموم سوال القبر الأنبیاء علیہم السلام والأطفال والشہداء … ففي الکفایۃ أن لا سوال للأنبیاء علیہ السلام۔ (شرح الفقہ الأکبر ۱۲۱، أشرفي بکڈپو دیوبند)
وَقد قَالَ النَّسَفِيّ فِي بَحر الْكَلَام الْأَنْبِيَاء وَأَطْفَال الْمُؤمنِينَ لَيْسَ عَلَيْهِم حِسَاب وَلَا عَذَاب الْقَبْر وَلَا سُؤال مُنكر وَنَكِير۔ (شرح الصدور للإمام السیوطي : ١٥٢)فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
28 ربیع الآخر 1448
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں