ایک پیر کھڑا کرکے دوسرا پیر اس پر رکھ کر لیٹنا

سوال :

محترم مفتی صاحب! کیا درج ذیل حدیث شریف درست ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی آدمی چت لیٹ کر ایک ٹانگ کو کھڑی کرکے دوسری ٹانگ کو اس پر نہ رکھے۔
(المستفتی : محمد ذاکر، مالیگاؤں) 
------------------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم 
الجواب وباللہ التوفيق : سوال نامہ میں مذکور روایت درست ہے اور مسلم شریف سمیت حدیث کی متعدد کتابوں میں موجود ہے۔

معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ممانعت اس صورت میں ہے جب ازار یعنی لنگی تنگ ہو اور ایسا کرنے سے ستر کھلنے کا اندیشہ ہو، اور اگر ازار کشادہ ہو یا پاجامہ پہنے ہوں جس سے ستر کھلنے کا اندیشہ نہ ہوتو پھر مذکورہ طریقہ پر لیٹا درست ہے، کیونکہ مسلم شریف کی دوسری روایت میں آیا ہے کہ عباد بن تمیم اپنے چچا (عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں ایک پیر کو دوسرے پیر پر رکھے ہوئے چت لیٹے دیکھا۔ 


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ اشْتِمَالِ الصَّمَّائِ وَالِاحْتِبَائِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَأَنْ يَرْفَعَ الرَّجُلُ إِحْدَی رِجْلَيْهِ عَلَی الْأُخْرَی وَهُوَ مُسْتَلْقٍ عَلَی ظَهْرِهِ۔ (صحیح المسلم، رقم : 2099)

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَمِّهِ أَنَّهُ رَأَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَلْقِيًا فِي الْمَسْجِدِ وَاضِعًا إِحْدَی رِجْلَيْهِ عَلَی الْأُخْرَی۔ (صحیح المسلم، رقم : 2100)فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
25 ربیع الآخر 1448

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ایرانی لیڈر کی موت اور ہمارا طرزِ عمل؟

مستقیم بھائی آپ سے یہ امید نہ تھی