پر فتن دور سے متعلق ایک روایت کی تحقیق

سوال : 

محترم مفتی صاحب! درج ذیل حدیث کی تحقیق ارسال فرمائیں۔

عنقریب لوگوں پر ایک ایسا پرفتن دور آئے گا کہ جس میں لوگ شکل و صورت میں تو سادہ انسان ہی ہوں گے، مگر انکے دل بھیڑیوں کے دلوں کی طرح ہونگے، انکی جوان نسل بدکار ہوگی، انکے بچے بد خو و بدتمیز ہوں گے، اور انکے بوڑھے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو چھوڑ دیں گے، فاسق و بے دین شخص ان میں معزز و قابل قدر ہوگا، اور مومن و شریعت کا پابند شخص ان میں حقیر و کمتر ہوگا۔
(المستفتی : خالد مسیح اللہ، مالیگاؤں) 
------------------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم 
الجواب وباللہ التوفيق : سوال نامہ میں مذکور روایت کمی بیشی کے ساتھ طبرانی کی معجم کبیر، معجم صغیر اور ہیثمی کے مجمع الزوائد وغیرہ میں ملتی ہے۔ لیکن ابن جوزی اور ذہبی رحمھما اللہ نے اس کو موضوعات یعنی غیر معتبر روایات میں شمار کیا ہے۔ لہٰذا اس کا بیان کرنا درست نہیں ہے۔


[عن عبدالله بن عباس:] سيجيءُ في آخرِ الزَّمانِ أقوامٌ أكثرُ وجوهِهم وجوهُ الآدميِّين، وقلوبُهم قلوبُ الذِّئابِ الضَّواري، ليس في قلوبِهم شيءٌ من الرَّحمةِ، سفّاكين للدِّماءِ، لا يرعوون عن [قبيحٍ]، إن بايعتَهم ضاروك، وان ائتمنتَهم خانوك، صبيُّهم عارمٌ، وشيخُهم لا يأمرُ بالمعروفِ، ولا ينهى عن المنكرِ، الاعتزازُ، بهم ذُلٌّ، وطلَبُ ما في أيديهم فقرٌ، والمؤمنُ فيهم مستضعَفٌ، والسُّنَّةُ فيهم بدعةٌ، والبدعةُ فيهم سنَّةٌ، لذلك سلَّط عليهم شِرارَهم، ويدعو خيارُهم، فلا يُستجابُ لهم
ابن الجوزي، الموضوعات لابن الجوزي (٣/٤٦٠) • موضوع • أخرجه الطبراني (١١/٩٩) (١١١٦٩)، والخطيب في ((تاريخ بغداد)) (٢/٣٩٩)، وابن الجوزي في ((الموضوعات)) (٣/١٩٠) واللفظ له۔ فقط 
واللہ تعالٰی اعلم 
محمد عامر عثمانی ملی 
16 جمادی الاول 1448



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ایرانی لیڈر کی موت اور ہمارا طرزِ عمل؟

مستقیم بھائی آپ سے یہ امید نہ تھی