مجنون بالغ کی نماز جنازہ میں کون سی دعا پڑھی جائے گی؟
سوال :
مفتی صاحب! عرض یہ ہے کہ ہمارے عزیز کو پانچ منٹ کا مدرسہ میں یہ پڑھنے میں آیا تھا کہ اگر کوئی بچہ پیدائشی پاگل ہو اور وہ سن بلوغت کی عمر میں انتقال کر جاۓ تو اسکی نماز جنازہ میں نابالغ بچوں کی جو دعا ہے وہ پڑھی جاۓ گی۔ اس پر رہنمائی فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔
(المستفتی : آصف اقبال، مالیگاؤں)
------------------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : پیدائشی مجنون یا بلوغت سے پہلے پہلے اگر کوئی مجنون اور پاگل ہوجائے اور اس کا انتقال بالغ ہونے کے بعد ہوتو اس کی نماز جنازہ میں نابالغ کی دعا پڑھی جائے گی، اس لیے کہ ایسا شخص شریعت کا مکلف نہیں ہے اور وہ نابالغ ہی شمار ہوگا۔ ہاں اگر بلوغت کے بعد پاگل ہوا ہے تو مدتِ بلوغت کے ایامِ صحت کی رعایت کرتے ہوئے یہ شخص بالغ شمار ہوگا، اور اس کی نمازِ جنازہ میں بالغ والی دعا پڑھی جائے گی۔
معلوم ہوا کہ آپ کے عزیز نے جو بات پڑھی ہے وہ درست ہے۔
والمجنون کالطفل ذکرہ في المحیط وینبغي أن یقید بالجنون الأصلي لأنہ لم یکلف فلا ذنب لہ کالصبي بخلاف العارضي فإنہ قد کلف وعروض الجنون لا یمحو ما قبلہ بل ہو کسائر الأمراض ورفعہ للتکلیف إنما ہو فیما یأتي لا فیما مضی۔ (حلبی کبیر :/۵۸۷)فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
29 ربیع الآخر 1448
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں