چوتھے دن قربانی کرنے والوں کا گوشت قبول کرنا
سوال : مفتی صاحب! ایک سوال یہ پوچھنا تھا کہ ایک مسلک کے لوگ چوتھے روز قربانی کرتے ہیں، اب وہ لوگ گوشت گھر پر پہنچا کر جائیں تو کیا ان کا گوشت لینا جائزہے؟ انہوں نے نہ ہی بقرعید، باسی، تیواسی کو قربانی کی، ڈائریکٹ چواسی کو قربانی کی ہے۔ (المستفتی : محمد سعود، مالیگاؤں) ------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : نحر یعنی قربانی کے صرف تین دن ہیں، جو دس، گیارہ اور بارہ ذی الحجہ کے ہیں۔ جیسا کہ حضرت عبداللہ ابن عمر، حضرت انس ابن مالک اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہم کی روایات معلوم ہوتا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے بعد دو دن قربانی کے ہیں۔ چوتھے دن قربانی سے متعلق جو روایات ہیں وہ سب غیرمعتبر اور ناقابلِ استدلال ہیں، چنانچہ امام ابوحنیفہ، امام مالک اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ تینوں حضرات کا یہی مسلک ہے کہ قربانی کے تین دن ہیں۔ ائمہ اربعہ میں سے تین ائمہ کرام کے یہاں چوتھے دن اگر کوئی قربانی کرے تو اس کی قربانی نہیں ہوگی۔ نیز اس میں بھی پہلے تین دن جو اتفاقی ہیں اور فضیلت رکھتے ہیں انہیں قصداً چھوڑ کر اختلافی دن قربانی کرنا بلاشبہ ضد اور نا ان...