سفراء کی بھرمار

اسباب اور حل

✍️ مفتی محمد عامر عثمانی ملی 
     (امام وخطیب مسجد کوہ نور) 

قارئین کرام ! رمضان المبارک کی آمد سے پہلے ہی شہر عزیز مالیگاؤں میں ملک کے مختلف علاقوں کے مدارس کے چندے کے لیے سفراء حضرات کی آمد کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ گذشتہ تین سال پہلے اس سلسلے میں جمیعت علماء کی جانب سے منصوبہ بندی اور کچھ جعلی سفراء کی گرفت کے معاملات سامنے آنے کے بعد دو تین سال سے معاملات کچھ قابو میں تھے۔ لیکن اس سال ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے سفراء حضرات کی باڑھ آگئی ہے۔ سفراء کا جھنڈ کا جھنڈ شہر میں گھومتا ہوا دکھائی دے رہا ہے، مساجد کے علاوہ مکانات، دوکانوں، آفسوں اور کارخانوں میں بھی یہ حضرات بغیر کسی تعارف اور پرانی رسید کے پہنچ رہے ہیں۔

چھوٹی مساجد میں ایک وقت میں چار پانچ سفراء موجود ہوتے ہیں۔ بڑی مساجد میں یہ تعداد بڑھ کر بیس پچیس ہورہی ہے۔ بلکہ اندھیر یہ ہوگئی کہ آج ایک مسجد کی تصویر وائرل ہوئی ہے جس میں 58 سفراء چندہ کے لیے بیٹھے ہوئے ہیں۔

آپ اندازہ لگائیں کہ شہر میں چار سو سے زائد مساجد ہیں، ہر مسجد میں اگر ایک نماز میں کم از کم پانچ سفیر بھی شمار کیے جائیں تو یہ تعداد دو ہزار سے اوپر جارہی ہے۔ 

ہمارے شہر میں مسلمانوں کی آبادی چھ لاکھ سے زائد ہے اور یہاں پانچ سات قیام وطعام والے مدارس ہیں جو کافی شافی ہیں، ان میں بھی طلباء وطالبات کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہے۔ اتنے بڑے علاقے میں چار پانچ بڑے ادارے بھی کافی ہیں تو یہ ہزاروں کی تعداد میں سفراء کہاں سے آرہے ہیں؟ ان میں بھی اکثریت یوپی، بہار، اڑیسہ، آسام، بنگال کے سفراء کی ہوتی ہے۔ یعنی ان چار پانچ ریاستوں سے ہی ہزاروں کی تعداد میں سفراء آرہے ہیں، بقیہ ریاستوں کا حساب نہیں ہے۔

سفراء کی اتنی بڑی تعداد ہر باشعور افراد کو یہ سوچنے پر مجبور کررہی ہے کہ اتنے قیام وطعام والے مدارس آخر کہاں پر ہیں جن کے سفراء صرف ایک شہر میں ہزاروں کی تعداد میں آرہے ہیں، اور جو سفراء مالیگاؤں کے علاوہ دیگر علاقوں میں ہیں، ان کی گنتی کہاں تک پہنچے گی؟ کیا ہم اس کا اندازہ کرسکتے ہیں؟ 

سفراء کی اس حد سے زیادہ بڑھتی ہوئی تعداد سے چندہ دہندگان کنفیوز بلکہ بدظن ہورہے ہیں کہ کس کس کو چندہ دیا جائے؟ اور کتنا دیا جائے؟ اس کی وجہ سے بہت سے افراد کسی کو بھی چندہ نہیں دے پا رہے ہیں، جس کا سیدھا نقصان مستحق اداروں کو ہوگا۔

ہماری اپنی معلومات کے مطابق بعض سفراء ساٹھ فیصد تک کمیشن لیتے ہیں، اور ظاہر سی بات ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں کمیشن کوئی معروف یا معتبر دینی ادارہ والے بالکل نہیں دیں گے، یہ غیر معروف، غیرضروری اور غیر معیاری اداروں بلکہ فراڈیوں کا کام ہے۔ اسی میں کسی حد تک شفافیت لانے کے لیے جمیعت علماء کی جانب سے تصدیق نامہ کا سلسلہ جاری کیا گیا ہے جو شرعاً بھی مستحسن عمل ہے اس کی وجہ سے بہت حد تک جعلی سفراء سے حفاظت ہوسکتی ہے اور سفراء کی حد سے زیادہ بڑھی ہوئی تعداد پر قابو پایا جاسکتا ہے اور مستحق اداروں تک عوام کی زکوٰۃ اور صدقات پہنچ سکتے ہیں۔

ہمارا یہ مقصد قطعاً نہیں ہے کہ ہر سفیر کو شک کی نظر سے دیکھا جائے۔ بلکہ اکرام واحترام کا معاملہ سب کا کیا جائے۔ لیکن درج ذیل گذارشات پر ائمہ اور شہریان عمل کرلیں تو بڑی امید ہے کہ امت کا مال صحیح مصرف میں خرچ ہو۔

1) پہلی درخواست یہ ہے کہ دونوں جمیعت کے ذمہ داران تصدیقات جاری کرنے میں مزید شفافیت، منصوبہ بندی اور حد بندی فرمائیں، اس سلسلے میں کسی بھی شخص کی مخالفت اور اس کے تفردات کو بالکل بھی خاطر میں نہ لائیں۔

2) عوام کے لیے افضل یہی ہے کہ پہلے اپنے شہر اور اطراف کے معلوم مدارس ومساجد کا تعاون کریں۔

3) بہتر شکل یہ ہے کہ چندے کی بڑی رقموں کو براہ راست مدرسے یا مسجد کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کریں۔ 

4) اگر آپ براہ راست تحقیق نہیں کرسکتے تو بہتر اور محفوظ طریقہ یہی ہے کہ سفراء کے پاس جمعیت علماء مالیگاؤں کا تازہ تصدیق نامہ دیکھ کر چندہ دیں، اس لیے کہ یہ ملک گیر تنظیم ہے، پورے ملک کے کارکن ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں، بہت آسانی سے صحیح اور غلط کی تصدیق بھی ہوجاتی ہے۔ ہاں اگر آپ سفیر کو پہلے سے ہی جانتے ہیں یا آپ ذاتی طور پر ادارہ اور اس کی کارکردگی سے واقف اور مطمئن ہیں تو پھر آپ کے لیے کسی کا تصدیق نامہ دیکھنا ضروری نہیں۔

5) اگر آپ امام ہیں، یا مسجد کے ذمہ دار/ٹرسٹی ہیں تو بذات خود تحقیق کرکے اعلان کی اجازت دیں، بغیر اجازت چندہ نہ کرنے دیں۔

6) ہر نماز میں سلام کے بعد لمبا چوڑا اعلان کرنے میں قباحتیں ہیں اس لیے ہر ہر سفیر کو اجازت دینا ضروری نہیں ہے، نیز ہر نماز کے بعد بھی اعلان نہ کرنے دیں کبھی کبھار مناسب سمجھیں تو اعلان کی اجازت دیں ورنہ تصدیق نامہ موجود ہونے کی صورت میں صرف چندے کی اجازت دیں، ائمہ کرام یہ ماحول بنانے کی کوشش کریں کہ مصلیان بغیر اعلان کے چندہ دینے کا مزاج بنا لیں۔

اللہ تعالٰی ہم سب کو مستحق اداروں کے ایماندار سفراء مہیا فرمائے اور اپنے زکوٰۃ اور صدقات کو صحیح مصرف خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین

تبصرے

  1. زکوتہ کس پر فرض ہے۔ ؟

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. بروقت 'صحیح قدم۔۔۔اللہ تعالٰی آپ کو مزید بہتر توفیق عطا فرمائے آمین ثمہ آمین

      حذف کریں
  2. ماشاء اللہ.. بروقت تحریر رقم فرمائی ہے آپ نے.. پورے شہر میں راہگیروں سے زیادہ سفیر حضرات دکھائی دے رہے ہیں.

    جواب دیںحذف کریں
  3. ماشاء اللہ بروقت اور صحیح تجویز پیش کی مفتی صاحب آپ نے اللہ پاک مزید استقامت عطا فرماۓ

    جواب دیںحذف کریں
  4. ایک ایک لفظ میرے دل کی آواز ہے

    جواب دیںحذف کریں
  5. ہزاروں سفراء پچاس یا ساٹھ فیصد کمیشن کے طور پر زکوٰۃ وصول کرتے ہیں، تو کیا دینے والے کی پور زکوٰۃ ادا ہو جائے گی

    جواب دیںحذف کریں
  6. ما شاء اللہ اللہ مزید حق گوئی کی قوت عطا فرمائے آمین بر وقت تبصرہ جس کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی اور سبھی بڑے شہروں اور مسلم اکثریتی علاقوں میں اس وقت یہی ماحول ہے جس کی وجہ سے کچھ افراد متواتر کتنے ہی برسوں سے سفراء کے خلاف محاذ کھول کر پروپیگنڈا چلا رہے ہیں

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مستقیم بھائی آپ سے یہ امید نہ تھی