شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی کا گھومنے جانا
سوال :
محترم مفتی صاحب ! اِدھر کچھ عرصے سے شہر عزیز میں دیکھا جا رہا ہے کہ، بیویاں مائیکے جاتی ہیں تو وہاں سے اپنی بہنوں/سہیلیوں کے ساتھ (چاہے ساتھ میں کوئی بزرگ خالہ ہو، ماں ہو، مگر محرم مرد نہیں ہوتا) کے ساتھ شہر کے اطراف ہوٹلوں میں ، کیمپ میں موجود بہت سارے گارڈن، عید گاہ گراؤنڈ میں کھانے کھیلنے کی جگہ بنام چوپاٹی، وغیرہ پر سیر و تفریح کے لیے نکل جاتی ہیں. اور اب نیا سلسلہ یہ ہے کہ شہر کے مغربی علاقے میں D - Mart چلی جاتی ہیں۔ موتی باغ ناکہ سے گرنا پل ہوتے ہوئے بیشمار خواتین بچوں کے ساتھ پیدل دکھائی دیتی ہیں۔
کچھ معاملات اس طرح بھی ہوئے کہ جمعہ کا دن ہونے کی وجہ سے شوہر اپنے دوستوں کے ساتھ کہیں نکلا تو بیوی مع سہیلیوں یا بہنوں کے اس سے ملاقات ہو گئی. لفظی نوک جھوک پر بیوی یا بہن، کا کہنا ہوتا ہے کہ تم بھی تو گھومنے نکلے ہو نا۔
سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح بغیر شوہر کے علم میں لائے بیوی مائیکے سے بغیر محرم، یا پھر محرم کے ساتھ کہیں گھومنے پھرنے جا سکتی ہے؟ ہو سکتا ہے کہ لوگ اس معاملے کو اگنور کرتے ہوں، مگر آگے چل کر یہ معاملہ بڑھتے جائے گا۔
(المستفتی : عمران الحسن، مالیگاؤں)
------------------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی کا گھر سے نکلنا اور سیر وتفریح کے لیے جانا شرعاً ناجائز اور گناہ کی بات ہے۔ ایسی عورت کے بارے میں وعید آئی ہے، حدیث شریف میں ہے کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئی اور عرض کیا : یا رسول اللہ : شوہر کا بیوی پر کیا حق ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : شوہر کا حق اس پر یہ ہے کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر اپنے گھر سے نہ نکلے، اگر وہ ایسا کرے گی تو آسمان کے فرشتہ اور رحمت وعذاب کے فرشتے اس پر لعنت بھیجیں گے یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے۔
لہٰذا عورتوں کو شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نہیں نکلنا چاہیے، اور ایسی جگہوں پر تو جانا ہی نہیں چاہیے جہاں مرد وزن کا اختلاط ہو، نیز اس میں میاں بیوی کے تعلقات خراب ہونے اور تنازعہ کا بہت اندیشہ ہے۔ اسی طرح ساتھی خواتین اور بہنوں کا خود مرد سے سوال کرنا کہ آپ بھی تو گھوم رہے ہیں یہ چوری اور اوپر سے سینہ زوری ہے، جو بدتمیزی کے ساتھ ساتھ گناہ کی بھی بات ہے۔
نوٹ : شوہروں کو بھی چاہیے کہ استطاعت کے مطابق وقتاً فوقتاً بیویوں کے لیے جائز سیر و تفریح کا اہتمام کرتے رہیں تاکہ وہ بھی پھر اس طرح کی غلط حرکتوں سے باز رہیں۔
عن النبيِّ ﷺ أنَّ امرأةً أتَتْه، فقالتْ: ما حقُّ الزوجِ على امرأتِه؟ فقال: لا تمنَعُه مِن نفسِها وإن كانتْ على ظهرِ قتبٍ، ولا تُعطي من بيتِه شيئًا إلا بإذنِه، فإن فعلَتْ ذلك كان له الأجرُ وعليها الوِزرُ، ولا تصومُ يومًا تطوُّعًا إلا بإذنِه، فإن فعلَتْ أثِمَتْ ولم تؤجَرْ، ولا تخرُجُ مِن بيتِه إلا بإذنِه، فإن فعلَتْ لعنَتْها الملائكةُ: ملائكةُ الغضَبِ، وملائكةُ الرحمةِ، حتى تتوبَ، أو تُراجِعَ قيل: وإن كان ظالمًا، قال: وإن كان ظالمًا
البوصيري، إتحاف الخيرة المهرة (٤/ ٧٤) • له شاهد • أخرجه الطيالسي (٢٠٦٣)، وابن أبي شيبة (١٧٤٠٩)، والبيهقي (١٥١١٠) واللفظ له
وَلَيْسَ لَهَا أَنْ تَخْرُجَ بِلَا إذْنِهِ أَصْلًا۔ (شامی : ٣/١٤٦)فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
23 محرم الحرام 1448
سوال میں مائکے جانے کے بعد کی بات ہے ۔۔؟؟
جواب دیںحذف کریںکیا مائکے جانے کے بعد وہاں سے بھی بیوی کو کہیں آنے جانے کی اجازت لینا شوہر سے ضروری ہے؟