سودی قرض لیا ہوتو اس کا کفارہ؟
سوال :
زید کے دوست نے 3 سال پہلے بینک سے سودی قرض لیا تھا۔ اب وہ ادا ہوچکا ہے۔ پوچھنا یہ ہیکہ سودی قرض استعمال کرنے کا کوئی کفارہ ادا کرنا ہوگا یا اور کوئی صورت ہو جس سے اللہ تعالیٰ معاف کردے۔
(المستفتی : محمد زید، مالیگاؤں)
-------------------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : سود لینا اور دینا دونوں کبیرہ گناہ ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ان پر لعنت فرمائی ہے۔ لہٰذا دونوں سے بچنا انتہائی ضروری ہے۔ البتہ اگر کسی نے غلطی سے سودی قرض لے لیا ہوتو اس کا کفارہ یہی ہے کہ شرمندگی اور ندامت کے ساتھ توبہ و استغفار کرے اور آئندہ اس کے قریب بھی نہ جانے کا پختہ عزم کرے تو یہ گناہ معاف ہوجائے گا۔ اور کسی مخصوص رقم کو ضروری سمجھے بغیر صدقہ بھی کردے تو اور اچھا ہے، اس لیے کہ صدقہ اللہ تعالیٰ کے غصہ کو ٹھنڈا کرتا ہے۔
صورتِ مسئولہ میں زید کا دوست مذکورہ بالا ہدایات پر عمل کرلے تو اس کا گناہ معاف ہوجائے گا۔
عَنِ جَابِرٍ ابْنِ عَبْدِاللہِ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَكَاتِبَهُ، وَقَالَ : ھُم سَوَاء۔ (صحیح مسلم : ۲؍۷۲)
قال اللّٰہ تعالیٰ : اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُشْرَکَ بِہِ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَشَآءُ ۔ (سورۃ النساء : ۱۱۶)
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الصَّدَقَةَ لَتُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ، وَتَدْفَعُ مِيتَةَ السُّوءِ۔ (سنن الترمذی، رقم : ٦٦٤)فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
03 ربیع الاول 1447
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں