کپورے کھانے کا حکم
سوال :
حضرت! میرے ساتھ میں ایک رہتا وہ کپورے کھاتا ہے، کیا یہ حلال ہے؟ جواب عنایت فرمائیں اور عنداللہ ماجور ہوں۔
(المستفتی : عبداللہ، مالیگاؤں)
------------------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : حلال جانوروں کے درج ذیل سات اعضاء کھانا شرعاً ممنوع ہے۔
١) نر کی شرمگاہ
٢) مادہ کی شرمگاہ
٣) پِتّہ
٤) غدود (جسم کے اندر کی گانٹھ)
٥)دم مسفوح (بہتا ہوا خون)
٦) خصیتین (کپورے)
٧) مثانہ (پیشاب کی تھیلی)
ان ممنوعہ اعضاء میں چونکہ کپورے بھی شامل ہیں، لہٰذا اس کا کھانا جائز نہیں ہے، آپ اپنے ساتھی کو اس کا حکم بتاکر اس سے منع فرمائیں۔
عَنِ الأوْزاعِيِّ، عَنْ واصِلِ بْنِ أبِي جَمِيلٍ، عَنْ مُجاهِدٍ، قالَ: «كانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يَكْرَهُ مِنَ الشّاةِ سَبْعًا: الدَّمَ والمَرارَ والذَّكَرَ والأُنْثَيَيْنِ والحَيا والغُدَّةَ والمَثانَةَ۔ (السنن الکبری للبیہقي ۱۰؍۱۱ رقم: ۱۹۷۰۰- ۱۹۷۰۱، کذا في کتاب الآثار / باب ما یکرہ من الشاۃ الدم وغیرہ ۱۷۹)
قَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ (كُرِهَ مِنْ الشَّاةِ الْحَيَاءُ وَالْخُصْيَةُ وَالْغُدَّةُ وَالْمَثَانَةُ وَالْمَرَارَةُ وَالدَّمُ الْمَسْفُوحُ وَالذَّكَرُ) لِمَا رَوَى الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ وَاصِلِ بْنِ مُجَاهِدٍ قَالَ «كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ الشَّاةِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَيَيْنِ وَالْقُبُلَ وَالْغُدَّةَ وَالْمَرَارَةَ وَالْمَثَانَةَ» قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ الدَّمُ حَرَامٌ وَكُرِهَ السِّتَّةُ وَذَلِكَ لِقَوْلِهِ تَعَالَى {حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ} [المائدة: 3] وَكُرِهَ مَا سِوَاهُ؛ لِأَنَّهُ مِمَّا تَسْتَخْبِثُهُ النَّفْسُ وَتَكْرَهُهُ وَهَذَا الْمَعْنَى سَبَبُ الْكَرَاهَةِ لِقَوْلِهِ تَعَالَى {وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ} [الأعراف: 157]۔ (البحر الرائق : ٨/٥٥٣)فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
07 جمادی الآخر 1447
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں