گنپتی کا ڈیکوریشن دیکھنے جانے کا حکم


سوال :

ان دنوں برادران وطن کا گنیش کا تہوار جاری ہے اور گنیش وسرجن سے قبل اس کی سجاوٹ کی جاتی ہے جسے عرف عام میں ڈیکوریشن کہا جاتا ہے اسے دیکھنے مسلم مرد وخواتین بچوں سمیت جاتے ہیں تو انکا یہ فعل شریعت مطہرہ کی روشنی میں کیسا ہے؟ جواب ارسال فرما کر عنداللہ ماجور ہوں ۔
(سائل : عامر ایوبی، مالیگاؤں)
--------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : غیر قوموں کے تہوار ظاہر ہے ان کے مشرکانہ عقائد پر مبنی ہوتے ہیں، اور مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارے لئے شرک سے بیزاری اور بے تعلقی کا اظہار ضروری ہے۔ چنانچہ ان کے تہوار میں کسی بھی قسم کی شرکت سے انکے عقائد اورنظریات کی تائید و حمایت اور تقویت پائی جاتی ہے۔

مجمع النوازل میں ہے :
مجوسی لوگ اپنے نیروز کے تہوار کے  موقع پرکسی جگہ جمع ہوئے ہوں، ان کو دیکھ کر کوئی مسلمان یہ کہے کہ ’’یہ بہت ہی اچھا تہوار اورکیا ہی عمدہ طریقہ ہے ‘‘ تو اس طرح کہنے کہ وجہ سے وہ ایمان سے نکل جائے گا۔

 لہٰذا مسلمانوں کے لیے گنپتی کے پنڈال کی طرف بغرض تفریح جانا اور وہاں جاکر ڈیکوریشن اور بتوں کو دیکھنا اور بچوں کو دکھانا ایسے کام ہیں جن سے مسلمانوں کا عقیدہ خراب ہو سکتا ہے، اور حدیث شریف " من کثر سواد قوم فہو منہم‘‘۔(کنز العمال ۹؍۲۲ رقم: ۲۴۷۳۵) (جو شخص کسی قوم کی تعداد میں اضافہ کا سبب بنا اس کا شمار اسی قوم میں ہوگا) کے مصداق ہوکر گناہ گار ہوں گے، لہٰذا اس فعل سے بچنا ضروری ہے۔ نیز موجودہ ملکی حالات کے پیشِ نظر بھی اس سے اجتناب ضروری ہے کہ اس کی وجہ سے فتنہ و فساد کا اندیشہ بھی ہے۔

وفي مجمع النوازل : اجتمع المجوس یوم النوروز، فقال مسلم : سیرۃ حسنہ وضعوھا، کفر، أي لأنہ استحسن وضع الکفر مع تضمن استقباحہ سیرۃ الإسلام۔ (شرح الفقہ الأکبر،ص:۲۲۹، فصل في الکفر صریحا وکنایۃ، لا یحرم کل …الخ، یاسر ندیم دیوبند)فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
06 محرم الحرام 1440

تبصرے

  1. جزاك الله
    رہنمائی کےلیے بہت شکریہ ۔
    الله کرے زورِ قلم اور ذیادہ

    جواب دیںحذف کریں
  2. بہترین رہنمائی ہے اللہ تعالی آپ سے دین کا خوب کام لے آمین

    جواب دیںحذف کریں
  3. اس بارے میں ڈیجٹل لائک کا بھی حکم بتادیا جائے تو ان شا اللہ امت کو اس سے فائدہ پہنچے گا

    جواب دیںحذف کریں
  4. جزاک اللہ خیرا احسن الجزاء فی الدارین عبدالشکور پربھنی مہاراشٹر

    جواب دیںحذف کریں
  5. *ایمان کی پکار: اپنی با حیا بہنوں کے نام*

    از قلم شعیب احمد محمدی 9284434542

    *ہماری باشعور بچیوں اور خواتین سے ایک درد بھری گزارش*

    آج دل بہت غمگین ہے۔ سوشل میڈیا پر اپنی ہی قوم کی بچیوں کو غیر مسلم تہواروں کے پنڈالوں میں ویڈیو بناتے، ناچتے اور اسٹیٹس لگاتے دیکھ کر آنکھیں رو رہی ہیں۔ یہ تحریر کسی کو بدنام کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنی بہنوں کو جہنم کی آگ سے بچانے کے لیے ایک بھائی کی طرف سے ایک سچی نصیحت ہے۔

    ہماری قوم کی باشعور بچیوں اور باحیا خواتین سے ہاتھ جوڑ کر گزارش ہے کہ خدارا اپنے موبائل کو غیر مسلم تہواروں کو پروموٹ کرنے کا ذریعہ نہ بناؤ۔ یاد رکھو، تمہارا ایک اسٹیٹس، تمہاری ایک ریل، تمہاری ایک ویڈیو سے ان کے تہوار کی تشہیر ہوتی ہے، اور یہ ہمارے آقا رحمت دو عالم ﷺ کی تعلیمات ہرگز نہیں ہیں۔

    نبی کریم ﷺ نے اس پر سخت وارننگ دی ہے:
    *مَنْ كَثَّرَ سَوَادَ قَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ*
    *ترجمہ: جو شخص کسی قوم کی بھیڑ اور تعداد میں اضافہ کرے، وہ قیامت کے دن اسی قوم میں شمار ہوگا۔*

    اے میری بہن! جب تو گنپتی کے پنڈال میں جا کر کھڑی ہوتی ہے تو وہاں ایک بھیڑ بڑھتی ہے، اور جب تو اس کی ویڈیو بنا کر انسٹاگرام پر ڈالتی ہے تو تو اس تہوار کو پروموٹ کرتی ہے۔ کل جب ہر انسان اپنی اپنی قوم کے ساتھ بلایا جائے گا تو سوچ تو کس کے ساتھ کھڑی ہوگی؟ کیا تو سیدہ عائشہ و سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ اٹھنا چاہتی ہے یا ان کے ساتھ جن کی بھیڑ تو آج دنیا میں بڑھا رہی ہے؟

    قرآن نے بھی واضح فرما دیا ہے: *لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ (سورہ کافرون: 6) - تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین۔*

    ہمیں کیا ضرورت ہے کہ اپنا کامل و مکمل دین چھوڑ کر دوسرے کے دین کی تشہیر کرتے پھریں! بھائی چارہ قائم کرنا ہے تو بلا تفریق قوم و ملت خدمت خلق کا راستہ اختیار کرو، کسی بھوکے کو کھانا کھلا دو، کسی بیمار کی چھپ کر مدد کر دو۔ اس سے جو سچی محبت پیدا ہوتی ہے وہ ڈھول تاشوں کے ساتھ ویڈیو بنانے سے کبھی پیدا نہیں ہوتی۔

    اللہ کے نبی ﷺ نے ہمیں اپنے دین کی نشر و اشاعت کا حکم دیا ہے۔ تمہارے اندر جو صلاحیت ہے اسے اپنے دین کے لیے استعمال کرو۔ ایک اچھی اسلامی بات شیئر کرو گی تو وہ صدقہ جاریہ بنے گی، لیکن اسی موبائل سے غیر کے تہوار کو پروموٹ کرو گی تو وہی موبائل کل قیامت کے دن تمہارے خلاف گواہ بنے گا اور جہنم میں جانے کا سبب بن سکتا ہے۔

    *دعا ہے:*
    اللہ تعالیٰ ہماری قوم کی تمام بچیوں اور خواتین کو ہدایت عطا فرمائے، ان کے دلوں میں ایمان کی شمع روشن فرمائے، انہیں سوشل میڈیا کے فتنوں سے محفوظ رکھے اور انہیں سیدہ عائشہ و سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کے نقش قدم پر چلنے والی بنائے۔ آمین یا رب العالمین

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ایرانی لیڈر کی موت اور ہمارا طرزِ عمل؟

مستقیم بھائی آپ سے یہ امید نہ تھی