اشاعتیں

2025 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

سودی قرض لیا ہوتو اس کا کفارہ؟

سوال : زید کے دوست نے 3 سال پہلے بینک سے سودی قرض لیا تھا۔ اب وہ ادا ہوچکا ہے۔ پوچھنا یہ ہیکہ سودی قرض استعمال کرنے کا کوئی کفارہ ادا کرنا ہوگا یا اور کوئی صورت ہو جس سے اللہ تعالیٰ معاف کردے۔ (المستفتی : محمد زید، مالیگاؤں)  -------------------------------------------------  بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : سود لینا اور دینا دونوں کبیرہ گناہ ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ان پر لعنت فرمائی ہے۔ لہٰذا دونوں سے بچنا انتہائی ضروری ہے۔ البتہ اگر کسی نے غلطی سے سودی قرض لے لیا ہوتو اس کا کفارہ یہی ہے کہ شرمندگی اور ندامت کے ساتھ توبہ و استغفار کرے اور آئندہ اس کے قریب بھی نہ جانے کا پختہ عزم کرے تو یہ گناہ معاف ہوجائے گا۔ اور کسی مخصوص رقم کو ضروری سمجھے بغیر صدقہ بھی کردے تو اور اچھا ہے، اس لیے کہ صدقہ اللہ تعالیٰ کے غصہ کو ٹھنڈا کرتا ہے۔ صورتِ مسئولہ میں زید کا دوست مذکورہ بالا ہدایات پر عمل کرلے تو اس کا گناہ معاف ہوجائے گا۔ عَنِ جَابِرٍ ابْنِ عَبْدِاللہِ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَشَاهِدَ...

چالیس احادیث یاد کرنے کی فضیلت

سوال : مفتی صاحب! چالیس حدیث یاد کرنے کی کیا فضیلت ہے؟ وہ احادیث مع تحقیق بیان فرمائیں اور عنداللہ ماجور ہوں۔ (المستفتی : محمد شعیب، مالیگاؤں) -------------------------------------------------  بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : مختلف روایات میں یہ مضمون وارد ہوا ہے کہ جس نے چالیس احادیث کو محفوظ کیا جو اسے دین کے معاملہ میں نفع پہنچائیں، تو اللہ تعالیٰ اسے روزِ قیامت علماء کے درجہ میں اٹھائے گا، اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم روزِ قیامت اس کی شفاعت کریں گے اور اس کے حق میں گواہی دیں گے۔ اور اسے کہا جائے گا کہ جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہوجائے۔ یہ روایات حضرت عمر، حضرت علی، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت ابودرداء، حضرت معاذ، حضرت ابو امامہ، حضرت انس، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہم اجمعین سے منقول ہیں، اس کے تمام طرق میں اگرچہ کلام ہے، لیکن باوجود ضعف کے کثرتِ روایت کی بنا پر اسے موضوع اور من گھڑت نہیں کہا جاسکتا۔ لہٰذا اس کا بیان کرنا درست ہے۔ علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس سے مراد چالیس حدیثوں کا دوسرے لوگوں تک پہنچانا ہے اگرچہ وہ یاد نہ...

عثمانی دارالافتاء (بلاگ) کے پچاس لاکھ وویوز مکمل

✍️ مفتی محمد عامر عثمانی ملی     (امام وخطیب مسجد کوہ نور)  معزز قارئین! امید کرتے ہیں کہ آپ حضرات کی نظروں سے ہمارے بلاگ عثمانی دارالافتاء کے فتاوی اور مضامین گذرتے ہوں گے۔ اس مہینے اگست میں فتوی نویسی اور اصلاحی مضامین کے اس مبارک اور مفید سلسلہ کو الحمدللہ نو سال کا عرصہ ہوچکا ہے۔ لہٰذا اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آن لائن دارالافتاء اور بلاگ کے وجود میں آنے کی وجوہات اور اس سلسلے میں جو کام ہوئے ہیں وہ آپ حضرات کی بصارتوں کے حوالے کردئیے جائیں تاکہ آپ حضرات کی خصوصی دعاؤں سے یہ سلسلہ عافیت کے ساتھ مزید دراز ہوتا رہے۔ معزز قارئین! اس علمی، فقہی اور مفید سلسلہ کی شروعات کچھ اس طرح ہوئی تھی کہ ہمارے ایک رفیق مولانا نعیم الرحمن صاحب ملی ندوی نے اگست 2016 میں ایک واٹس اپ گروپ بنام دارالافتاء تشکیل دیا۔ اس گروپ میں آپ نے چند سنجیدہ افراد کو شامل کیا اور ساتھ میں ہی چند مفتیان کرام کو بھی شامل کرلیا۔ اور اس کے اصول وضوابط یہ طے کیے گئے کہ جن اراکین کو کوئی فقہی مسئلہ درپیش ہو وہ گروپ میں لکھ کر ارسال کردے گا جس کا جواب گروپ میں موجود مفتیان کرام اپنی سہولت سے مختصر اندا...

مستقیم بھائی آپ سے یہ امید نہ تھی

✍️ مفتی محمد عامر عثمانی ملی       (امام وخطیب مسجد کوہ نور ورکن تنظیم علماء ائمہ وحفاظ شہر مالیگاؤں)  قارئین کرام! جیسا کہ آپ حضرات کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ شہر عزیز کی نئی لیکن مؤثر تنظیم علماء، ائمہ وحفاظ شہر مالیگاؤں کی جانب سے ہفتہ عشرہ سے یہ تحریک چلائی جارہی تھی کہ جشن آزادی کے نام پر اسکولوں اور سڑکوں پر ناچ گانے اور ہلڑبازی نہ ہو۔ جس کے لیے تحریر اور تقریر کے ساتھ پریس کانفرنس بھی لی گئی۔ مستقیم (ڈگنٹی) بھائی گذشتہ سال آپ کے ایک قریبی ساتھی نے ایک مضمون بعنوان "مفتی عامر عثمانی حاضر ہو" لکھا تھا۔ جس میں ہمیں مخاطب کرکے شہری ایم ایل اے کے ساتھ جارہے چند نوجوانوں کی ہلڑبازی کی ویڈیو کی طرف اشارہ کرکے ان کے بارے میں بھی لکھنے کے لیے کہا گیا تھا۔ اُس وقت تنظیم کی جانب سے ایک ہنگامی میٹنگ حضرت مولانا عمرین محفوظ صاحب رحمانی کی موجودگی میں لی گئی تھی جس میں اس بات پر غور کیا گیا تھا کہ علماء کرام اگر غلط کاموں پر روکتے ٹوکتے ہیں تو ان کو نشانہ بنانے کی ایک غلط روایت شہر میں چل پڑی ہے اس کو فوری طور پر روکا جائے۔ اس میٹنگ کے اختتام پر قاضی شریعت حضرت مولان...

گدھی کا دودھ پینے کا حکم

سوال : مفتی صاحب! گلی میں گدھی کا دودھ پلانے والے آتے ہیں، اور بعض لوگ بچوں کو پیٹ وغیرہ کی بیماری میں دودھ پلواتے بھی ہیں، کیا یہ شریعت میں جائز ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔ (المستفتی : رضوان احمد، مالیگاؤں)  -------------------------------------------------  بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : شریعتِ مطھرہ میں گدھا حلال نہیں ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے خیبر کے دن پالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا۔ لہٰذا اس کا دودھ بھی حلال نہیں ہے۔  دارالعلوم دیوبند کا فتوی ہے : گدھا اور گدھی (یعنی حمار اہلی) کا گوشت حرام ہے اور جس جانور کا گوشت حرام ہے اس کا دودھ بھی حرام ہے، لہٰذا گدھی کا دودھ بھی حرام ہے۔ دوا کے طور پر پینا بھی جائز نہیں۔ (رقم الفتوی : 602336) البتہ اگر کسی کو ماہر مسلم ڈاکٹر یہ کہہ دے کہ مریض کی بیماری کا علاج اسی میں ہے، اس کے علاوہ کوئی حلال دوا موجود نہیں ہے تو پھر ایسی صورت میں اس کے پینے کی گنجائش ہوگی۔ اور ہمارے یہاں جو گدھی کا دودھ پلایا جاتا ہے وہ کسی ڈاکٹر کے مشورہ کے بغیر پلایا جاتا ہے اور جن بیماریوں کے علاج کے لیے...

اسکول میں طلباء سے راکھی بنوانا

سوال :   مفتی صاحب! بچوں کو اسکول میں راکھی بنانے کے لیے بولا گیا ہے۔ اس کا کیا حکم رہے گا؟ رہبری کریں۔ (المستفتی : محمد عبید، ایولہ) ------------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : راکھی ہندوؤں کا ایک خالص مذہبی عمل ہے، جس میں ایک بہن اپنے بھائی کو ایک مخصوص دھاگہ باندھ کر اس کی آرتی اتارتی اور اس کے لیے دعا کرتی ہے اور اس کے جواب میں بھائی اپنی بہن سے دکھ سکھ میں ساتھ رہنے اور اس کی حفاظت کرنے کا وعدہ کرتا ہے اور اسے تحفہ دیتا ہے۔ ایسے خالص ہندوانہ عمل میں لگنے والی راکھی اسکول کے طلباء وطالبات سے بنوانا بالکل ناجائز اور حرام ہے۔ ایسی چیزیں اگر نصاب میں شامل ہوں تب بھی یہ لازمی نہیں ہوتی، لہٰذا اسکولوں کے ذمہ داران اور اساتذہ کو ایسی چیزوں کو نظرانداز کر دینا چاہیے۔  معلوم ہونا چاہیے کہ ہم مسلمانوں کے یہاں ایک بہن کو بھائی کے لیے دعا اور ایک بھائی کو بہن کی حفاظت اور اس کا ساتھ دینے کا وعدہ کرنے کے لیے کسی مخصوص تہوار یا دھاگہ باندھنے کی ضرورت نہیں ہوتی، دونوں کے لیے یہ حکم مستقل اور ہر وقت ہے کہ وہ ایک دوسرے کے خیرخواہ ہوں او...

گھوڑے کا گوشت حلال ہے یا نہیں؟

سوال : محترم مفتی صاحب! میرا سوال یہ ہے کہ گھوڑے کا گوشت حلال ہے یا حرام؟ پڑھنے میں آیا تھا کہ مکروہ تحریمی ہے۔ رہنمائی فرمائیں۔ (المستفتی : حافظ سفیان، مالیگاؤں)  --------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : گھوڑا فی نفسہ حلال جانور ہے، لیکن چونکہ گھوڑا جہاد کے اہم ذرائع میں سے ایک ہے، اگر اس کو بھی عام حلال جانوروں کی طرح ذبح کیا جانے لگا تو جہاد کے آلات میں کمی واقع ہو جائے گی، چنانچہ فقہاء کرام نے اس خطرے کے پیش نظر گھوڑے کو ذبح کرنا مکروہ قرار دیا ہے۔  دارالعلوم دیوبند کا فتوی ہے : گھوڑے کا گوشت اسلام میں حلال ہے، صرف اس کے فوجی نظام میں کام میں آنے کی وجہ سے اس کو ذبح کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ (رقم الفتوی : 68175)  معلوم ہوا کہ گھوڑے کا گوشت حلال ہے، البتہ مذکورہ بالا مصلحت کے پیشِ نظر اس کا ذبح کرنا مکروہ وممنوع ہے۔   يُكْرَهُ لَحْمُ الْخَيْلِ فِي قَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - خِلَافًا لِصَاحِبَيْهِ، وَاخْتَلَفَ الْمَشَايِخُ فِي تَفْسِيرِ الْكَرَاهَةِ وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ أَرَادَ بِهَا التَّح...

آپریشن وغیرہ کے لیے داڑھی کٹوانا

سوال : مفتی صاحب! معلوم یہ کرنا ہے کہ بائی پاس سرجری کے وقت داڑھی اور سر کے بال اتروائے جاتے ہیں بلکہ عموماً اتارے بغیر آپریشن نہیں ہوتا۔ اس سلسلے میں شرعی رہنمائی فرمائیں نوازش ہوگی۔ (المستفتی : توصیف احمد خان، جلگاؤں) --------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : شریعت مطھرہ میں داڑھی رکھنا واجب ہے اور داڑھی کٹواکر ایک مشت سے کم کرنا ناجائز اور سخت گناہ کی بات ہے، لیکن اسی کے ساتھ اپنی جان کی حفاظت کرنا واجب ہے اور اپنے آپ کو جان بوجھ کر ہلاکت میں ڈالنا ناجائز اور حرام ہے۔  صورتِ مسئولہ میں بائی پاس سرجری کے لیے اگر داڑھی کے بال نکالنا ضروری ہوتو شرعاً اس کی گنجائش ہے، اس لیے کہ اپنی جان بچانے کی خاطر اضطراری یعنی انتہائی مجبوری کے حالات میں ممنوع کام کے ارتکاب کی گنجائش قرآن مجید سے ثابت ہے۔ فَمَنْ اُضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إثْمَ عَلَيْهِ إنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ۔ (سورۃ البقرة، آیت : 173)  فَمَنْ اُضْطُرَّ فِي مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِإِثْمٍ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيم۔ (سورۃ المائدة، آیت : 3) ...

دعا "اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي خَيْرًا مِمَّا يَظُنُّونَ" کی تحقیق

سوال : مفتی صاحب! کیا یہ دعا "اللھم اجعلنی خیرا مما یظنون" اے اللہ مجھے ان کے گمان سے بہتر بنا دے، " حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی دعا ہے؟ میں نے اسے احادیث میں سرچ کیا مجھے نہیں ملی، آپ رہنمائی فرمائیں۔ (المستفتی : رضوان احمد، مالیگاؤں)  -------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : سوال نامہ میں مذکور دعا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے منقول نہیں ہے، بلکہ سب سے پہلے صحابی، خلیفہ اول سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حالات میں یہ بات ملتی ہے کہ جب آپ کی تعریف کی گئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے یہ دعا کی کہ : اے اللہ! تو مجھے میرے نفس سے زیادہ جانتا ہے اور میں اپنے نفس کو ان لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں۔ اے اللہ مجھے ان کے گمان سے بہتر بنا دے، اے اللہ! جسے یہ نہیں جانتے اسے بخش دے اور جو یہ لوگ کہتے ہیں اس پر میری پکڑ نہ کرنا۔ (١) بلاشبہ یہ بہت اہم اور جامع دعا ہے، اسے مانگنا چاہیے، لیکن اس کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف کرنا درست نہیں ہے، اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی جانب صرف ایسا کلام اور واقعہ ہی ...

پتنجلی کے پراڈکٹ استعمال کرنا

سوال : مفتی صاحب! پتنجلی کے پروڈکٹ کا صابن اور دال وغیرہ استعمال کر سکتے ہیں کیا؟ جواب عنایت فرمائیں اور عنداللہ ماجور ہوں۔ (المستفتی : بلال احمد، ناگپور) ----------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : پتنجلی کی بعض مصنوعات سے متعلق یہ بات انہیں کی طرف سے بیان کی گئی ہے کہ اس میں گائے کا پیشاب ملایا جاتا ہے، لہٰذا ان مصنوعات کا استعمال تو بلاشبہ ناجائز اور حرام ہے۔ البتہ جن مصنوعات سے متعلق تحقیق ہو کہ اس میں گائے کا پیشاب یا پھر اور کوئی حرام شئے کی آمیزش نہیں ہے تو پھر ان کے استعمال کی گنجائش ہوگی، تاہم اس سے بھی احتیاط ہی بہتر ہے کہ اس کمپنی کے بانی مبانی مسلمانوں سے متعلق اچھی رائے نہیں رکھتے اور اسلام ومسلمانوں کے خلاف تبصرے کرتے رہتے ہیں۔ الأسئلۃ والأجوبۃ : الأول : لو کانت أبوال الإبل محرمۃ الشرب لما جاز التداوي بہا، لما روی أبو داؤد من حدیث أم سلمۃ رضي اللّٰہ عنہا : إن اللّٰہ تعالیٰ لم یجعل شفاء أمتي فیما حرم علیہا؟ وأجیب: بأنہ محمول علی حالۃ الاختیار، وأما حالۃ الاضطرار فلا یکون حرامًا کالمیتۃ للمضطر کما ذکرنا۔ (عمدۃ القاري ش...

بیوی، بہن یا ماں کا نام ایک ہی ہوتو؟

سوال : بیوی اور بہن کا نام ایک ہی ہو تو کیا بیوی کا نام تبدیل کر دینا چاہیے؟ زید کی شادی فاطمہ نام کی لڑکی سے ہوئی اور زید کی سگی بہن کا نام بھی فاطمہ ہے زید کے گھر والے اسکی بیوی کا نام تبدیل کرنا چاہتے ہیں، کیا بیوی اور بہن یا والدہ وغیرہ کا ایک ہی نام ہو تو نام تبدیل کرنا چاہیے یا نہیں؟  (المستفتی : صغیر احمد، پونے)  ------------------------------------------  بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : والدہ یا بہن کے جیسا ہی نام بیوی کا بھی ہوتو شرعاً اس میں کوئی قباحت کی بات نہیں ہے، خود آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی ایک صاحبزادی اور دو بیویوں کا نام زینب تھا۔  صورتِ مسئولہ میں اگر زید کی ہونے والی بیوی اور اس کی بہن کا نام ایک ہی تو اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے، لہٰذا زید کی ہونے والی بیوی کا نام تبدیل کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔ ہاں پہچان کے لیے نام کے ساتھ کسی لفظ کا اضافہ کرلے تو الگ بات ہے۔ (وَأَمَّا رُكْنُهُ) فَالْإِيجَابُ وَالْقَبُولُ، كَذَا فِي الْكَافِي۔ (الفتاویٰ الہندیۃ : ١/٢٦٧)فقط  واللہ تعالٰی اعلم  محمد عامر عثمانی  05 صفر ال...

والدین سے پہلے عمرہ کرنا

سوال : اگر کوئی شخص سفر عمرہ پر جانا چاہے تو کیا پہلے اس کے ماں باپ کا عمرہ کرنا ضروری ہے؟ جبکہ ماں باپ بیٹے کے ساتھ رہتے بھی نہیں ہیں، بہت سارے لوگ کہتے ہیں کہ اگر بیٹا عمرہ پہ جائے اور ماں باپ کو نہ لے جاۓ تو اس کا عمرہ قبول نہیں ہوگا۔ اس بارے میں ہماری رہنمائی فرمائیں، نوازش ہوگی۔ (المستفتی : عبداللہ، مالیگاؤں)  -----------------------------  بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : عمرہ اپنی اصل کے اعتبار سے ہر صاحبِ استطاعت یعنی جس کے پاس وہاں آنے جانے، رہنے سہنے کھانے پینے وغیرہ کے خرچ کا نظم ہو اور اس دوران اس کے اہل خانہ کی ضروریات کا بھی انتظام ہو اور اس کی صحت بھی اس سفر کی اجازت دیتی ہوتو ایسے شخص کے لئے زندگی میں ایک مرتبہ عمرہ کرنا سنتِ مؤکدہ ہے، فرض یا واجب نہیں۔ جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ کیا عمرہ واجب ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ واجب نہیں ہے۔ البتہ تم عمرہ کرو کیونکہ عمرہ کرنا افضل ہے۔ (ترمذی) لہٰذا اگر اپنی ذاتی کمائی سے بیٹے کو پہلے عمرہ کی استطاعت ہوجائے تو اس...

قریش برادری کا احتجاج

اتحاد اور باہمی تعاون وقت کی اہم ضرورت   ✍️ مفتی محمد عامر عثمانی ملی      (امام وخطیب مسجد کوہ نور)  قارئین کرام ! نام نہاد گئو رکھشکوں اور شرپسندوں کی دن بدن بڑھتی ہوئی دادا گیری اور غیرقانونی کاروائیوں سے یکے بعد دیگرے ناقابل تلافی جانی و مالی نقصان اٹھانے کے بعد قریش برادری نے ایک انتہائی مؤثر اور مفید قدم اپنا کاروبار بند رکھ کر احتجاج کا اٹھایا ہے اور الحمدللہ چند ہی دنوں میں ہی اس کا واضح اثر بھی دکھائی دے رہا ہے، لیکن اسی کے ساتھ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ کچھ افراد اس اتحاد اور احتجاج کو اپنے معمولی فائدہ کی وجہ سے نقصان پہنچا رہے ہیں اور چوری چھپے جانور کاٹ کر اس کا گوشت انتہائی مہنگے داموں میں فروخت کررہے ہیں۔ ایسے لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اتحاد میں بڑی برکت اور قوت ہے، خود قرآن کریم نے بھی اتحاد واتفاق کاحکم دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا۔ ترجمہ : اور اللہ کی رسی کو سب ملکر مضبوطی سے تھامے رکھو، اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو۔ (آل عمران، آیت : ۱۰۳) اور اتحاد ایسی نعمت ہے جس کا ذکر اسی آیت کے آگے اللہ...

رشتہ کے وقت لڑکی/ لڑکا کے صحیح حالات بیان کرنا؟

سوال : مفتی صاحب! ایک شخص مجھ سے آ  کر یہ کہا کہ آپ کے محلے کے فلاں شخص کے لڑکے سے میں اپنی بیٹی کا رشتہ کرنا چاہتا ہوں، آپ ان کو اچھی طرح جانتے ہیں، اس لئے آپ ان کی عادت اور کردار کے بارے میں تفصیل سے بتا دیں، تو ایسی صورت میں ان کو اس لڑکے کی تمام اچھی بری بات بتا دینا صحیح ہے یا یہ غیبت میں شمار ہوگا؟ رہنمائی فرمائیں۔ (المستفتی : لئیق احمد، مالیگاؤں) ------------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفیق : ہر صورت میں کسی کی پیٹھ پیچھے اس کی برائی، غلطی یا عیب کو بیان کرنا غیبت نہیں ہے، بلکہ بعض مواقع ایسے بھی ہوتے جہاں علماء کرام نے غیبت کو غیبت نہیں کہا ہے، ان مقامات کو امام نووی رحمہ اللہ نے مسلم شریف کی شرح میں اور فقہ حنفی کے مشہور و معروف فقیہ علامہ شامی رحمہ اللہ نے اپنے فتاوی میں ذکر فرمایا ہے۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کسی کے ساتھ  معاملہ کرنے مثلاً نکاح، معاملات یا سفر  کے بارے میں مشورہ کرنے والے کے سامنے حقیقت بیان کرنا۔ صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی شخص آپ سے اپنی بیٹی کے رشتہ کے لیے کسی لڑکے کے بارے میں معلومات لینا چا...

اسکریچ کارڈ اسکیم سے شہریان دور رہیں۔

✍️ مفتی محمد عامر عثمانی      (امام وخطیب مسجد کوہ نور)  قارئین کرام! آپ نے دیکھا ہوگا کہ کچھ دنوں سے ہمارے شہر میں چوک چوراہوں پر باہر شہر سے آئے ہوئے کچھ بندے کھڑے ہوکر لوگوں کو روک کر ایک کارڈ اسکریچ کرنے کیلئے دیتے ہیں۔جسکا ۱۰۰ روپیہ پیشگی لیتے ہیں۔ اور یہ بتاتے ہیں کہ اسپر ایک اسکیم ہے، اگر آپکے اسکریچ کرنے پر کارڈ (بہت ساری چیزیں جیسے انڈکشن چولہا، گیس والا چولہا، اور بھی بہت ساری چیزیں بتاتے ہیں جن قیمت کافی ذیادہ ہوتی ہیں) پر جس چیز کا نام لکھا آئے گا وہ آپکو اسی ۱۰۰ روپے میں دی جائے گی۔ ورنہ آپکے ۱۰۰ روپے گئے۔ اس میں دو چارٹ ہوتے ہیں، ایک چارٹ کے سامان کا نمبر کھلے گا تو وہ سامان فری میں مل جائے گا، اور دوسرے چارٹ کے سامان کا نام آئے گا تو پھر وہ سامان اس کی قیمت پر دیا جائے گا۔ دیکھا جارہا ہے کہ داڑھی ٹوپی، کرتا پاجامہ والے اور باپردہ خواتین بھی ان گاڑیوں پر بھیڑ کیے ہوئے ہیں اور بڑی تعداد میں اس طرح سامان خریدا جارہا ہے۔ جبکہ اس طرح جو معاملہ کیا جارہا ہے وہ کھلے طور پر قمار اور جوئے پر مشتمل ہے۔ اور صرف جوئے پر مشتمل نہیں ہے، بلکہ اس میں فراڈ اور دھوکہ بھ...

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کتنے بال سفید تھے؟

سوال : امید ہے کہ مزاج گرامی بخیر ہونگے  اس حدیث کی تحقیق و صحت مطلوب ہے کہ  "آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داڈھی اور سر کے بالوں میں بیس بال بھی سفید نہیں تھے۔ (المستفتی : وکیل احمد، مالیگاؤں)  ___________________________ بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : متعدد روایات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے سفید بالوں کی تعداد بیان کی گئی ہے، ان میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت میں مذکور ہے کہ آپ کی داڑھی اور سر مبارک میں بیس بال بھی سفید نہ تھے۔ یہ روایت بخاری شریف سمیت متعدد کتب احادیث میں موجود ہے اور سند کے اعتبار صحیح روایت ہے۔ لہٰذا اس کا بیان کرنا درست ہے۔ كانَ رَسولُ اللَّهِ ﷺ: ليسَ بالطَّوِيلِ البائِنِ، ولا بالقَصِيرِ، ولا بالأبْيَضِ الأمْهَقِ، وليسَ بالآدَمِ، وليسَ بالجَعْدِ القَطَطِ، ولا بالسَّبْطِ، بَعَثَهُ اللَّهُ على رَأْسِ أرْبَعِينَ سَنَةً، فأقامَ بمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ، وبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ، فَتَوَفّاهُ اللَّهُ وليسَ في رَأْسِهِ ولِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعْرَةً بَيْضاءَ. الراوي: أنس بن مالك • البخاري، صحيح البخاري (٣٥٤٨) • [ص...

مشورہ کی مسنون دعا؟

سوال : محترم مفتی صاحب ! دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ تبلیغی جماعت میں مشورے ہوتے ہیں ملاقاتیں ہوتی ہیں۔ بوقت مشورہ امیر جماعت یہ دعا پڑھنے کو کہتے ہیں۔ "اللّهم اَلهِمنا مَرَاشِدَ اُمورنا واَعِذنا مِن شُرور انفُسنا ومن سَيئاتِ اعمالنا" کیا اس طرح کی دعا قرآن و حدیث سے ثابت ہے؟ اور نہ پڑھے تو نقصان ہوگا؟ رہنمائی فرمائیں۔ (المستفتی : محمد ظفر، اورنگ آباد) ------------------------------------  بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : سوال نامہ میں مذکور دعا " اللّهم اَلهِمنا مَرَاشِدَ اُمورنا واَعِذنا مِن شُرور انفُسنا ومن سَيئاتِ اعمالنا " کا ایک حصہ واحد متکلم کے صیغہ کے ساتھ ترمذی شریف کی درج ذیل روایت میں ملتا ہے۔ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے باپ ‏( حضرت حصین ‏) سے جو اس وقت تک ایمان و اسلام کی دولت سے بہرہ مند نہیں تھے فرمایا : اے حصین آج کل تم کتنے معبودوں کی بندگی کرتے ہو؟ میرے باپ نے عرض کیا کہ : سات معبودوں کی جن میں سے چھ تو زمین پر ہیں ‏، اور ایک آسمان میں ہے ‏( جو سب کا خالق ہے ‏) آپ صلی ال...

روایت "دنیا آخرت کی کھیتی ہے" کی تحقیق

سوال : محترم مفتی صاحب ! دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ کیا اِن الفاظ کے ساتھ کوئی حدیث شریف ہے؟ مدلل تحقیق مطلوب ہے۔ (المستفتی : عبدالرحمن، مالیگاؤں) ------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : دنیا آخرت کی کھیتی ہے، اس کی عربی " اَلدُّنْيَا مَزْرَعَةُ الآخِرَةِ" ہے۔ ان الفاظ کے ساتھ کوئی حدیث نہیں ہے، ماہر فن علماء علامہ سخاوی، امام عراقی، علامہ طاہر پٹنی وغیرہ نے اسے بے سند اور بے اصل قرار دیا ہے۔ دارالعلوم دیوبند کا فتوی ہے : ”الدنیامزرعة الآخرة“ ان الفاظ کے ساتھ حدیث نہیں ہے، البتہ اس کا مضمون قرآن کی آیت وغیرہ سے ثابت ہے۔ (رقم الفتوی : 167611) البتہ اس کا مضمون قرآن کی آیت : مَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ وَمَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ نَصِيبٍ۔ ترجمہ : جو شخص آخرت کی کھیتی کا طالب ہو اس کے لیے ہم اس کی کھیتی میں افزائش کریں گے اور جو دنیا کی کھیتی کا خواستگار ہو اس کو ہم اس میں سے دے دیں گے اور اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہ ہوگا۔ (سورۃ الشوری، آیت : ٢٠) س...

فرعون کا مرتے وقت کلمہ پڑھنا؟

سوال : مفتی صاحب ! کیا ایسی کوئی حدیث ہے جس میں حضرت جبرئیل علیہ السلام ہمارے نبی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے فرعون کو عین اس کے دریا میں غرق ہونے کے وقت مار رہے تھے اور اس کے منہ میں مٹی ڈال رہے تھے کیونکہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کو اس بات کا ڈر ہوا کہ اگر اس وقت فرعون لا الہ الا اللہ کہہ دے گا تب بھی اللہ تعالیٰ اس کو معاف کردیں گے۔ براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔ (المستفتی : سعد عمار، مالیگاؤں) ------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : متعدد روایات میں یہ مضمون نقل کیا گیا ہے کہ دریا میں غرق ہوتے وقت فرعون نے کلمہ پڑھنا چاہا تو حضرت جبرئیل علیہ السلام نے اس کے منہ میں کیچڑ بھر دی۔ قرآن کریم میں ہے : وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُ بَغْيًا وَعَدْوًا حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ آمَنْتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ۔ آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ ترجمہ : اور ہم نے بنو اسرائیل کو سمندر پار کرادیا، ت...

شہد کے پیالے میں بال والے واقعہ کی تحقیق

سوال : محترم مفتی صاحب امید ہے خریت سے ہوں گے ۔ ایک ويڈیو سوشل میڈیا پر بڑی تیزی کے ساتھ وائرل ہو رہا ہے۔ اُس ویڈیو میں ایک صاحب واقعہ بیان کر رہے ہیں جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے ثلاثہ رضوان اللہ علیھم اجمعین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے گھر تشریف فرما ہیں۔ حضرت علی مہمانان معظم کو ایک سفید برتن میں شہد پیش کرتے ہیں، جس میں ایک باریک سا بال ہوتا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر ہر کوئی اُس برتن کی سفیدی، شہد اور بال پر اپنے خیالات پیش کرتا ہے، حضرت جبرئیل علیہ السلام بھی گفتگو میں شامل ہوتے ہیں۔ واقعہ کے آخر میں اللہ رب العزت وحی کے ذریعے فرمانِ مبارکہ نازل فرماتے ہیں۔ وہ طویل واقعہ اختصار کے ساتھ سوال میں لکھا گیا ہے۔محترم مفتی صاحب اس واقعے کی تحقیق مطلوب ہے کیوں کہ لوگ بہت اہتمام کے ساتھ اسے ارسال کر رہے ہیں۔ (المستفتی : حافظ مجتبی، مالیگاؤں) ------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : سوال نامہ میں جس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ مکمل درج ذیل تفصیلات کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے۔ ایک  مرتبہ نبی کریم ﷺ اور...

بسی کی طرز پر ایک عمرہ اسکیم کا حکم

سوال : محترم جناب مفتی صاحب ! سوال یہ ہے کہ ٹور والے اگر کچھ ممبر جمع کرکے ہر ہفتہ یا مہینہ کچھ رقم بسی طرز پر پیسہ جمع کر کے ہر ہفتہ یا ہر مہینہ قرعہ اندازی کرکے اک شخص کو عمرہ پر بھیجیں گے اور اس کے بعد اس شخص کو آگے پیسہ بھرنا نہیں ہوگا، اور جس کا نمبر نہیں آئے گا اس کو اخیر تک بھرنا ہوگا۔ تو کیا یہ اسکیم شرعاً جائز ہے؟ (المستفتی : الطاف احمد، مالیگاؤں) ------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : صورتِ مسئولہ میں قرعہ ڈال کر جس شخص کا نمبر آئے اور اس کی بقیہ قسطیں معاف کردی جائے تو یہ معاملہ شرعاً جائز نہیں ہے، یہ قمار اور جوئے میں داخل ہے۔ اس لئے کہ یہاں عمرہ پر بھیجنے کی شرط قرعہ میں نام نکلنا ہے، یعنی ثمن (قیمت) مجہول ہے، نیز قسطوں کی ادائیگی کی مدت بھی متعین نہیں کہ کتنی رقم بھرنی ہوگی؟  کب تک بھرنی ہوگی؟ اسکا بھی علم نہیں ہے، لہٰذا یہ معاملہ غیر یقینی اور غیرمتعین ہے، شرعاً یہی جوا ہے، جس سے بچنا ضروری ہے۔ اور اگر لاعلمی میں کسی نے اس اسکیم میں حصہ لے لیا ہوتو اس کے لیے عمرہ کے اخراجات کی پوری رقم ادا کرنا ضروری ہوگا۔   ثم عرفوہ ...

آخر علماء کریں، تو کریں کیا؟

✍️ مفتی محمد عامر عثمانی ملی      (امام وخطیب مسجدکوہِ نور ) قارئین کرام ! شہری حالات کا علم رکھنے والے ہر شخص کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ شہر عزیز مالیگاؤں میں دن بدن نئی نئی برائیاں بڑھتی جارہی ہیں، اور ان برائیوں کو روکنے کی ذمہ داری تو ویسے ہر شخص کی ہے، یہ کام صرف علماء کرام کے کرنے کا نہیں ہے۔ لیکن شہر کے چند علماء کرام جن میں سرفہرست حضرت مولانا محمد عمرین صاحب محفوظ رحمانی (سیکرٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ) ہیں اور ان کے رفقاء نوجوان علماء کرام ہیں جو ہر منکرات اور برائیوں پر لکھتے اور بولتے ہیں، اور وقت پڑتا ہے تو ان کے ساتھ آگے بڑھ کر بھی کچھ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ فی الحال ایک بیوٹی اکیڈمی معاملے میں انہیں علماء کرام نے براہ راست اکیڈمی پہنچ کر اصلاح کی کوشش کی، جس کی شہریان کی طرف سے بڑی سراہنا کی گئی اور ان شاءاللہ اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ لیکن ایک بیماری جو شہر میں چند سالوں سے عام ہوتی جارہی ہے کہ جہاں علماء کرام نے کسی برائی پر نکیر کی تو کوئی بھی ایرا غیرا اٹھتا ہے اور بے سوچے سمجھے سوشل میڈیا پر لکھ دیتا ہے کہ آپ کو فلاں کی فلاں برائی کیوں نہ...

عذابِ قبر روح یا جسم کو؟

سوال : مفتی صاحب جیسا کہ ہمارا ایمان ہے کہ میت کو دفنانے کے بعد جب سب اپنے گھروں کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں اسکے بعد قبر میں روح کو میت کے جسم میں واپس ڈال دیا جاتا ہے  سوال و جواب کے بعد جیسے اعمال ہوتا ویسے فیصلے ہوتے نیک لوگوں کیلئے جنت کی کھڑکیاں کھول دی جاتی ہے اور بد اعمال لوگوں کیلئے قبر کا عزاب مسلط ہوجاتا ہے۔  مفتی صاحب میرا آپ سے سوال ہے کہ بداعمالیوں کی وجہ سے جو عذاب قبر میں ہوتا ہے وہ میت کے جسم پہ ہوتا ہے یا روح پر ہوتا ہے؟ (المستفتی : محمد مصطفی، مالیگاؤں) ------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : کفار ومشرکین اور بعض گناہ گاروں کو قبر میں عذاب ہوگا یہ بات قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : اَلنَّارُیُعْرَضُوْنَ عَلَیْها غُدُوًّا وَّعَشِیًّا وَّیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوْا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَاب۔ (سورۃ المؤمن : ٤٦) ترجمہ : وہ لوگ (برزخ میں) صبح اور شام آگ کے سامنے لائے جاتے ہیں، اور جس روز قیامت قائم ہوگی (حکم ہوگا) فرعون والوں کو (مع فرعون کے) نہایت سخت آگ میں داخل کرو۔ اس آیت میں فرعون او...

بدھ کے دن ظہر و عصر کے درمیان قبولیت دعا؟

سوال : محترم مفتی صاحب ! کیا بدھ کے دن ظہر اور عصر کے درمیان دعا کی قبولیت کا موقع ہے؟ اس سلسلے میں کوئی حدیث ہے؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں اور عنداللہ ماجور ہوں۔ (المستفتی : رفیق احمد، مالیگاؤں) ------------------------------------  بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : بدھ کے دن ظہر اور عصر کے درمیان قبولیت دعا سے متعلق ایک روایت متعدد کتب احادیث میں ملتی ہے جو درج ذیل ہے : حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مسجد فتح میں تین دن مسلسل پیر منگل اور بدھ کو دعا مانگی وہ دعا بدھ کے دن دو نمازوں کے درمیان قبول ہوگئی اور نبی ﷺ کے روئے انور پر پھیلی ہوئی بشاشت محسوس ہونے لگی، اس کے بعد مجھے جب بھی کوئی بہت اہم کام پیش آیا میں نے اسی گھڑی کا انتخاب کر کے دعا مانگی تو مجھے اس میں قبولیت کے آثار نظر آئے۔  اس روایت کو ماہر فن علماء نے معتبر لکھا ہے، لہٰذا اس کا بیان کرنا اور اس پر عمل کرنا درست ہے۔ أنَّ النبيَّ ﷺ دَعا في مسجِدِ الفتحِ ثلاثًا يومَ الاثنينِ ويومَ الثلاثاءِ ويومَ الأربعاءِ فاسْتُجِيبَ لَهُ يَومَ الأربعاءِ بينَ الصلاتَيْنِ فَعُرِفَ البِشْرُ...

حضرت دحیہ کلبی کا اپنی بیٹی کو زندہ درگور کرنے کے واقعہ کی تحقیق

سوال : مفتی صاحب ! درج ذیل واقعہ کی تحقیق مطلوب ہے، اور کیا اس کو آگے بھیج سکتے ہیں؟ رہنمائی فرمائیں۔  حضرت *دحیہ قلبی* رضی اللہ عنہ نہایت خوبصورت تھے۔ تفسیر نگار لکھتے ہیں کہ آپ کا حسن اس قدر تھا کہ عرب کی عورتیں دروازوں کے پیچھے کھڑے ہوکر یعنی چھپ کر حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کرتی تھیں۔ لیکن اس وقت آپ مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ ایک دن سرورِ کونین تاجدارِ مدینہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر حضرت دحیہ قلبی پر پڑی۔ آپؐ نے حضرت دحیہ قلبی کے چہرہ کو دیکھا کہ اتنا حسین نوجوان ہے۔ آپ نے رات کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا مانگی؛ *"یا اللہ اتنا خوبصورت نوجوان بنایا ہے، اس کے دل میں اسلام کی محبت ڈال دے، اسے مسلمان کردے، اتنے حسین نوجوان کو جہنم سے بچالے۔"* رات کو آپ نے دعاء فرمائی، صبح حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔  حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ کہنے لگے؛ "اے اللہ کے رسول ! بتائیں آپؐ کیا احکام لےکر آئے ہیں؟" آپؐ نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ پھر توحید و رسالت ...

سانپ وغیرہ کو حضرت سلیمان کے عہد کی قسم دینا

سوال : ایک سوال ہے کہ عوام الناس میں یہ بات مشہور ہے کہ اگر کوئی موذی جانور نظر آئے تو اسے سلیمان علیہ السلام کی قسم دینے سے وہ بخموشی اپنی راہ لے لیتا ہے، مثلاً یہ کہہ دے کہ تجھے سلیمان علیہ السلام کی قسم ہے کہ تو کسی کو گزند نہ پہونچا، یا اس سے مماثل الفاظ کہنا، اور یہ بھی مشہور ہے کہ اس طرح وہ موذی جانور اپنی راہ لے لیتا ہے، تو اسکی شرعی حیثیت کیا ہے اور یہ طریقہ اختیار کرنا کیسا ہے؟ اور حقیقت میں مؤثر ہے یا نہیں؟ براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔ (المستفتی : عبداللہ، جلگاؤں) ------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : گھروں میں ملنے والے سانپوں سے متعلق ایک ہدایت احادیث مبارکہ میں وارد ہوئی ہے کہ پہلے اسے تین مرتبہ گھر سے نکلنے کا حکم دیا جائے گا کیونکہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ کسی جن نے سانپ کی شکل اختیار کرلی ہو۔ سنن ابوداؤد میں ہے : حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سانپوں کو جو گھروں میں رہتے ہیں مارنے سے منع فرمایا ہے، سوائے ان کے جن کی پشت پر ( کالی یا سفید) دو دھاریاں ہوتی ہیں اور جن کی دم نہیں ہوتی۔ ...

مفتی محمد اسماعیل صاحب قاسمی کے بیان "نکاح کے وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر سولہ سال تھی" کا جائزہ

✍️ مفتی محمد عامر عثمانی ملی      (امام وخطیب مسجد کوہ نور) قارئین کرام ! کل عشاء کے بعد علماء کرام کے ایک واٹس اپ گروپ میں مفتی محمد اسماعیل صاحب قاسمی (رکن شوریٰ دارالعلوم دیوبند) کے بیان کی ایک کلپ سننے میں آئی جس میں آپ فرما رہے ہیں کہ " حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ (نکاح کے وقت) ان کی عمر چھ سال تھی، ایک راوی ہیں ہشام ابن عروہ صرف ان کی روایت میں یہ بات آتی ہے۔ باقی جتنے راوی وہ سب یہ بتاتے ہیں کہ حضرت عائشہ کی عمر سولہ سال تھی، عربی میں سولہ کو سِتَّ عشر کہتے ہیں، کبھی ایسا ہوجاتا ہے کہ راوی بیان کرے ایک آدھ لفظ چھوٹ جاتا ہے، سِتَّ عشر میں سے عشر کا لفظ رہ گیا۔ سِتَّ باقی رہ گیا، جس کی وجہ سے لوگ کہنے لگ چھ سال کی عمر۔" مفتی اسماعیل صاحب کا یہ بیان سنتے ہی مجھے حیرت کا بڑا جھٹکا لگا کہ اتنی سنگین اور بڑی غلطی آپ کیسے کرسکتے ہیں؟ چنانچہ میں نے ان کا مکمل بیان جو آپ نے اس سال عیدالاضحیٰ کے موقع پر لشکر والی عیدگاہ پر ہزاروں کے مجمع میں کیا تھا دیکھا تاکہ سمجھ لوں کہ آگے آپ کوئی مزید وضاحت تو نہیں کررہے ہیں۔ لیکن بیان میں بھی اس کی کوئی و...