*رافضیوں کے جنازے میں شرکت کا حکم* سوال : شیعہ حضرات کے جنازے میں شرکت کرنا کیسا ہے؟ ان کے انتقال پر انا للہ وانا الیہ راجعون کہہ سکتے ہیں؟ اس مسئلے سے متعلق تمام احکام بیان فرمادیں۔ (المستفتی : محمد اشفاق، مالیگاؤں) ------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : ہندوستان میں عموماً جتنے شیعہ رہتے ہیں وہ سب کفریہ اعمال و عقائد کے حامل ہیں، غالی اور تبرائی ہیں، جو حضرات شیخینؓ کو معاذ اللہ مرتد کہتے ہیں اورگالیاں دیتے ہیں اور حضرت عائشہ صدیقہؓ پر تہمت کے قائل ہیں، جس سے نص قطعی یعنی قرآن کریم کی بعض آیات کا انکار لازم آتا ہے اور یہ شیعہ اثناء عشریہ ہیں۔ چنانچہ ایسے شیعہ کے انتقال پر انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھنا درست نہیں ہے، بلکہ الحمدللہ کہا جائے کہ اس کے کفر اور عقائد باطلہ سے اللہ تعالیٰ نے زمین کو پاک فرمادیا یا پھر خاموش رہے اور اپنی موت کو یاد کرے۔ نہ ہی اس کے لیے مغفرت کی دعا کرنا جائز ہے، اسی طرح اس کے جنازہ کو کندھا دینے، نماز پڑھنے اور تجہیز و تکفین میں شرکت کی بھی اجازت نہیں ہے، البتہ اس کے اہل خانہ کو تسلی و دلا...